کلام غالب میں تلمیحات کا استعمال (آخری حصہ)

ابن مریم ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی


رئیس فاطمہ March 13, 2026

ابن مریم ہوا کرے کوئی

میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

٭……٭

مر گیا صدمۂ یک جنبشِ لب سے غالب

ناتوانی سے حریف دمِ عیسیٰ نہ ہوا

ان دونوں اشعار میں حضرت عیسیٰؑ کی تلمیح استعمال کی گئی ہے۔ ابن مریم سے مراد بھی حضرت عیسیٰؑ ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے تین معجزے عطا کیے تھے۔ اول مردوں کو زندہ کر دینا، دوم کوڑھیوں کو شفا دینا اور سوم اندھوں کو بینائی عطا کرنا۔ مسیح، مسیحائی، لب عیسیٰؑ اور دم عیسیٰؑ کی تلمیحات بھی حضرت عیسیٰؑ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ کے دم کی برکت سے نہ صرف اندھوں کو بینائی مل جاتی تھی، بیماروں کو شفا ہوتی تھی بلکہ مٹی کے پرندوں میں بھی جان پڑ جاتی تھی۔

پہلے شعر کا مطلب ہے کہ غالب اپنے دکھوں سے تنگ آ کر کہتے ہیں کہ کاش میرے زمانے میں بھی کوئی ابن مریم ہو، جو میرے دکھ کی دوا کرے، کیونکہ میرے دکھ اور مصائب اتنے ہیں جو کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ دوسرے شعر میں غالب فرماتے ہیں کہ میں اتنا کمزور اور ناتواں ہو چکا تھا کہ محبوب کے لبوں کی معمولی سی حرکت بھی برداشت نہ کر سکا اور اس کے صدمے ہی سے میری جان نکل گئی۔ دوسرے مصرعے میں دم عیسیٰ سے مراد وہ پھونک ہے جس سے مردے زندہ ہو جاتے تھے۔ غالب کہتے ہیں کہ میں اتنا نحیف و نزار اور نڈھال ہو چکا ہوں کہ زندگی کی طرف واپس لانے والی قوت (دم عیسیٰ) بھی مجھے سہارا نہ دے سکی اور میں موت کے حوالے ہو گیا۔ شاعر اپنی بے بسی کا اظہار کر رہا ہے کہ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں اس قدر کمزور پڑ چکا ہے کہ اب معمولی سی جنبش یا زندگی کی پکار بھی اس کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔

ہنوز اک پرتو نقش خیال یار ہے باقی

دلِ افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا

اس شعر میں حضرت یوسفؑ کے اس حجرے کی تلمیح استعمال کی گئی ہے جس میں انھیں عزیز مصر نے زلیخا کے لگائے ہوئے الزام کی بنا پر قید کر دیا تھا۔ غالب فرماتے ہیں: میرے اجڑے ہوئے اور اداس دل میں ابھی تک محبوب کے خیال کا ایک دھندلا سا عکس باقی ہے، یعنی اگرچہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے لیکن اب بھی محبوب کی یاد دل کے کسی کونے میں موجود ہے۔ اپنے اداس اور تاریک دل کو غالب نے حضرت یوسف علیہ السلام کے اس قید خانے (زنداں) کے کمرے سے تشبیہ دی ہے جو یوسفؑ کے حسن کی تابانی سے روشن ہو جایا کرتا تھا۔

یعنی جس طرح حضرت یوسفؑ کے قید خانے کا اندھیرا کمرہ ان کے نور حسن سے منور رہتا تھا، بالکل اسی طرح میرا اداس اور تاریک دل محبوب کی یاد سے روشن رہتا ہے۔

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن

بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

اس شعر میں غالب نے اپنے دکھ کا موازنہ حضرت آدمؑ کے واقعے سے کیا ہے۔ کہتے ہیں ہم بچپن سے سنتے آئے تھے کہ حضرت آدمؑ کو ان کی کسی غلطی کی بنا پر جنت سے نکالا گیا تھا، لیکن وہ ایک باوقار رخصتی تھی، اس کے برعکس جب ہمیں تمہارے کوچے سے نکالا گیا تو ہمیں جس ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا وہ بہت تکلیف دہ تھا۔ اس شعر میں حضرت آدمؑ کی تشریح استعمال کرکے شعر میں معنویت اور گہرائی پیدا کی ہے۔

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

غالب کا یہ شعر اردو کے معقول ترین اشعار میں سے ایک ہے جس میں انھوں نے حقیقت پسندی اور انسانی نفسیات کے دلچسپ پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہمیں جنت کی اصل حقیقت معلوم ہے۔ صوفیانہ یا فلسفیانہ نقطہ نظر سے شاید وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ جنت محض ایک تصور ہے، دوسرے مصرعے میں انسانی فطرت کی عکاسی کرتا ہے۔ غالب فرماتے ہیں کہ اگرچہ ہم حقیقت جانتے ہیں لیکن جنت کا تصور انسان کو امید اور تسلی دیتا ہے زندگیوں میں سختیوں اور پریشانیوں میں یہ خیال کہ ’’ایک دن سب اچھا ہوگا‘‘ یا جنت ملے گی دل کے بہلانے اور خوش رکھنے کو یہ خیال اچھا ہے۔ غالب کے نزدیک عقلی طور پر جنت کی حقیقت کچھ بھی ہو لیکن جذباتی طور پر یہ ایک خوبصورت فریب ہے جو انسان کو جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسد

سرگشتہ خمار رسوم و قیود تھا

اس شعر میں شیریں اور فرہاد کی تلمیح ہے۔ کوہ کن سے مراد فرہاد ہے جس سے شیریں محبت کرتی تھی، لیکن بادشاہ خسرو پرویز نے زبردستی شیریں کو اپنے محل میں قید کر دیا تھا، اور فرہاد کو کہا تھا کہ اگر وہ شیریں کو پانا چاہتا ہے تو پہاڑوں میں سے ایک نہر نکالے۔ فرہاد یہ سن کر پہاڑ کھودنے لگا۔ خسرو کو جب یہ خبر ملی کہ فرہاد نہر نکالنے کے قریب پہنچ چکا ہے تو اس نے فرہاد تک یہ جھوٹی خبر پہنچا دی کہ شیریں مر گئی ہے۔ اس کی موت کی خبر سنتے ہی فرہاد نے اسی تیشے سے خودکشی کرلی جس سے وہ پہاڑ کھود رہا تھا۔غالب ایک منفرد شاعر تھے، وہ فلسفیانہ انداز بیاں اور جدت کی بنا پر اپنے پیش روؤں سے مختلف ہیں۔ غالب کہتے ہیں کہ فرہاد ایک روایتی عاشق تھا، اس لیے اسے خودکشی کرنے کے لیے تیشے کی ضرورت پڑی۔ سچا عاشق وہ ہوتا ہے جسے مرنے کے لیے کسی اوزار کی ضرورت نہیں، اگر فرہاد سچا عاشق ہوتا تو شیریں کی موت کی خبر سنتے ہی اس کا دم نکل جاتا، کیونکہ محبوب کی موت اتنا بڑا صدمہ ہوتا ہے کہ کوئی سچا عاشق اسے برداشت ہی نہیں کر سکتا۔ یعنی وہ کہنا چاہتے ہیں کہ فرہاد لکیر کا فقیر تھا، اس لیے اس نے وہی کیا جو رواج تھا۔ اس نے روایات کی اندھی تقلید کی۔

گرنی تھی ہم پہ برق تجلی، نہ طور پر

دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر

یہ غالب کا ایک بہت بلند پایہ شعر ہے۔ روایت سے ہٹ کر انھوں نے ایک بڑی فلسفیانہ بات کی ہے۔ کہتے ہیں وہ تجلی (روشنی) جس نے کوہ طور کو جلا کر راکھ کر دیا، دراصل وہ مجھ پر گرنی چاہیے تھی۔ ان کے نزدیک پہاڑ تو ایک بے جان چیز تھا، جو اس بوجھ کو برداشت نہ کر سکا، جب کہ عاشق (انسان) کا دل اس سے کہیں زیادہ وسیع اور مضبوط ہوتا ہے۔دوسرے مصرعے میں وہ میخانے کی مثال دیتے ہیں، کہتے ہیں ساقی (اللہ) ہر پینے والے کو اس کی پیاس اور اس کے پیالے (ظرف) کی وسعت کے مطابق شراب (عرفان) عطا کرتا ہے، جس کا حوصلہ اور برداشت جتنی زیادہ ہوتی ہے اسے اتنا ہی زیادہ نوازا جاتا ہے۔ اس شعر میں غالب نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تلمیح استعمال کی ہے جو کلیم اللہ تھے، انھوں نے اللہ سے اپنا جلوہ دکھانے کی ضد کی تو اس نے اپنا جلوہ دکھایا، جس سے کوہ طور جل کر بھسم ہو گیا اور حضرت موسیٰؑ بے ہوش ہو گئے۔

مقبول خبریں