کیا جنگیں مسائل کا حل ہوسکتی ہیں ؟

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد اس وقت عالمی اور مشرق وسطی میں صورتحال ہمیں کافی پیچیدہ نظر آرہی ہے ۔


سلمان عابد March 12, 2026

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد اس وقت عالمی اور مشرق وسطی میں صورتحال ہمیں کافی پیچیدہ نظر آرہی ہے ۔جو معاملات امریکا ،اسرائیل کے ایران کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد پر حل ہونے چاہیے تھے اس پر جنگ کا ہونا کسی بھی حوالے سے دنیا کے امن کے مفاد میں نہیں ہے ۔ جنگ کی بنیاد دشمنی، بدلے کی آگ یا کسی پر برتری حاصل کرنے کی صورت میں ہوتی ہے۔جنگ سے پہلے امن کا راستہ تلاش کیا جاتا ہے اور ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ کسی بھی طریقے سے جنگ کے حالات سے بچا جائے۔

اس کا سفارت کاری کی بنیاد پر ہی نتیجہ نکالا جاتا ہے ۔سفارت کاری میں ایک مشہور جملہ یہ ہی کہا جاتا ہے کہ ایک سفارت کاری کی ناکامی کے بعد دوسری سفارت کاری کا راستہ تلاش کرنا ہی ملکوںکی سیاست میں دانش مندی کا تقاضہ ہوتا ہے۔لیکن ہمیں جو کام سب سے آخری آپشن کے طور پر کرنا چاہیے ہم اس کو مذاکرات سے پہلے اختیار کرکے جنگ کو ہی مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ دنیا امن اور جمہوری روایات یا ایک دوسرے ممالک کی خود مختاری کو نظر انداز کرکے یہ سمجھتی ہے کہ مخالف کے خلاف طاقت کا استعمال ہی واحد آپشن ہے ۔اس حالیہ امریکا اور اسرائیل باہمی گٹھ جوڑ بالخصوص امریکی صدر کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ کسی قانون،قائدے اور ضابطوں کو نہیں مانتے اور جو ان کو مناسب لگتا ہے وہ اسی پر عمل کرتے ہیں ۔امریکی صدر کے اس طرز عمل نے دنیا کے ممالک کی داخلی سلامتی اور خود مختاری کو چیلنج کردیا ہے ۔

امریکا کی جانب سے یہ تاثر دینا کہ انصاف کے تقاضوں کی جگہ طاقت کے اصول اہمیت رکھتے ہیں عالمی سیاست میں نئے خطرناک رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ایک طرف امریکا بار بار ایران کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتا رہا اور مذاکرات کا سیاسی دربار سجا کر یہ ہی پیغام دیتا رہا کہ وہ معاملات کا حل ہر صورت میں مذاکرات کی مدد سے ہی چاہتاہے ۔خود ایران کا اپنا طرز عمل مزاکرات میں کافی مثبت رہا مگر اچانک مزاکرات کو نظر انداز کرکے جنگ کا راستہ اختیار کرنا بہت زیادہ غیر معمولی بات ہے ۔ایسے لگتا ہے امریکا اور اسرائیل مذاکرات سے پہلے ہی جنگ کا فیصلہ کرچکے تھے اور مذاکرات کا عمل محض دنیا کو دکھاوے کا ایجنڈا تھا۔

 جنگ کی حمایت اس لیے نہیں کی جاسکتی کیونکہ جنگیںدنیا میں سوائے انسانی اور انتظامی تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتیں۔ جو لوگ بھی جنگوں یا تنازعات کی حمایت کرتے ہیں وہ انسان دشمن ہوتے ہیں۔ان کا یہ طرزعمل ریاستی نظام میں انسانوں پر سرمایہ کاری اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کی بجائے اپنی ریاستوں کو جنگ کی بنیاد پر سیکیورٹی ریاست کے طور پر مضبوط کرتے ہیں۔اسی بنیاد پر جو سرمایہ کاری انسانی ترقی پر ہونی چاہیے وہ جنگوںکی سیاست یا کاروبار پر کرتے ہیں ۔

اس وقت دنیا کی سیاست میں بڑے اور چھوٹے ممالک جس تیز رفتاری سے اسلحہ پر سرمایہ کاری کررہے ہیں، وہ مستقبل کی دنیا کے لیے کوئی مثبت پہلوؤں کی نشاندہی نہیں کررہے۔غزہ میں جو کچھ اسرائیل نے کیا اس پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے یا وہ لوگ یا بڑے ممالک جو ان تمام معاملات پر خاموش رہے ان کی بے بسی پر بھی دکھ ہوتا ہے ۔سوال یہ ہوتا ہے کیا کوئی جنگ کی جیت مرنے والوں کا متبادل ہوسکتی ہے اور کیا جنگ میں انسانوں کے قتل پر جیت کا جشن جائز ہے ۔

 اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز امن اور تنازعات کے حل کے لیے بنے ہوئے ہیں مگر ان کی کمزوریوں کی موجودگی میں جنگ کا ہونا اور مذاکرات سے انکار خود ان عالمی فورمز کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے،ایسے لگتا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے بڑے ادارے عالمی طاقتوں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور نہ ہی یہ بڑے ممالک کی جنگ یا جنگی پالیسیوں پر کوئی جوابدہی کا نظام رکھتے ہیں ۔اسی طرح کی حیثیت ہمیں اسلامی دنیا میں بھی او آئی سی کی نظر آتی ہے۔حالیہ امریکا اسرائیل ایران مخالف جنگ پر ہمیںکوئی بڑا کردار اقوام متحدہ اور اوآئی سی کا نظر نہیں آیا اور اسی وجہ سے دنیا کی سیاست میں یہ عالمی سطح کے فورمز اپنی سیاسی،اخلاقی اور قانونی حیثیت کھوچکے ہیں۔دوسری طرف جنگ کی سیاست دنیا میں سب سے زیادہ معیشت کو متاثر کرتی ہے۔

حالیہ جنگ میں جو کچھ پاکستان سمیت دنیا کے ممالک میں اس جنگ کی بنیاد پر پٹرول،ڈیزل اور تیل یا توانائی کا بحران پیدا ہوا اور جس طرح سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اس نے جہاں ہم جیسے ملکوں کی پہلے سے موجود کمزور معیشت کو مزید کمزور کردیا اور دوسرا اس کا سارا بوجھ کمزورسطح کے لوگوں پر مہنگائی کی صورت میں پیدا ہوا ہے۔اس وقت امریکا کے ٹیکس دہندگان کا اربوںڈالر، ایران کی معیشت پر پابندیاں،اسرائیل کی دفاعی لاگت یہ سب کچھ جنگوں کی نذر ہو رہے ہیں۔اگر یہ ہی رقم اس خطہ میں انسانی ترقی اور تعلیم وصحت پر خرچ ہو تو یہ جنگوں کی سیاست سے بہتر کام ہے لیکن ہم جنگوںاور تنازعات کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنا کر دنیا کی معاشی ترقی کو پیچھے کی طرف دھکیل رہے ہیں اور اس کا نتیجہ مزید غربت اور محرومی کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حالیہ جنگ علاقائی اور عالمی عدم استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس کی قیمت بھی بہت بھاری ہے ۔کیونکہ خطرہ یہ ہے کہ اگر اس جنگ کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ جنگ کئی اور ممالک کو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔یہ جنگ اور تنازعہ مشرق وسطی کو اور زیادہ غیر محفوظ بنا رہا ہے۔اصولی طور پر دنیا میں کئی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات کا حصہ بننا ہوتا ہے۔مگر ان تنازعات کا اول مقصد جنگ کرنا نہیں بلکہ ان کا باہمی حل نکال کر ایک دوسرے کے ساتھ امن اور بہتر تعلقات کا درمیانی راستہ رکھنا پڑتا ہے۔

اسی وجہ سے سفارت کاری کے محاذ پر کہا جاتا ہے کہ تنازعات کتنے بھی آگے چلے جائیں ہمیں سفارت کاری اور مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے۔ماضی میں ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر بات چیت، معاہدے،اسرائیل عرب ممالک کے معاہدے اور امریکا کی ثالثی ظاہر کرتے ہیں کہ مسائل کا حل بات چیت کی مدد سے بھی نکالا جاسکتا ہے۔اقوام متحدہ،یورپی یونین اور دیگر غیر جانبدار ممالک اگر واقعی خود مختار ہوں تو وہ بھی جنگوں کے خاتمے میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں یا جنگ کرنے والے ممالک کے خلاف بڑا دباؤ پیدا کرسکتے ہیں۔لیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب جنگوں پر عالمی دنیا میں ایک مضبوط بیداری کی لہر پیدا ہو اور یہ لہر ہر اس ملک کے خلاف ہو جو جنگوں میں مذاکرات اور سفارت کاری کو نظر انداز کرکے دنیا میں تباہی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

دنیا کی سول سوسائٹی اور نئی نسل جو اب ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا ہے اس کو جنگوں کے خلاف ایک بڑا عالمی بیانیہ بنانا ہے کہ بڑی طاقتیں دنیا کو تباہ کرنے کی بجائے اسے لوگوں کے لیے محفوظ بنائیں اور معاشی ترقی کو بنیاد بنا کر لوگوں کی عملی زندگیوں میں بہتری پیدا کریں کیونکہ لوگ جنگ نہیں امن اور معاشی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ ہی ان کی ترجیحات ہیں۔

مقبول خبریں