ایران جنگ؛ امریکا کے مشکل دن شروع ہوگئے

امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر جنگ مسلط کی تھی جو تاحال جاری ہے


ویب ڈیسک March 14, 2026
امریکا میں ایران جنگ کے باعث مہنگائی کا طوفان آگیا

ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہو رہا ہے اور شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں دنیا کی اہم ترین آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جس سے پیٹرول کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں۔ جس سے امریکا بھی متاثر ہوا ہے۔

امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن نے بتایا کہ ملک بھر میں پیٹرول کی اوسط قیمت بڑھ کر 3.68 ڈالر فی گیلن ہو گئی جو جنگ شروع ہونے سے قبل سے اب تک تقریباً 23 فیصد زیادہ ہے۔

آج کے روز عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 2.67 فیصد اضافے کے بعد 103.14 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 3.11 فیصد اضافے کے ساتھ 98.71 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق اس ہفتے ڈیزل کی اوسط قیمت 4.85 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایران پر ابتدائی حملوں سے پہلے یہ قیمت تقریباً 3.71 ڈالر فی گیلن تھی۔

ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے شپنگ اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ مثال کے طور پر بڑی کوریئر کمپنی فیڈایکس ڈیزل کی قیمت 3.55 ڈالر فی گیلن سے اوپر جانے پر اضافی سرچارج عائد کرتی ہے۔

ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ امریکی معیشت پر متعدد طریقوں سے اثر انداز ہو رہا ہے۔ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھ گئیں، سکتی ہیں کھاد کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ اس کے کئی اہم اجزا کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔

امریکا بین الاقوامی پروازوں کا حب ہے۔ ایران جنگ کے باعث ہوائی سفر مہنگا ہو رہا ہے کیونکہ جیٹ فیول کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ جس سے امریکا کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

جس کے باعث صدر ٹرمپ پر اندرونی اور بیرونی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جہاں امریکی کانگریس سرگرم ہورہی ہے وہیں جی سیون ممالک نے صدر ٹرمپ سے جنگ کے جلد خاتمے پر زور دیا ہے۔

 

 

 

مقبول خبریں