مشرقِ وسطیٰ کی سیاست عالمی طاقتوں کے مفادات اور انسانی حقوق کے سوالات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
خاص طور پر ایران کا معاملہ نہایت پیچیدہ ہے جہاں ایک طرف داخلی طور پر صنفی امتیاز اور خواتین پر عائد پابندیاں زیرِ بحث رہتی ہیں اور دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی نے خطے کو مسلسل عدم استحکام کا شکار رکھا ہے۔
ان تمام پہلوؤں کو جذبات سے ہٹ کر قانونی اخلاقی اور انسانی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ایران میں خواتین کے حقوق کا مسئلہ کئی دہائیوں سے عالمی سطح پر موضوعِ بحث رہا ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد جب آیت اللہ خمینی کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہوئی تو ریاستی ڈھانچے میں نئے قوانین کو بنیادی حیثیت دی گئی۔
ان قوانین کا سب سے نمایاں اثر خواتین کی سماجی اور ذاتی زندگی پر پڑا۔ حجاب کو لازمی قرار دیا گیا اور عوامی مقامات پر اس کی خلاف ورزی پر جرمانہ ،گرفتاری یا قید کی سزا مقرر کی گئی۔ یہ قوانین نہ صرف ایران کے اندر بلکہ عالمی برادری میں بھی شدید تنقید کا باعث بنے۔
گزشتہ چند برسوں میں حجاب قوانین کے نفاذ کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔ اخلاقی پولیس کی کارروائیاں، خواتین کی گرفتاریوں اور عدالتی سزاؤں کی خبریں عالمی میڈیا میں نمایاں رہیں۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ لباس کے انتخاب کو جرم قرار دینا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جب کہ ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قوانین ملک کے آئینی اور مذہبی اصولوں کا حصہ ہیں۔
یہ تضاد ایران کے اندر ایک مسلسل سماجی کشمکش کو جنم دیتا رہا ہے جہاں نوجوان نسل خاص طور پر خواتین زیادہ آزادی اور خود مختاری کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔
ایرانی قانونی نظام میں کم عمری کی شادی کا مسئلہ بھی ایک اہم موضوع ہے۔ بعض حالات میں عدالتی اجازت سے کم عمر لڑکیوں کی شادی ممکن ہے جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرتی ہیں۔
ان کے مطابق یہ عمل بچیوں کی تعلیم، صحت اور نفسیاتی نشوونما پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ دوسری جانب قدامت پسند حلقے اسے جائز قرار دیتے ہیں۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ جدید دور میں بچیوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے عالمی معیار سخت ہوچکے ہیں اور ایسے قوانین پر نظرِ ثانی کی ضرورت پر ایران کے اندر بھی بحث جاری رہتی ہے۔
ایران کی داخلی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ اس کی خارجہ پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ اس کی دشمنی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
ایران نے فلسطینی کاز کی کھل کر حمایت کی ہے اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ اس تناظر میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بیاناتی اور عملی کشیدگی مسلسل بڑھتی رہی ہے۔
ایران خود کو فلسطینیوں کا حامی قرار دیتا ہے جب کہ اسرائیل ایران پر خطے میں عسکری مداخلت اور مسلح گروہوں کی حمایت کا الزام لگاتا ہے۔
امریکا کا کردار بھی اس خطے میں نہایت اہم ہے۔ امریکا اور ایران کے تعلقات 1979 کے بعد سے کشیدہ ہیں۔ اقتصادی پابندیاں سفارتی تناؤ اور فوجی دھمکیاں اس تعلق کا حصہ رہے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی خود مختار ریاست پر بلاجواز حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی تصورکیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کا منشور واضح طور پر ریاستی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیتا ہے۔
اس اصول کے تحت کوئی بھی ملک خواہ وہ کتنا ہی طاقتورکیوں نہ ہو، کسی دوسرے ملک پر یکطرفہ حملے کا اخلاقی یا قانونی جواز نہیں رکھتا، سوائے اس کے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری یا واضح دفاعی ضرورت موجود ہو۔
28 فروری کو اسرائیل نے جس بے رحمی سے ایران کے شہر میناب میں اسکول پہ حملہ کیا، اس میں 165 بچیاں جاں بحق ہوئیں۔ اس المیے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
بچوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ جنگی حالات میں بھی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا عالمی قوانین کا بنیادی اصول ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ خطے میں عسکری حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قتل انتہائی افسوسناک ہے۔ ان سے نظریاتی اختلاف اپنی جگہ مگر اس طرح کسی ملک میں گھس کر وہاں کے سربراہ کو قتل کرنا کسی طور بھی درست نہیں اور اس کی حمایت کرنا یا اسے جائز قرار دینا نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ اخلاقی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
سیاسی اختلافات اور نظریاتی تنازعات کا حل مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے نہ کہ ٹارگٹ کلنگ یا تشدد کے ذریعے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ ایران کے اندر خود ایک متحرک طبقہ موجود ہے جہاں اصلاحات، آزادیِ اظہار اور خواتین کے حقوق کے لیے آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔
ایرانی خواتین نے تعلیم، سائنس، ادب اور فنون کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ پارلیمان، جامعات اور کاروباری شعبوں میں بھی موجود ہیں، اگرچہ انھیں متعدد قانونی اور سماجی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اس تضاد کو سمجھے بغیر ایران کی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی۔
عالمی برادری کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کرے اور دوسری طرف کسی ملک کی خود مختاری کو پامال نہ کرے۔
اقتصادی پابندیاں اکثر عام عوام کو متاثرکرتی ہیں جب کہ حکمران طبقہ نسبتاً محفوظ رہتا ہے۔ اسی طرح فوجی کارروائیاں پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی جنگوں، خانہ جنگیوں اور پراکسی تنازعات کا شکار ہے اور جنگ کی یہ فضا نہ صرف خطے کے لیے مہلک ہے بلکہ اس کے منفی اثرات پوری دنیا پر اثرانداز ہوں گے۔
ایران وہ واحد ملک ہے جس نے کھل کر امریکا اور اسرائیل کو للکارا ہے اور جو غزہ کے لیے مستقل آواز اٹھاتا رہا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر دنیا بھر میں افسوس کا اظہارکیا گیا، پاکستان میں بھی عوام نے شدید غم اور غصے کا اظہارکیا ہے، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب آپ ظلم کے خلاف کھڑے ہوں اور جان کی پروا بھی نہ کریں تو لوگ آپ کی تعظیم کرتے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل سمیت کسی بھی ملک کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہر حال میں کرنی چاہیے۔ ایران کو بھی اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔
امن انصاف اور انسانی وقار وہ مشترکہ اقدار ہیں جن پرکسی بھی پائیدار حل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ یہی راستہ خطے کو مسلسل تصادم سے نکال کر استحکام اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔