امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے تیل کی ترسیل کے سب سے بڑی آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کردیا جس سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں جو گزشتہ کئی برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 115 سے 118 ڈالر فی بیرل کے درمیان فروخت ہوتا رہا ہے جو کہ چند ہی دنوں میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہے۔
اس خوفناک صورت حال پر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ یہ تو معمولی اضافہ ہے تیل کی یہ بڑھتی قیمتیں امریکا اور دنیا کے امن و سلامتی کے سامنے بہت چھوٹی قیمت ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ مختصر مدت کے لیے ہے۔ ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے کے بعد قیمتیں دوبارہ کم ہو جائیں گی۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی جنگ کے سائے اب بھی منڈلا رہے ہیں۔ نئے منتخب کردہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے عہدہ سنبھالتے ہی ایران کے جوابی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
جس سے اس جنگ کے طول پکڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جب کہ متعدد خلیجی ممالک میں تیل و گیس کی پیداوار اور ترسیل کے راستے بھی بند ہیں۔ ایسے میں قیمتوں میں فوری کمی کا امکان معدوم ہوتا جا رہا ہے۔