امریکا نے ایران پر حملہ کر کے ایک خود مختار اور غیور قوم کو للکارا ہے۔ اب تک امریکا وینزویلا اور یورپ کے دوسرے ملکوں پر قبضے کے لیے ہمک رہا تھا مگر ایران اس کے دل کا کانٹا بنا ہوا تھا اور بالآخر جب انھیں درست طور پر پتا چل گیا کہ آیت اللہ خامنہ ای اس وقت کہاں ہیں تو اس جگہ پر ٹھیک حملہ کر دیا گیا۔اس حملے میں آیت اللہ خانہ ای کے علاوہ ان کے گھر کے تقریباً سب افراد شہید ہو گئے۔ ایران کے سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد، نواسی، بہو، کمانڈر پاسداران انقلاب بھی شہید ہو گئے۔ جو لوگ شہید کیے وہ خامنہ ای کے اہل خانہ اور متعلقین تھے جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا قتل جنگی جرائم کی تعریف میں آتا ہے مگر ان کے خون کی قیمت لگانے کون سا ادارہ کھڑا ہو سکے گا۔
رہے آیت اللہ خامنہ ای تو امریکا کا خیال تھا کہ اگر وہ زندہ رہے تو ایران پر قابو پانا دشوار ہوگا اور ان کی یہ فکر ان کے نقطہ نظر سے درست ہوگی مگر آیت اللہ خامنہ ای کو اپنی قوم کی قیادت کا حق حاصل تھا جس طرح مسٹر ٹرمپ کو امریکا کی قیادت کا حق حاصل ہے مگر تکنیکی امور میں مہارت کے حامل امریکا نے اپنا مقصد گھر بیٹھے حاصل کر لیا ہے۔ یہ میدان جنگ میں لڑنے والے کی شکست نہیں تھی بلکہ ایک امریکا کے مقابلے میں انتہائی کمزور ملک پر اپنی تکنیکی جنگی برتری کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہے گویا یہ جنگ بغیر میدان میں آئے لڑی گئی اور جیت لی گئی۔امریکا کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ایران اتنی زیادہ مزاحمت کرے گااور جواب میں امریکا اور اسرائیل کو بھی بھاری نقصان پہنچائے گا۔
مگر ایران نے اپنی انتہائی قیمتی جانوں کے زیاں سے حوصلے نہیں ہارے، وہ زندہ رہنے کی جنگ لڑنے کو تیار ہیں۔ ایران قبل اسلام بھی ایک طاقتور ملک تھا جسے عالمی سیاست میں اہم مقام حاصل تھا۔قبول اسلام کے بعد بھی وہ مسلم تاریخ میں نمایاں مقام کا حامل رہا۔ ایرانیوں کو اپنے ایرانی ہونے پر سب سے زیادہ فخر رہا ہے۔ وہ اپنے شان دار ماضی پر نازاں رہے ہیں اور کسی قیمت پر کسی کی باج گزاری انھیں گوارا نہیں رہی۔ ایران نے قبول اسلام کے بعد ہی مسلم سوسائٹی میں اپنا مقام بنایا تھا اور اس کے باوجود اس نے اپنی علیحدہ شناخت بنائی تھی۔ ایران کی اس تاریخی اہمیت اور تسلسل سے دنیا کے نقشے پر اپنے علیحدہ نقوش کے باعث ایک نمایاں مقام بنا رکھا تھا۔ امریکی قیادت نے یا تو اس مقام کو سمجھا نہ تھا یا پھر اس سے سرسری طور نمٹ لینے کے لیے ہی تیار تھے۔
ایران آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد بے قیادت نہیں ہوا، ایران نے جرات اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کیا اور دنیا کو بتایا کہ ایران ایک قوت اور جذبے کا نام ہے جو بڑی سے بڑی قوت سے بھی ٹکرا سکتا ہے۔ ایران نے واضح اعلان کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے ایرانیوں کے دل جل اٹھے ہیں، وہ امریکا کا بھی دل جلائیں گے اور ایران اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہے گا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی ایران مشرق وسطیٰ میں قائم 27 امریکی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینا ایرانی قوم پر قرض اور وہ جلد ہی یہ قرض اتار دے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح ترین دھمکی کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای کو جو کہ شہید رہبر کے بیٹے ہیں، سپریم لیڈر چن لیا گیا اور اب ایران کو نہ صرف قیادت میسر آگئی ہے بلکہ وہ زیادہ قوت وشدت سے اسرائیل پر حملہ آور ہورہا ہے،یہ سارے انتظامات ایرانی قوم کے جذبہ انتقام کی نشان دہی کر رہے ہیں۔
اور اب آپ کو راقم الحروف کے اس خدشے کا ثبوت مل گیا ہوگا کہ آخر ٹرمپ صاحب ہمارے وزیر اعظم اور ہمارے کمانڈر آف فورسز کے اتنے مداح کیوں ہیں۔ وہ کبھی ان کی صفات اعلیٰ کی تعریفات کے پُل باندھتے ہیں کبھی انھیں گلے لگاتے ہیں اور کبھی ان کی تعریف اس تعلق سے کرتے ہیں جو ایک عالمی سربراہ کے عہدے کے لیے نامناسب معلوم ہوتی ہے۔
دراصل پاکستان واحد مسلم ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے۔ پھر وہ ہندوستان سے پچھلی جھڑپ میں جس طرح نبرد آزما ہوا وہ فوجی اعتبار سے بحرالقول کا زمانہ تھا۔ یہ فتح جنگی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب بن گئی ہے۔ امریکا اس طاقت کو اپنے دام ہم رنگ میں سنبھالے گا اور وہ غزہ امن بورڈ میں رہتے ہوئے امریکا کے خلاف موثر آواز بلند نہیں کر سکے گا۔ بس یہی بندوبست امریکا کو راس آیا۔ اب پاکستان امریکی حملے کی مخالفت تو کر رہا ہے مگر اس کی آواز میں وہ گھن گرج سنائی نہیں دیتی جس کی اس سے توقع تھی اور بس یہی امریکا کو درکار تھا جو اس نے حاصل کر لیا۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو اس نے اسرائیل پر حملہ کرکے بدلے اور انتقام کا ایک مرحلہ تو طے کر لیا مگر خاموش بیٹھنا ایرانی مزاج کے خلاف ہوگا۔