ایران کے دارالحکومت تہران کا آسمان مسلسل دوسرے روز بھی سیاہ دھوئیں سے ڈھکا ہوا ہے جہاں تیل کی تنصیبات پر لگنے والی آگ کے باعث فضا آلودہ ہو چکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ زہریلا دھواں اب مغربی ہواوٴں کے ذریعے پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے اٹھنے والے آلودہ ذرات بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مغربی اضلاع تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے کوئٹہ، چمن، ڑوب، چاغی، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں فضائی معیار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ مغربی ہوائیں ان زہریلے ذرات، خصوصاً PM2.5 کو ہزاروں کلومیٹر تک منتقل کر سکتی ہیں۔ بلوچستان کی خشک فضا اور دھول بھری ہوائیں ان ذرات کو مزید پھیلانے کا باعث بن سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں کالی بارش کا امکان کم ہے، تاہم فضائی کوالٹی انڈیکس (AQI) میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے فضائی آلودگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ کوئٹہ کے رہائشیوں کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک قرار دی جا رہی ہے کیونکہ شہر پہلے ہی فضائی آلودگی کے مسائل سے دوچار ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بچے، بزرگ، دمہ کے مریض اور حاملہ خواتین اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ سانس کی بیماریاں، آنکھوں میں جلن اور دل کے امراض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔