بعض ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے؛ ایران

ایران کے خلاف جارحیت دکھانے والے ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے نہیں دیں گے؛ ایرانی وزیر خارجہ


ویب ڈیسک March 12, 2026
امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات عمان میں شروع ہوگئے

ایران نے واضح اعلان کیا ہے کہ ہماری سرزمین اور قیادت کے خلاف جارحیت میں حصہ لینے والے ممالک کے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔

اس بات کا اعلان ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو تہران میں دیے گئے انٹرویو میں کیا۔

انھوں نے بتایا کہ کئی ممالک نے ایران سے رابطہ کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی درخواست کی تھی جس پر ایران نے ان کے ساتھ تعاون کیا ہے اور راستہ فراہم کیا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے نزدیک وہ ممالک جنہوں نے ایران کے خلاف حملوں یا جارحانہ اقدامات میں حصہ لیا انہیں اس اہم سمندری گزرگاہ سے فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا۔

مجید تخت روانچی کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جون میں جنگ شروع ہونے کے بعد 12 دن کے اندر لڑائی رکنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن آٹھ یا نو ماہ بعد مخالف قوتوں نے دوبارہ تیاری کر کے ایران کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا بلکہ ایسا نظام چاہتے ہیں جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آئندہ کسی بھی وقت ایران پر دوبارہ جنگ مسلط نہ کی جائے اور خطے میں استحکام برقرار رہے۔

انھوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے انہوں نے کہا کہ یہ خبریں درست نہیں ہیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایران کی اٹھائیس کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو مبینہ طور پر بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

 

مقبول خبریں