متحدہ عرب امارات میں رمضان المبارک کا مہینہ روایتی انداز میں مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے باوجود اس کہ ملک پر جنگ کے گھمبیر سائے منڈلا رہے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق شارجہ اکیڈمی برائے فلکیات، خلائی علوم اور ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ بدھ، 18 مارچ یعنی رمضان کا 29 ویں دن چاند نظر آنے کا امکان نہیں ہے کا کیونکہ مغرب کے افق پر چاند سورج غروب ہونے سے پہلے ہی غائب ہو جائے گا۔
نئے چاند کا فلکیاتی لحاق جمعرات صبح 4 بج کر 24 منٹ پر ہوگا اور شام تک چاند تقریباً 14 گھنٹے اور 6 منٹ پرانا ہوگا جبکہ سورج سے زاویائی فاصلہ 6.5 ڈگری اور مغربی افق پر ارتفاع چھ ڈگری کے قریب ہوگا۔
شارجہ اکیڈمی کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں چاند دیکھنا انتہائی مشکل ہوگا اور صرف جدید تکنیکی طریقوں کے ذریعے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ عام نظر سے اس کا مشاہدہ ممکن نہیں ہے۔
اس طرح رمضان المبارک 1447 ہجری کا مہینہ پورے 30 دن کا ہوگا۔ جس کے بعد یکم شوال کے آغاز کے ساتھ ہی عید الفطر شایان شان طریقے سے منائی جائے گی۔
شارجہ اکیڈمی نے پیش گوئی کی ہے کہ 29 رمضان کو چاند نظر نہ آنے کے امکان کے باعث متحدہ عرب امارات میں عید الفطر بروز جمعہ بتاریخ 20 مارچ 2026 کو ہوگی۔ جمعرات، 19 مارچ کو رمضان مکمل ہوگا اور جمعہ، 20 مارچ سے شوال کے مہینے کی ابتدا ہوگی۔
البتہ شارجہ اکیڈمی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بعض عرب اور اسلامی ممالک میں جہاں فلکیاتی اور جغرافیائی حالات بہتر ہیں چاند کا نظارہ ممکن ہو سکتا ہے۔
چند ممالک جو صرف آنکھ یا دوربین سے چاند دیکھنے پر انحصار کرتے ہیں، وہ شوال کے آغاز کو اپنی مقامی مشاہدات کی بنیاد پر ہفتہ، 21 مارچ کو منانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔