وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے جواب میں بڑا اعلان

عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے حکمرانوں کو اپنی شاہ خرچیاں کم کرنی چاہئیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی


وصال یوسفزئی March 08, 2026
فوٹو: ایکسپریس نیوز

پشاور:

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے بعد بی آر ٹی ک کرایوں میں اضافہ نہ کرنے اور صوبے میں رجسٹرڈ موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کا بڑا اعلان کردیا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کو یکسر مسترد کیا اور کہا کہ وہ غریب عوام پر بوجھ بننے والے کسی بھی فیصلے یا پالیسی کی قطعاً حمایت نہیں کریں گے۔

وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر بی آر ٹی کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جائے گا تاکہ عوام کو براہ راست مہنگائی سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر بی آر ٹی میں خواتین کے لیے پنک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ بی آر ٹی کے لیے مزید 140 بسیں خریدی جائیں گی، جن میں سے 52 تیار ہو چکی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے کا اضافہ عوام پر ظلم ہے، صوبائی حکومت اس فیصلے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔

سہیل آفریدی نے حکمران جماعتوں کی پالیسیوں کو دوغلی پالیسیاں قرار دیا اور اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب پیٹرول میں 12 روپے اضافہ ہوتا تھا تو یہی جماعتیں اسے پیٹرول بم کہتی تھیں، آج انہی جماعتوں پر مشتمل مسلط حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے اضافہ کر دیا اور کوئی ندامت تک محسوس نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی رپورٹ کے مطابق 5300 ارب روپے کی کرپشن کے انکشافات کے بعد عوام پر بوجھ ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں، ایسے حالات میں تو وفاقی حکومت کو اخراجات کم کر کے عوام کو ریلیف دینا چاہیے تھا مگر وہ الٹا عوام پر بوجھ ڈال رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے 12 ارب روپے کا لگژری طیارہ خریدنا غلط ترجیحات کی مثال ہے، بحران کے وقت لگژری اخراجات کے بجائے یہی وسائل عوام کو سبسڈی دینے پر خرچ ہونے چاہئیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اپنی جگہ، تاہم اصل مسئلہ قیمتوں میں اضافے کی مقدار اور حکومتی پالیسی ہے، وفاقی حکومت نے عالمی قیمتوں کو جواز بنا کر پیٹرولیم لیوی 85 روپے سے بڑھا کر 105 روپے فی لیٹر کر دی جبکہ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں اسی مد میں 822 ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں اور سال کے آخر تک یہ رقم تقریباً 1700 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر حکومت لیوی کم کر دیتی تو عوام کو براہ راست ریلیف مل سکتا تھا، اسی لیے خیبرپختونخوا کی حکومت نے موٹرسائیکل سواروں کے لیے سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے جس سے تقریباً 14 سے 16 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے حکمرانوں کو اپنی شاہ خرچیاں کم کرنی چاہئیں۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ اور پیٹرولیم کا صوبوں سے مشاورت کرنا مثبت قدم ہے، عالمی حالات مزید خراب ہوئے تو پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کا خدشہ موجود ہے اور ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت وفاق کو تحریری تجاویز دے گی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم کسی حکومت کے نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ پاکستان ہم سب کا ہے۔

انہوں نے حکومت خیبرپختونخوا کے کفایت شعاری پر مبنی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے بیشتر اراکین مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود حکومت نے اپنی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا، اسی طرح صوبائی حکومت نے سرکاری خرچوں میں کمی کے لیے غیر ملکی سرکاری دوروں اور نئی گاڑیاں خریدنے پر مکمل پابندی لگا رکھی ہے۔

وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب کے دوران ہیلی کاپٹر حادثے کے باوجود عوامی ریلیف کو ترجیح دیتے ہوئے اب تک نیا ہیلی کاپٹر نہیں خریدا، عوام ہماری پہلی ترجیح ہیں، اس لیے عوام کے مفاد کے خلاف کسی بھی حکومتی پالیسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ کورونا کے دوران بھی عمران خان کی حکومت نے ملک کو مؤثر انداز میں سنبھالا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وڑن کے مطابق عوام کو ریلیف دینے پر یقین رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا نے پیٹرول پمپس کی نگرانی کے لیے خصوصی ڈیش بورڈ قائم کر دیا ہے جس کے ذریعے پمپس پر پیٹرول فراہمی اور ذخیرہ اندوزی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور پیٹرول مانیٹرنگ ڈیش بورڈ بنانے میں خیبرپختونخوا حکومت ملک میں سب سے آگے ہے۔

مقبول خبریں