اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک فضائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر کے ساتھی اصغر حجازی کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے اصغر حجازی آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے چیف آس اسٹاف، اہم ترین کمانڈر، سپریم لیڈر کے نہایت قریبی ساتھی اور بااثر ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔
اصغر حجازی ایران کی طاقتور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں اہم کردار رکھتے ہیں اور انہیں طویل عرصے سے سپریم لیڈر کے قریبی مشیروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا نام ایران کے حساس سیکیورٹی اور انٹیلی جنس امور سے بھی جوڑا جاتا رہا ہے۔
تاحال ایرانی حکام نے اب تک اصغر حجازی کی اسرایلی حملے میں زخمی یا شہید ہوجانے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس تازہ حملے کے نتائج اور نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل کے ایک زیر زمین کمپاؤنڈ پر حملے میں اہم سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کرنے والے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای اہل خانہ، وزیر دفاع، آرمی چیف، مشیر قومی سلامتی اور پاسداران انقلاب کے سربراہ سمیت شہید ہوگئے تھے۔