اسلام آباد:
مشرق وسطیٰ میں جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان نے اہم اقدامات کرتے ہوئے سعودی عرب سے طویل المعیاد اقتصادی تعاون کے لیے رجوع کر لیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کو طویل مدتی اقتصادی تعاون کی 8 درخواستیں کر دیں جن میں موجودہ 5ارب ڈالر کے ذخائر کو 10 سالہ طویل مدتی سہولت میں تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی حکومت سے ڈیفرڈ ادائیگی کے تحت تیل کی سہولت کو 1.2 ارب ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر کرنے کی درخواست کی ہے۔
اس کے علاوہ اس کی مدت میں اضافہ کرنا، بیرون ملک پاکستانیوں کی رقوم 10 ارب ڈالر کی سکیورٹائزیشن کرنا اور دیگر امور شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے تحت تیسری جائزے کی تکمیل کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی جامع اقتصادی تعاون کے پیکج پر مذاکرات کر رہے تھے۔