امریکی ریاست مشی گن میں واقع ایک بڑی یہودی عبادت گاہ پر کار سوار نے فائرنگ کے بعد حملہ آور نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو گولی مار کر اپنی جان لے لی۔
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق حملہ آور کی شناخت ایمن محمد غزالی کے نام سے ہوئی ہے جو لبنانی نژاد امریکی شہری تھا۔
41 سالہ حملہ آور نے ڈیٹرائٹ کے نواحی علاقے ویسٹ بلوم فیلڈ ٹاؤن شپ میں واقع ٹیمپل اسرائیل نامی عبادت گاہ کے باہر تقریباً دو گھنٹے تک گاڑی میں انتظار کیا۔
بعد ازاں حملہ آور نے اپنی گاڑی اسٹارٹ کی اور عمارت پر دے ماری جس میں آتش گیر مواد اور آتش بازی کا سامان بھی موجود تھا۔
کار عمارت سے ٹکرانے کے بعد حملہ آور نے گاڑی کے اندر سے فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد عبادت گاہ کے مسلح سیکیورٹی گارڈز نے بھی جوابی فائرنگ کی۔
ایف بی آئی حکام نے بتایا کہ حملہ آور کی گاڑی یہودی عبادت گاہ کی عمارت کے اندر پھنس گئی اور انجن میں آگ لگ گئی جس کے بعد اس نے گرفتاری دینے کے بجائے خود کو گولی مار لی۔
حکام کے مطابق واقعے کے وقت عبادت گاہ کے اندر 140 بچے، اساتذہ اور عملہ موجود تھا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ ایک سیکیورٹی گارڈ گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہوا جبکہ دھوئیں کے باعث 63 پولیس اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ حملے کو یہودی کمیونٹی کے خلاف تشدد قرار دیا گیا ہے تاہم فی الحال اسے باقاعدہ دہشت گردی قرار دینے کے لیے شواہد ناکافی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
حملہ آور کون تھا
حکام کے مطابق ایمن غزالی 2011 میں لبنان سے امریکا منتقل ہوئے اور ڈیئربورن ہائٹس میں رہتا تھا۔ 2016 میں امریکی شہریت ملی تھی۔
حملے سے ایک ہفتہ قبل لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں اس کے خاندان کے چار جاں بحق ہو گئے تھے جن میں اس کے دو بھائی بھی شامل تھے۔
لبنان کے مقامی میڈیا کے مطابق ایمن محمد غزالی کے بھائیوں کا تعلق لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ سے بتایا جاتا ہے۔