ایران نے واضح اعلان کیا ہے کہ ہماری سرزمین اور قیادت کے خلاف جارحیت میں حصہ لینے والے ممالک کے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔
اس بات کا اعلان ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو تہران میں دیے گئے انٹرویو میں کیا۔
انھوں نے بتایا کہ کئی ممالک نے ایران سے رابطہ کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی درخواست کی تھی جس پر ایران نے ان کے ساتھ تعاون کیا ہے اور راستہ فراہم کیا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے نزدیک وہ ممالک جنہوں نے ایران کے خلاف حملوں یا جارحانہ اقدامات میں حصہ لیا انہیں اس اہم سمندری گزرگاہ سے فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا۔
مجید تخت روانچی کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جون میں جنگ شروع ہونے کے بعد 12 دن کے اندر لڑائی رکنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن آٹھ یا نو ماہ بعد مخالف قوتوں نے دوبارہ تیاری کر کے ایران کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا بلکہ ایسا نظام چاہتے ہیں جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آئندہ کسی بھی وقت ایران پر دوبارہ جنگ مسلط نہ کی جائے اور خطے میں استحکام برقرار رہے۔
انھوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے انہوں نے کہا کہ یہ خبریں درست نہیں ہیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایران کی اٹھائیس کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو مبینہ طور پر بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔