آج کا انسان تاریخ کے اس عجیب وغریب موڑ پر کھڑا ہے جہاں وہ بظاہر پوری دنیا سے منسلک رہتا ہے، لیکن جذباتی طور پر وہ بظاہر دنیا کا سب سے تنہا مسافر بن چکا ہے۔
ہم ایک ایسی ورچوئل بستی کے باسی بن چکے ہیں جہاں فیس بک پر دوستوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے، انسٹاگرام پر لائیکس کی برسات ہوتی ہے اور واٹس ایپ پر نوٹیفیکشنز کا شور رہتا ہے، مگر جب بھی دل بوجھل ہوتا ہے تو کوئی کندھا میسر نہیں ہوتا جس پر سر رکھ کر دو آنسو بہائے جا سکیں، جس سے دل بے قرار کو قرار میسر ہوسکے۔
آپ کسی بھی جگہ جائے چاہے آپ کسی کا مہمان بنیں یا میزبان، آپ کسی فیملی ایونٹ، شادی وغیرہ میں جائیں یا کسی عوامی مقام میں جائیں، دوستوں کے ساتھ کسی کیفے میں جائیں یا کہیں سیر وتفریح کےلیے، آپ کے ساتھ جانے والا ہر شخص اپنی نظریں موبائل فون پر جمائے وقت گزارے گا۔ ان کا جسم تو بظاہر وہاں موجود ہوتا ہے مگر ان کی روحیں ڈیجیٹل دنیا کے کسی ویران اور نامعلوم جزیروں میں بھٹک رہی ہوتی ہیں۔
ہم ایک گھر ایک چھت تلے رہتے ہیں، ساتھ والے کمرے میں موجود ماں، باپ، بیٹا یا بہن، بھائی سے ہم فون پر یا میسیج پر بات کرتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ ہم ان کے پاس جا کر یا انہیں اپنے پاس بلا کر بات کرسکیں۔ ہم نے میسجز کو گفتگو کا اور ایموجیز (Emojis) کو احساسات کا متبادل سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ انسانی احساسات اور ردعمل کا کوئی ڈیجیٹل متبادل ایجاد نہیں ہوسکا۔
اگر یوں کہا جائے کہ ہم اپنوں میں بیٹھ کر بیگانوں کی تلاش میں رہتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ میسجز پر اور فون کال پر آپ جس موضوع پر بھی بات کریں، وہ شخص آپ کی بات اور احساسات کو فون یا میسیج پر اتنا نہیں سمجھ سکتا جتنا آپ ان سے روبرو بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ آج کل غلط فہمیاں یہیں سے جنم لیتی ہیں جب آپ اپنی بات سمجھا نہیں پاتے یا جن سے آپ بات کرتے ہیں وہ سمجھ نہیں پاتے۔ ہمیشہ کوشش کریں کوئی بھی مسئلہ ہو مل بیٹھ کر اس پر بات کریں۔ بعض اوقات آپ کے الفاظ کافی نہیں ہوتے مگر آپ کے چہرے کے تاثرات سمجھانے میں کافی حد تک مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
جدید تحقیق بھی اس خطرناک صورتحال کی تصدیق کرتی ہے کہ سوشل میڈیا کا بے جا استعمال تنہائی اور ڈپریشن میں 35 فیصد تک کا اضافہ کردیتا ہے۔ جبکہ عالمی ادارہ برائے صحت (WHO) نے سماجی تنہائی کو انسانی صحت کےلیے روزانہ 15 سگریٹ پینے جتنا نقصان دہ قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا نے ہمیں ایک ایسی نفسیاتی دوڑ میں جھونک دیا ہے جہاں ہر شخص دوسرے شخص سے زیادہ خوش، کامیاب اور خوبصورت نظر آنے کی کوشش میں مصروف نظر آتا ہے۔ دوسروں کی ایڈٹ شدہ زندگی اور فلٹر شدہ تصاویر کو دیکھ کر ہم اپنی سادہ اور حقیقی زندگی سے اکتا رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اب ہم خوشیاں منانے کے لیے نہیں بلکہ تصاویر پوسٹ کرنے کےلیے تقریبات سجاتے ہیں۔ اس مصنوعی دکھاوے کی زندگی نے ہماری حقیقی زندگی اور اصل پہچان کو ہم سے چھین کر ایک انجانے احساس کمتری اور ’’بے جا تنہائی‘‘ کے سپرد کیا ہے۔
مدعا یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی اچھی ہے یا بری؟ سوال یہ ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کے مالک ہیں یا غلام؟ یہ بیک وقت بہترین خادم بھی ہے مگر بدترین آقا بھی۔ یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہوگا، ہمیں اپنی زندگی کا کنٹرول واپس لینا ہوگا، ہمیں اپنے گھروں میں ایک ساتھ بیٹھنے اور ہنسی خوشی رہنے کی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا، ہمیں رشتوں کی اہمیت کو سمجھ کر وقت دینا ہوگا۔ اس سے پہلے کہ آپ کے رشتے محرومیت کا شکار ہو کر بکھر جائیں۔ رشتوں کی قدر ان کی زندگی میں کریں ورنہ ان کے گزر جانے کے بعد تصویریں کہاں کسی کی کمی پوری کرسکتی ہیں۔
یاد رکھیں! آپ کے ہزاروں سوشل میڈیا فالورز آپ کے دکھ کا مداوا نہیں کرسکتے۔ حقیقی سکون ان ہاتھوں میں ہے جنہیں آپ تھام سکتے ہیں، اور ان آنکھوں میں ہے جن میں دیکھ کر آپ بات کرسکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ اسمارٹ فون کے سگنلز ہمارے دلوں کے سگنلز ہمیشہ کےلیے منقطع کردیں، ہمیں اسکرین سے نظریں ہٹا کر اپنے برابر میں بیٹھے شخص کو دیکھنا ہوگا۔ اکیلے پن کا علاج انٹرنیٹ کی تیزرفتاری یا سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ ان رشتوں کی گرمجوشی اور ان کی موجودگی میں ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔