ایران،اسرائیل امریکہ جنگ اور مشرقی وسطی سے فضائی آپریشن متاثر ہونے اور بدلتی صورتحال کے بعد پاکستان میں جان بچانے والی ویکسین، انسولین سمیت دیگر ادویات اور بچوں کے دودھ کی قلت کا شدید خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہے کہ پاکستان میں بچوں کے دودھ، ادویات، انسولین اور ہر قسم کی ویکسین کا کتنا اسٹاک موجود ہے تاہم مختلف ماہرین کا کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موجودہ صورتحال اورجنگ کا دائرہ وسیع ہونے کی صورت میں میڈیکل کے شعبے پر اثرات خطرناک ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے انسانی زندگیاں شدید متاثر ہوسکتی ہیں، جبکہ معاشی بدحالی کی بھی بدترین صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
ویکسین درآمدکرنے والے ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مریضوں کے لیے کوئی ویکسین تیارنہیں کی جاتی تمام ترویکسین بیرون ملک سے پاکستان درآمدکی جاتی ہیں، پروازوں کی بندش کی وجہ سے ادویات اور ویکسین سمیت تمام درآمدات شدید متاثر ہورہی ہیں۔
پاکستان انفیکشن سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر رفیق خانانی کا کہنا تھا کہ ایران اسرائیل امریکہ کی جنگ سے خلیجی ممالک میں فضائی آپریشن شدید متاثر ہونے سے پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگیئے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے پیش نظردرآمد اوراندرون ملک ادویات سمیت مختلف اشیاء کی ترسیل بھی عارضی معطل ہونے کی صورت میں قیمتوں میں ہولناک اضافہ بھی ہو گا جس سے غریب مریضوں کی زندگیاں شدید متاثر ہوسکتی ہیں جبکہ بچوں کے دودھ کی بھی شدید قلت پیدا ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں، انہوں نے کہاکہ جنگی صورتحال میں بندرگاہیں بھی شدیدمتاثر ہوجاتی ہیں۔
ڈاکٹر رفیق خانانی کا مزید کہنا تھاکہ پاکستان دوواوں کی تیاری میں استعمال پہونے والے خام مال کے حوالے سے خود کفیل نہیں ہے، پاکستان میں 70% سے 80% دوائیں تیار کی جاتی ہیں لیکن ان ادویات میں استعمال ہونے والاخام مال دیگر ممالک سے درآمدکیا جاتا ہے، انہوں نے کہاکہ 70سال گزرنے کے باوجود ہم ادویات میں استعمال ہونے والا خام مال، ویکسین بنانے میں خود کفیل نہیں ہوسکے ہماری زندگیوں کا انحصاربیرون ممالک پر ہے، اگر جنگی صورتحال میں مزید ممالک متاثر ہوئے تو خام مال سمیت ویکسین، مصنوعی دودھ کی درآمد بھی شدیدمتاثر ہوگی ایسی صورت میں سپلائی میں کمی آتی ہے اور وہ جان بچانے والی ادویات دیگر سامان مارکیٹ سے ناپید ہوجاتا ہے،ڈر ہے ملک میں کوویڈ والی صورتحال کا سامنا نا کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب جنگ کی وجہ سے ملک میں کام کرنے والے پاکستانی اپنے ملک واپس لوٹتے ہیں، اس طرح ملک میں صحت کے شعبوں پر بھی شدیددباؤ بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کینسرکی دواوں کی بھی قلت ہوجائے گی کیونکہ کینسرکی ادویات پرسنل بیگج کے ذریعے آتی ہیں، اسی صورتحال میں پرسنل بیگج سسٹم بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے اور یہ ادویات پاکستان اتی ہیں جس کی وجہ سے ملک میں ان ادویات کی بھی قلت پیدا ہوجائے گی۔
سینئر فارمسسٹ ڈاکٹرعثمان غنی نے بتایا کہ ویکسین کا شمار جان بچانے والی ادویات میں ہوتا ہے، دنیا بھر میں پہلے vaccine preventive استعمال کی جاتی تھی لیکن اب vaccine therapeutic کا دور آگیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ویکسین مختلف ممالک سے درامدکی جاتی ہے ، ایران اور اسرائیل امریکہ جنگ کی وجہ سے ویکسین کی درآمدات میں روکاوٹ پیدا ہوئی تو ملک میں مختلف ویکسین کی قلت کے سنگین مسائل پیدا ہوجائیں گے۔
ڈاکٹر عثمان غنی کاکہنا تھا کہ جنگ کی صورت میں عالمی ادارہ صحت سے کوالیفائڈ ویکسین بھی پاکستان تک نہیں پہنچ سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور اسرائیل امریکا جنگ سے خلیجی ممالک میں پیدا ہونے والی صورتحال خطرناک ہوتی جارہی ہے، پاکستان میں ادویات کی تیار میں استعمال ہونے والا خام مال بیرون ممالک سے خلیجی ملک سے ذریعے آتا ہے، جنگ کی طوالت سے درآمد اور سپلائی چین شدید متاثر ہوجائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ویکسین اور سیرم ایسے ہیں جو مخصوص خطے سے پاکستان منگوائے جاتے ہیں۔