اشرافیہ کا نظام حکمرانی

پاکستان کا حکمرانی کا نظام عوامی مفادات کے تناظر میں اپنی اہمیت کھوچکا ہے


سلمان عابد March 11, 2026

پاکستان کا حکمرانی کا نظام عوامی مفادات کے تناظر میں اپنی اہمیت کھوچکا ہے ۔کیونکہ حکمرانی کی نظام کی بنیاد جہاں عوامی مفادات کے ساتھ ہی جڑی ہوتی ہے وہی نظام ریاست کے اندر اپنی سیاسی، سماجی،آئینی ،قانونی اور معاشی ساکھ بھی قائم کرتا ہے۔یہ نظام اور اس میں موجود حکمرانی کا طرز عمل طاقت ور طبقات کے مفادات کے گرد گھومتا ہے اور اسے حق حکمرانی میں ایک مخصو ص طبقہ پر مبنی طبقاتی حکمرانی کا نظام بھی کہا جاتا ہے۔

اس ملک کی حکمران اشرافیہ طاقت ور طبقات کی نمائندگی کرتی ہے اور جو بھی پالیسیاں یا قانون سازی یا عملی اقدامات کسی تناظر میں بھی سامنے آتی ہیں اس کے پیچھے طاقت ور طبقات کے باہمی مفادات کے کھیل کو نمایاں حیثیت حاصل ہوتی ہے۔اس طرز کے نظام کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں جو بھی حالات برے ہوتے ہیں یا جو بھی آفات یا حادثات سامنے آتے ہیں اس کا بوجھ طاقت ور طبقات کے مقابلے میں کمزور یا عام افراد پر ڈال دیا جاتا ہے۔یعنی اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ خود اپنے اوپر کسی بھی طرز کا بوجھ ڈالنے کے لیے تیار نہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک کے حکمرانی کے نظام میں ریاست،حکومت ،طاقت ور طبقات اور عام افراد کے درمیان سیاسی ومعاشی خلیج کا عمل بڑھتا جارہا ہے ۔

حالیہ امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پہلا بوجھ بھی اس حکومت یا طاقت ور اشرافیہ نے خود پر ڈالنے کی بجائے لوگوں پر پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کی صورت میں کیا ہے ۔حالانکہ حکومت کی جانب سے عوام کو بتایا گیا تھا کہ ابھی ہمارے پاس کئی ہفتوں کا تیل موجود ہے مگر اچانک رات کی تاریکی میں قیمتوں میں اضافہ کرکے اس ملک کی سیاسی اشرافیہ نے یہ ہی ظاہر کیا ہے کہ ان کے سامنے عوامی اور کمزور طبقات کے مفادات کی ترجیحات کی کتنی اہمیت ہے ۔

حکمران طبقات جس سیاسی ڈھٹائی سے قیمتوں میں اضافہ کا جواز پیش کررہے ہیں وہ کافی حد تک شرمناک ہے۔یعنی اس سیاسی اور حکمران اشرافیہ نے جنگ کو بنیاد بنا کر عملی طور پر لوگوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالا ہے اور خود اپنی تجوریاں بھری ہیں ۔وزیر اعظم سیاسی کفایت شعاری یا بچت کی باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر ان کے یہ خوش نما نعروں کی عملی کوئی حیثیت نہیں۔ان کی اپنی جماعت اور خاندان کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں جو مہنگا ترین جہاز اور جہاز کا مہنگا ترین عملہ سمیت صوبائی بیوروکریسی کے لیے مہنگی ترین گاڑیاں خریدی ہیں اس پر کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ہم جن حالات کی بنیاد پر معاشی بدحالی یا بحران کا شکار ہیں تو ایسے میں طاقت ور طبقات یا سیاسی اشرافیہ کی سیاسی عیاشیاں اور ان کا شاہانہ حکمرانی کا طرز عمل ہم دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں دیکھ سکتے ۔حکمران طبقات کی یہ ساری سیاسی عیاشیاں عوامی وسائل اور بجٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے اورہم انسانوں پر پیسہ خرچ کرنے یا ان کی ترقی پر پیسہ لگانے کی بجائے اپنی ذاتی تشہیر اور سیاسی عیاشیوں پر لگاتے ہیں ۔ہم صرف حکومت اور ریاستی سطح پر موجود افراد،اداروں اور اعلی عہدے داروں جو پروٹوکول کی بنیاد پر مراعات دے رہے ہیں کچھ اس کا ہی تجزیہ کرکے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ حکمرانی او رحکمرانوں کے طاقت ور نظام کی ہم کتنا بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔

کمزور لوگوں کو طاقت ور طبقات کے خلاف آواز اٹھانے یا ان کے سامنے اپنی بات کرنے کے لیے اداروں کی موجودگی ہوتی تھی اور لوگوں کو یہ یقین ہوتا تھا کہ ہمیں ان اداروں سے اپنے حقوق یا حق کے تناظر میں انصاف مل سکے گا۔لیکن اسی طاقت سیاسی اشرافیہ نے ایک مخصوص پالیسی کے تحت اداروں میں سیاسی مداخلتیں کرکے ان کو جہاں کمزور کردیا ہے وہیں یہ ادارے مفلوج بھی ہوگئے ہیں ۔لوگوں کا اداروں پر اعتماد کمزور ہوا ہے اور ان کولگتا ہے ادارے بھی عام افراد کے مقابلے میںطاقت ور افراد کے ساتھ کھڑے ہیں ۔گورننس کا نظام جس پر حکومتی سطح سے اربوں روپے لگائے جارہے ہیں مگر سب سے کمزور پہلو بھی گورننس کا نظام ہی ہے ۔یہ مسئلہ محض کسی ایک صوبہ تک محدود نہیں بلکہ ہم وفاق سے لے کر صوبوں اور صوبوں سے لے کر اضلاع اور اضلاع سے لے کر تحصیل یا محلوں اور گاوں کی سطح پر دیکھیں تو بنیاد ی حق حکمرانی کا نظام برے طریقے پامال کیا جارہا ہے ۔ترقی کے عمل ذمینی حقایق سے زیادہ اخبارات ، میڈیا یا ڈیجیٹل میڈیاکی سطح پر بڑے بڑے اشتہاری تشہیر کی سطح پر دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ہم اس وقت رمضان المبارک سے گزرہے ہیں ۔ہمیں لوگوں کی معاشی ترقی کے مقابلے میں ہر طرف یہ ہی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ملک میں خیرات کی بنیاد پر راشن کی تقسیم ،سحری اور افطاری کا مفت بندوبست،محلوں یا گلیوں یا بازاروں کی سطح پر قائم دستر خوان وہ بھی حکمرانوں کے ناموں کے ساتھ ہماری معاشی حیثیت کی اصل کہانی کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے ۔حقیقی حکمرانی کا نظام لوگوں کی معاشی حیثیت کو مضبوط بناتا ہے نہ لوگوں کو خیرات کے ماتحت کرکے ان کی سفید پوشی کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔میں ایسے کئی سفید پوش افراد کو جانتا ہوں جو اپنی عزت کے لیے حکومتی امدادی پروگراموں تک رسائی کرنے کی طرف رجوع نہیں کرتے اور بعض لوگوں کو تو جو امداد دی جاتی ہے اس پر حکمرانوں کی ذاتی تصاویر ہوتی ہیں جو خود غریب اور مجبور لوگوں کے ساتھ سنگین مذاق ہے ۔سوال یہ ہے اس حکمرانی کے نظام میں ہمارا حکمران طبقہ باعزت روزگار کیونکر پیدا نہیں کررہا اور کیوں ملک میں چھوٹی اور بڑی صنعتیں نہیں لگ رہی۔جب یہ سب کچھ نہیں ہوگا تو پھر لوگوں کی حقیقی معاشی حیثیت بھی بہتر نہیں ہوسکے گی۔

حکومت ہر دفعہ آئی ایم ایف کے سامنے یہ اعتراف کرتی ہے کہ وہ ملک میں مختلف نوعیت کی اصلاحات کی بنیاد پر نظام میں موجود خرابیوں کو درست کرے گی ۔لیکن عملا ہم آئی ایم ایف سے طے کردہ شرائط پر عملدرآمد نہیں کرتے اور خود آئی ایم ایف جیسے اداروں کا ہماری حکومتوں کے بارے میں جوابدہی کا نظام اتنا کمزور ہوتا ہے یا وہ سیاسی مصلحتوں کے تحت خاموش رہتے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ جب ہماری جیسی طاقت ور سیاسی حکمران اشرافیہ داخلی اور خارجی سطح پر کہیں بھی جوابدہ نہیں ہوگی تو ان کی اصلاح کا عمل کیسے سامنے آسکے گا۔جب تک آئی ایم ایف جیسے ادارے ہماری حکومتوں کی جوابدہی کے نظام کو موثر اور شفاف اور جوابدہی کی صورت میں مضبوط نہیں بنائیں گے ہمارے حکمرانوں کے طر ز عمل میں کوئی بڑی مثبت تبدیلی ممکن نہیں ہوگی ۔حکمران طبقات کا یہ سیاسی مشغلہ ہے کہ وہ اسلام آباد کی سطح پر بڑی بڑی گورننس کانفرنس یا فورمز کی صورت میں عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے اپنی رپورٹس اور پریزنٹیشن پیش کرتے ہیں جس میں سب اچھے یا بڑے بڑے دعووں کی رپورٹ ہوتی ہے ،مگر زمینی حقایق گورننس کے حوالے سے بہت کڑوے ہوتے ہیں۔ہم آج بھی گورننس کے نظام میں بدترین حالات کا شکار ہیں اور 18ویں ترمیم کے بعد بھی ہماری وفاقی اور صوبائی یا مقامی حکومتوں کی سطح پر کچھ بھی بہتری کے تناظر میں دیکھنے کو نہیں مل رہا اور اسی بنیاد پر ہماری بنیادی حقوق اور شہری افراد کی سہولتوں کے حوالے سے عالمی درجہ بندی واضح فرق ،تفریق اور خلیج دیکھنے کو ملتی ہے۔آئی ایم ایف پہلے ہی ہمیں انتباہ کرچکا ہے کہ اگر پاکستان نے سیاسی ،معاشی ،قانونی اور انتظامی بنیادوں پر فوری طور پر سخت گیر اصلاحات نہ کی تو ان کی سیاسی اور معاشی ترقی کے امکانات مزید محدود ہوجائیں گے۔

اصل مسئلہ نئی نسل کے لیے روزگار پیدا کرنا ہے مگر ہماری ترجیحات عملا اس وقت ملکی ترجیحات یا عوامی ترجیحات سے مختلف نظر آتی ہیں ۔ایسے لگتا ہے کہ اس ملک کی طاقت ور سیاسی اشرافیہ ایک طرف اور ملک کے عوام دوسری طرف کھڑے ہیں اور دونوں کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر اس ملک کے نظام کو اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ نہ اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور اس کھیل میں عام اور کمزور طبقات کے لیے سوائے سیاسی و معاشی سطح کے استحصال کے اور کچھ نہیں ہے۔یہ جو ہم نے سیاست اور جمہوریت کے نام پر سیاسی ادارے پارلیمنٹ کی سطح پر قائم کیے ہوئے ہیں یہ بھی طاقت ور اشرافیہ کے سیاسی کلب کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں ۔کیونکہ ہمارے سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ طاقت ور افراد کی اپنی سیاسی بیٹھکوں میں ہوتے ہیں جہاں کچھ لواور کچھ دو کی بنیاد پر اقتدار کی تقسیم کا کھیل سجایا جاتا ہے ۔اس لیے اس نظام کی بہتری کے لیے کوئی معمولی اصلاحات درکار نہیں ہیں ۔یہ جو حالات ہیں یہ لوگوں کے تناظر میں غیر معمولی ہیں اور ان کے اقدامات بھی غیر معمولی بنیادوں پر ہی ممکن ہوسکیں گے ۔لیکن یہ سب کچھ کیسے ہوگا اس پر غوروفکر کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں