کراچی:
بلوچ کالونی پل اور کریم آباد فرنیچر مارکیٹ کے قریب ٹینکر اور ٹریلر کی ٹکر سے دو سگے بھائیوں سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق عزیز آباد کے علاقے عائشہ منزل سے کریم آباد کی جانب آتے ہوئے فرنیچر مارکیٹ کے قریب ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار ایک شخص جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوگیا۔
جاں بحق و زخمی ہونے والے افراد کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ زخمی ہونے والا نوجوان بھی عباسی شہید اسپتال میں دوان علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 22 سالہ عاطف ولد محمود اور 20 سالہ تابش ولد محمود کے ناموں سے کی گئی۔ جاں بحق ہونے والے فیڈرل بی ایریا بلاک 16 امراض قلب اسپتال کے قریب کے رہائشی اور فرج ایئر کنڈیشن کا کام سیکھ رہے تھے۔
واقعے کے وقت ٹیلر سے عید کے کپڑے لینے جا رہے تھے جبکہ جاں بحق ہونے والے دونوں بھائی ہیں۔ پولیس کے مطابق حادثے کا ذمے دار ٹریلر کا ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
دونوں جاں بحق بھائیوں کے والد نے بتایا کہ میں سرکاری کالج میں گریڈ ٹو کا ملازم ہوں، بچے شاپنگ پر گئے تھے۔ حادثہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ بچوں کی میت آبائی علاقے لیکر جانا چاہتے ہیں لیکن مالی وسائل نہیں ہیں۔ پیسوں کا انتظام کرکے تدفین کریں گے اور تدفین کے بعد حادثہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے، میرے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
جاں بحق دو بھائیوں کی والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ ڈمپر والوں نے میرے دو لخت جگر چھین لیے، میرے بچے اسکول میں پڑھتے تھے اور تین سال سے اے سی فریج کا کام سیکھ رہے تھے۔ روزانہ 200 روپے کماتے تھے، عید کے کپڑے لینے ٹیلر کے پاس گئے تھے۔ حادثہ کے وقت اس کی چیب میں ٹیلر کی پرچی تھی۔
والدہ نے بتایا کہ حادثہ کی اطلاع ٹیلر کو سب سے پہلے ملی جس نے ہمیں اطلاع کی، میرے بچوں کو اس طرح ڈمپر والوں نے کچل دیا کہ ان کی بوٹی بوٹی ہوگئی۔ میں نے سلائی کرکے اپنے بچوں کو پالا، پڑھایا اور جوان کیا۔ ہمارا سب برباد ہوگیا۔ ماؤں سے ان کے بچے حادثات میں جدا ہو رہے ہیں، مجھے انصاف چاہیے۔
بچوں کی والدہ کا کہنا تھا کہ میرے پاس بچوں کی تدفین کے لیے پیسے بھی نہیں، ہمارا خاندان حافظ آباد پنجاب میں ہے۔ میں جلدی میتوں کو تدفین کے لیے لیکر جانا چاہتی ہوں۔ رات کو ٹریفک بھی سڑکوں پر نہیں ہوتا پھر میرے بچوں کے ساتھ حادثہ کیسے ہوا؟ اس کی تحقیقات کریں، میرے بچے شریف اور معصوم ہیں۔
جاں بحق دونوں بھائیوں کے بڑے بھائی نے بتایا کہ ہم چار بھائی اور ایک بہن ہے، دونوں بڑے بھائی ہم الگ رہتے ہیں۔ یہ چھوٹے بھائی والدہ اور والد کے ساتھ رہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں مال بردار گاڑیاں شہریوں کی دُشمن بن گئی ہیں۔ شاہراہِ پاکستان پر ٹریلر نے دو سگے بھائیوں کو روند ڈالا، دونوں عید کے کپڑے لینے جا رہے تھے۔
بڑے بھائی کا مزید کہنا تھا کہ عید سے پہلے گھر میں قیامت آگئی، عید کی تیاریوں میں مصروف گھر ماتم کدہ بن گیا ہے۔ عائشہ منزل فرنیچر مارکیٹ کے قریب ٹریلر نے موٹر سائیکل پر سوار میرے سگے بھائیوں عاطف اور تابش کو کچل دیا، جس سے دونوں نوجوان موت کی وادی میں چلے گئے۔ واقعے کے وقت وہ درزی سے عید کے کپڑے وصول کرنے جارہے تھے۔ دونوں بھائی عید کی تیاری کے لئے بہت پُرجوش تھے۔
بھائی کا کہنا تھا کہ ایف بی ایریا کے رہائشی 16 سے 18 سال کے سگے بھائی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ایئر کنڈیشن کا کام سیکھ رہے تھے۔ ملوث ڈرائیور کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کتنے بائیک سوار سڑکوں پر جان کی بازی ہار رہے ہیں، موٹر سائیکل کا چالان ہوتا ہے لیکن ان ڈمپر والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی ہے۔
ادھر، ٹیپو سلطان کے علاقے بلوچ کالونی پل پر ٹریفک حادثے میں ایک شخص جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوگیا، جاں بحق و زخمی ہونے والوں کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
موقع پر موجود شہریوں نے بتایا کہ بلوچ کالونی پل پر چڑھتے ہوئے کسی گاڑی نے سوزوکی پک اِپ کو ٹکر ماری جس کے نتیجے میں سوزوکی میں سوار دو افراد نیچے گرے اور اسی دوران عقب سے آنے والا ٹینکر دونوں افراد پر چڑھ گیا، جاں بحق و زخمی ہونے والوں کی فوری طور پر شناخت نہیں کی جا سکی۔