وہ کبھی ماں، کبھی بہن، کبھی بیٹی کی صورت میں انسان کی زندگی میں آتی ہے۔ کبھی ماں بن کر ملک و قوم کی آزادی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تو کبھی بہن بن کر بھائی کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے، اور بیٹی بن کر قوم کا فخر بڑھاتی ہے۔ اگر کہا جائے کہ حوا کی بیٹی معاشرے کی ترقی اور سنوار میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے تو یہ بات بے جا نہ ہوگی۔
آج دنیا بھر میں خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے عالمی یوم خواتین منایا جارہا ہے، جس کا مقصد خواتین کے حقوق، مساوات، اور سماجی، اقتصادی، ثقافتی و سیاسی کامیابیوں کو اجاگر کرنا ہے۔
یہ دن نہ صرف خواتین کی محنت اور کارناموں کو سراہنے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ مرد و خواتین کے درمیان برابری کے فروغ اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
تاریخی دستاویزات بتاتی ہیں کہ خواتین کے حق رائے دہی کی عالمی تحریک سے متاثر ہوکر، عالمی یوم خواتین کی ابتدا بیسویں ویں صدی کے اوائل میں شمالی امریکا اور یورپ میں مزدور تحریکوں کے پس منظر میں ہوئی۔ ابتدائی طور پر یہ دن 28 فروری 1909 کو نیویارک شہر میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکا کے زیر اہتمام منایا گیا، جسے ’’خواتین کا دن‘‘ کہا گیا۔ اس تحریک نے 1910 میں بین الاقوامی سوشلسٹ خواتین کی کانفرنس میں جرمن مندوبین کو یہ تجویز دینے کی ترغیب دی کہ ہر سال خواتین کے لیے ایک خصوصی دن منایا جائے۔
اگلے سال یورپ کے مختلف ممالک میں اس دن کو پہلی بار عالمی یوم خواتین کے طور پر منایا گیا۔ 1917 میں سوویت روس میں خواتین کو حق رائے دہی ملنے کے بعد، اس دن کو 8 مارچ کو قومی تعطیل کے طور پر منایا جانے لگا اور بعد میں یہ تاریخ سوشلسٹ تحریک اور کمیونسٹ ممالک میں بھی اپنائی گئی۔ 1977 میں اقوام متحدہ نے اسے سرکاری طور پر تسلیم کیا اور اس کے بعد یہ دن ایک عالمی مرکزی دھارے کی تعطیل بن گیا، جو خواتین کے حقوق اور مساوات کے عالمی ایجنڈے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ واضح ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں خواتین نے معاشرتی ترقی اور تبدیلی میں بنیادی کردار ادا کیا، لیکن افسوس کہ ہم نے قدرت کے اس عظیم تحفے ماں، بہن اور بیٹی، کی قربانیوں کو نظر انداز کیا اور ان پر ایسے مظالم ڈھائے کہ انسانیت بھی شرما جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر تین میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے، اور ایک رپورٹ کے مطابق 840 ملین سے زائد خواتین اپنی زندگی میں شریکِ حیات یا کسی اور شخص کے ہاتھوں جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کر چکی ہیں۔
اس کے علاوہ خواتین کو شریکِ حیات یا خاندان کے افراد کے ہاتھوں قتل کیے جانے کے واقعات بھی بدستور جاری ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں تقریباً 51,100 خواتین کو ان کے شریکِ حیات یا خاندان کے افراد نے قتل کر دیا، یعنی دنیا میں اوسطاً ہر 10 منٹ میں ایک عورت قتل ہوتی ہے۔ اسی طرح جنسی ہراسانی بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جو کام کی جگہوں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر عام ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق 263 ملین خواتین (تقریباً 8 فیصد) اپنی زندگی میں کسی غیر شریک شخص کی جانب سے جنسی تشدد کا سامنا کر چکی ہیں۔
ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ خواتین کو آن لائن ہراسانی کا بھی سامنا ہے۔ ایک عالمی رپورٹ کے مطابق 16 سے 58 فیصد خواتین کسی نہ کسی شکل میں آن لائن یا ڈیجیٹل تشدد کا شکار ہوتی ہیں، جس میں دھمکیاں، کردار کشی اور تصاویر کا غلط استعمال شامل ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے کئی خطوں میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم اجرت ملتی ہے، زمین یا جائیداد کے حقوق محدود ہوتے ہیں اور فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی نمائندگی بھی کم ہے۔ جنگی علاقوں میں صورتحال مزید تشویشناک ہو جاتی ہے، جہاں اندازاً 70 فیصد خواتین صنفی بنیاد پر تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔
اگر پاکستان کی بات کی جائے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آج بھی خواتین کے استحصال کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ معاشرے کے بعض حصوں میں خواتین کو اب بھی فرسودہ رسموں جیسے کاروکاری اور ونی کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، جبکہ کئی واقعات میں انہیں غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک میں ہر سال سیکڑوں خواتین اس طرح کے جرائم کا شکار ہوتی ہیں۔ 2022 میں پاکستان بھر میں غیرت کے نام پر قتل کے 520 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 323 خواتین شامل تھیں۔ اسی طرح 2024 میں کم از کم 405 افراد کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا جن میں اکثریت خواتین کی تھی۔ بعض دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ تعداد 547 تک بھی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ معاشرتی دباؤ اور خوف کے باعث بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
ماہرین کے مطابق ایسے قتل عموماً خاندان کے مرد افراد جیسے شوہر، باپ، بھائی یا دیگر قریبی رشتہ دار کرتے ہیں۔ ان واقعات کی وجوہات میں عموماً پسند کی شادی، جبری شادی سے انکار، موبائل فون یا سوشل میڈیا کا استعمال، یا خاندان کی روایتی اقدار سے ہٹ کر فیصلے کرنا شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات بھی ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق 2023 میں پاکستان میں 5,400 سے زائد ریپ کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
پاکستان میں خواتین کی تعلیم کی صورتحال آج بھی تشویشناک ہے۔ تازہ ترین مردم شماری کے مطابق ملک میں خواتین کی مجموعی خواندگی کی شرح تقریباً 52.8 فیصد ہے، مگر صوبوں کے درمیان اس میں واضح تفاوت پایا جاتا ہے۔ بلوچستان میں خواتین کی خواندگی صرف 32.8 فیصد، خیبر پختونخوا میں 37.15 فیصد، سندھ میں تقریباً 50.21 فیصد جبکہ پنجاب میں 60.19 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں خواتین کی تعلیمی صورتحال دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ اس کے پیچھے بڑی وجوہات میں تعلیمی سہولیات کی کمی، معاشی مشکلات اور بعض علاقوں میں موجود سماجی روایات شامل ہیں۔
مزید برآں، ملک میں خواتین کو تعلیم سے محروم کرنا صرف ایک مسئلہ نہیں، بلکہ کم عمری میں شادی بھی ان کے حقوق، خواب اور مستقبل پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ جس عمر میں بچیوں کو کھیلنے، تعلیم حاصل کرنے اور اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، اسی عمر میں بعض علاقوں میں ان کی شادیاں کر دی جاتی ہیں۔ یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تقریباً 18 فیصد لڑکیاں 18 سال کی عمر سے پہلے شادی کر لیتی ہیں، جبکہ تقریباً 4 فیصد لڑکیوں کی شادی 15 سال کی عمر سے قبل ہی ہو جاتی ہے۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد خواتین ایسی ہیں جن کی شادی کم عمری میں ہوئی۔
حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے کم از کم شادی کی عمر 18 سال مقرر کرنے جیسے اقدامات کر رہی ہے، تاہم بعض مذہبی حلقوں کی جانب سے اس پر شدید ردعمل بھی سامنے آتا ہے، جس کی وجہ سے اس مسئلے کا حل ابھی تک مکمل طور پر ممکن نہیں ہو سکا۔
ان تمام مسائل کے ساتھ ایک اور معاملہ ہر سال عورت مارچ کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ اس مارچ کے دوران بعض خواتین کی جانب سے ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسے متنازع سمجھے جانے والے نعروں والے پوسٹرز اٹھائے جاتے ہیں، جس کے باعث اس مارچ کو معاشرے کے مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگرچہ یہ مارچ خواتین کے حقوق اور آزادی کے لیے نکالا جاتا ہے، تاہم اس میں استعمال ہونے والے بعض نعروں اور اندازِ احتجاج کی وجہ سے یہ بحث پیدا ہو جاتی ہے کہ آیا یہ طرزِ احتجاج واقعی خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے میں مددگار ہے یا اس سے معاشرے میں مزید تقسیم پیدا ہو رہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بحیثیت قوم ہم خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر آواز بلند کریں اور اس حوالے سے مختلف سیمینارز اور آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے۔ ان پروگرامز میں خواتین کو نہ صرف ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کیا جائے بلکہ انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ اگر کوئی ان کے حقوق سلب کرنے کی کوشش کرے تو وہ قانونی چارہ جوئی کے لیے کس ادارے سے اور کس طریقے سے مدد حاصل کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ ملک میں خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور ایسے قوانین اور پالیسیوں کو مضبوط بنائے جو خواتین کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ تاکہ ہماری خواتین، جو کسی بھی قوم کی آئندہ نسل کی تربیت اور پرورش میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، بااعتماد اور محفوظ ماحول میں معاشرے کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔