لاہور:
پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد فی لیٹر قیمت 322 روپے سے زیادہ ہو گئی جس کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول کی اصل لاگت کتنی ہے اورحکومت کو اس میں سے کتنی آمدن ہوتی ہے.
حکومت کے ٹیکس اور لیوی تقریباً 95 روپے فی لیٹر،آئل مارکیٹنگ کمپنی مارجن تقریباً 7.87 روپے،پٹرول پمپ ڈیلر کمیشن تقریباً 8.64 روپے،ترسیلی اخراجات،ان لینڈ فریٹ مارجن تقریباً 8 سے 10 روپے بنتا ہے.
حکومت کو ایک لیٹر پیٹرول سے حاصل ہونے والی آمدن درج ذیل مدات پر مشتمل cہوتی ہے جس میں پٹرولیم لیوی تقریباً 78 روپے فی لٹر،کسٹم ڈیوٹی تقریباً 14 روپے فی لیٹر،کلائمیٹ یا کاربن لیوی تقریباً 2.5 روپے فی لیٹر ہے، یوں ایک لٹر پیٹرول سے حکومت کو تقریباً 95 روپے حاصل ہوتے ہیں.
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی فروخت تقریباً 21 ہزار میٹرک ٹن روزانہ ہے،اس حساب سے ملک میں پٹرول کی یومیہ کھپت تقریباً،27 ملین کے حساب سے 95 روپے اگر فی لیٹر وصول کی جائے تو یہ مالیت روزانہ 2 ارب 56 کروڑ روپے جبکہ سالانہ 930ارب روپے بنتی ہے۔