سوچتا ہوں وہ زماں اور مکاں کتنے شرمندہ ہوئے ہوں گے کہ جس زماں میں نواسہ رسول ' جگر گوشہ بتول کوجس مکاں یعنی کربل کی تپتی ریت پر اپنے پورے خانوداہ کے ساتھ شہید کر دیاگیا ہو گا' چاروں جانب یزیدی لشکر اور مدمقابل صرف ایک حسین ابن علی ' اس ظلم و بربریت پر زمین پھٹ گئی ہو گی' آسماں گریہ کرتا رہ گیا ہو گا' پوری انسانیت تڑپ اٹھی ہو گی ' اور اس دردناک واقعہ سے قبل دور نبوی میں ہادی برحق' سرکار دو عالم ' سرور کائنات ' فخر موجودات' ختم الرسل' خاتم النبین ' سیدنا احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ نے اپنی آل اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی رفاقت میں جن غزوات میں حصہ لیا ہو گا ' آنحضرتﷺ ' اہل بیت اور صحابہ کرام کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو گا' کفار مکہ ' منافقین ' مشرکین اور یہود و نصاریٰ نے آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب محترم و مکرم کو کیا کیا اذیتیں دی ہوں گی لیکن پھر بھی آپ کی استقامت ' استقلال صبرو قناعت' برداشت اور دین مبین اسلام کے لیے آپ ﷺ کی لازوال قربانیاں پورے عزم و ولولہ کے ساتھ جاری رہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتنی اذیتیں پہنچائیں اور نبی مکرم محمد عربی کے لیے بھی کئی گھناؤنی سازشوں کے جال پھیلائے مگر انھیں ہر معرکہ میں شکست فاش ہوئی۔ جب بھی کبھی دین مبین اسلام کے خلاف کہیں بھی کوئی سازش یا مہم جوئی ہوئی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام دشمنوں کو اپنے فضل و کرم سے تباہ و برباد کر دیا' مسلمانوں کی شاندار فتح کے لیے آسمانوں سے فرشتے قطار اندر قطار زمین پر اتارے گئے ' باطل مٹ گیا حق کوہمیشہ فتح نصیب ہوئی کیونکہ
حق و باطل کے معرکہ میں سدا
فتح بالیقین ہیں ہم لوگ
پھر ہم قدیم سے جدید دور میں آگئے ' ہمیں اسلام سجا سجایا مل گیا' جنھوں نے دشمناں دیں کے ہاتھوں پتھر کھائے' صعوبتیں جھیلیں' قربانیاں دیں' جنھیں تپتی ریت پر لٹایا گیا ' جن پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے وہ رتبہ شہادت پا کر بہشت بریں میں جا بسے اور ہمیں ایک درس عظیم دے گئے کہ شجاعت و دلیری تمہاری میراث ہے ' دشمن کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو جاؤ' شہادت تمہاری معراج ہے ' یہود و نصاریٰ تمہارے ہر گز ہرگز دوست نہیں ہو سکتے یہ اللہ کریم کا حتمی فیصلہ اور اعلان ہے مگر بدقسمتی سے ہم نے نہ صرف یہود و نصاریٰ سے دوستی کر لی بلکہ یہود و نصاریٰ کی مقروض قوم ٹھہری چنانچہ انھوں نے ملت اسلامیہ کو جیسا چاہا استعمال کرنا شروع کر دیا اور باؤلے کتے کی طرح ہم پر بھونکنے لگے۔
تاریخ نے آج پھر ایک کروٹ لی ہے ' چاروں طرف طاغوتی طاقتیں اکٹھی ہوکر اسلام کے متوالوں کے خلاف صف آراء ہو چکی ہیں' مسلم امہ خاموش تماشائی بنی ان کی گھناؤنی سازشوں کے جال میں پھنسی نظر آرہی ہیں' صرف ایک ایران سر پہ کفن باندھے میدان عمل میں نکل پڑا ہے ' دین مبین کی رکھوالی اور اسے سرفراز و سربلند رکھنے کے لیے لازوال قربانیاں دے رہا ہے ' اس کا عزم اورولولہ دیدنی ہے ' اپنے عظیم رہنما قائد ملت اسلامیہ آیت اللہ خامنہ ای کی عظیم قربانی دے کر بھی حوصلے نہیں ہارے ' یہود و نصاریٰ کوایسا سبق سکھا دیا کہ اس کی ہزارنسلیں یہ سبق نہیں بھولیں گی' جنگ اپنے عروج پر ہے ' جہاں اللہ کی مدد شامل ہو جائے وہاں دنیاوی طاقتیں کچھ نہیں بگاڑ سکتیں مگر ہم کتنے بدقسمت ہیں کہ فلسطین کی مقدس سرزمیں لہولہو ہوتی رہی' معصوم بچوں کے لاشے اٹھتے رہے ' ماؤں کی آہ و فغاں' بوڑھوں کا صبر ' بہنوں کے سہاگ اجڑتے رہے ' بیٹیاں گریہ کرتی رہ گئیں اور ہم
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا!
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
کشمیر جلتا رہا' بچوں کو نیزوں پر اچھالا جاتا رہا ' ہم خاموش تماشائی بنے رہے ۔مگر ہم ایسے گھمبیر اور سنگین حالات میں اپنے وطن عزیز پاکستان کے عوام' حکومت اور سب سے بڑھ کر اپنی پاک مسلح افواج کو داد تحسین پیش کرتے ہیں کہ جو ابتلا کی اس گھڑی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہیں' قوم کا ہر فرد بلاتفریقی سنی و شیعہ سب ایک ہو چکے ہیں اور ناموس اسلام کی خاطر صہیونی طاقتوں کو جذبہ ایمانی کے تحت للکاررہے ہیں کہ اب طاغوتی طاقتیں مٹ کرہی رہیں گی' اسلام کا بو ل بالا ہو گا ' کل تک جو دشمنوں کی ناپاک چالوں میں پھنس چکے تھے آج وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ
میرا امام ابھی کربلا نہیں پہنچا
میں حر ہوں اورابھی لشکر یزید میں ہوں
اسرائیل اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے ' ایران کو اللہ کریم نے اس پر غلبہ عطا کر دیا ہے' اسلام کے دشمنوں کی رو سیاہی ' تباہی اوربربادی لکھ دی گئی ہے ' مسلم امہ کا اتحاد' یگانگت اور یکجہتی ابھر کر سامنے آنیوالی ہے ' آج پھر الگ سے اسلامی دنیا بنانے کی اشد ضرورت ہے اپنی الگ اسلامی سلامتی کونسل ' اپنی علیحدہ معیشت' اپنی الگ اسلامی سوچ اور فکر ' اپنا عالمی اسلامی بینک' عالمی اسلامی عدالت ' اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ' جرات اور استقلال یہ ہے وقت کا اہم ترین تقاضا۔قارئین کرام! اب مزید ظلم نہیںسہا جاسکتا ' ظالم کے ہاتھ روکنے ہوں گے ' سرزمین فلسطین سے معصوم بچوں کی چیخ و پکار اب نہیں سنی جاتی' لہو میں تر بتر لاشیں نہیں اٹھائی جاسکتیں' اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان اور مسلم امہ سلامت تا قیامت رہیں اسلام کو غلبہ حاصل ہو' اللہ کریم ہمیں اپنے حبیب محمد مصطفی ﷺ سے سچی محبت کی توفیق عطا فرمائے ' کالم تمام کرتے ہوئے عرض ہے کہ
معرکہ حق و باطل پھر بپا ہے
اک طرف ہیں جان نثاران حسین ابن علی
دوسری جانب یہودی اور منافق قافلے !
یاد رکھو کل بھی فتح کربلا والوں کی تھی
آج بھی فتح حسین ابن علی والوں کی ہے