کراچی:
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع ایک بار پھر تیل کی قیمتوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کی نئی لہر پیدا کر رہا ہے۔
اگرچہ یہ تنازع بیرونی ہے، لیکن اس کے اثرات ملکی معیشت کے لیے خاصے اہم ثابت ہو سکتے ہیں،بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کا ’’پٹرول بم‘‘ پاکستان کی معیشت پر شدید اثر ڈال رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف مالیاتی توازن متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ بیرونی کھاتوں پر بھی دبائو بڑھ سکتا ہے۔
7 مارچ 2026 کو پٹرولیم لیوی میں نظرثانی کے بعد پٹرول پر یہ لیوی 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے تجارتی خسارہ مزید بڑھے گا ،اندازہ ہے کہ ماہانہ درآمدی بل میں تقریباً 60 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوگا، جس سے کرنٹ اکائونٹ خسارہ مزید بگڑ جائے گا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان، جس نے پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد سے کم رکھنے کی پیش گوئی کی تھی، اب مہنگائی اور بیرونی کھاتوں کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پیش گوئی پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بالواسطہ اثرات کے باعث خوراک اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، جو حالیہ عرصے میں غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی تھیں، ان میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ،بین الاقوامی تجارتی مرکز کے Trademap.org کے مطابق 2024 میں عالمی سطح پر تجارت ہونے والی تقریباً 3 ٹریلین ڈالر مالیت کی معدنی مصنوعات میں سے 560 ارب ڈالر کی برآمدات خلیجی ممالک سے ہوئیں۔
ان میں سے تقریباً 210 ارب ڈالر کی برآمدات متحدہ عرب امارات اور قطر سے کی گئیں۔ قطر دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کرنے والا ملک ہے اور پاکستان نے 2024 میں قطر سے 3.5 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی ایل این جی درآمد کی، جو اس کی مجموعی ایل این جی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد بنتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چین، جنوبی کوریا اور بھارت کے بعد پاکستان قطر کی ایل این جی کے اہم خریداروں میں شامل ہے۔ قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کھاد کی صنعت کو بھی متاثر کرے گا اور اس کے نتیجے میں زرعی شعبہ اور خوراک کی قیمتوں کا استحکام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں مجموعی تجارتی درآمدات میں ایندھن کی درآمدات کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ جہاں پاکستان کی تجارتی ساخت بڑی حد تک ایندھن کی درآمدات پر منحصر ہے، وہیں دیگر علاقائی ممالک کی تجارت صنعتی اور پیداواری شعبوں سے جڑی ہوئی ہے جو آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں سے اتنی متاثر نہیں ہوتی۔
ان ممالک کے پالیسی سازوں کے پاس ایسے متبادل موجود ہیں جن کے ذریعے وہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان کو دوہری مشکل کا سامنا ہوگا کیونکہ ایک طرف قیمتیں بڑھیں گی اور دوسری جانب ایندھن کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں بجلی کی پیداوار بھی بڑی حد تک درآمدی ایل این جی پر منحصر ہے۔ ورلڈ ڈیولپمنٹ انڈیکیٹرز کے مطابق پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا 17 فیصد حصہ تیل سے حاصل ہوتا ہے جبکہ مشرق ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک میں یہ اوسط ایک فیصد سے بھی کم ہے ۔
خلاصہ یہ کہ ایک اور بڑا علاقائی تنازع پاکستان کے معاشی پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، جو پہلے ہی متعدد داخلی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ ضروری ہے کہ درآمدی تیل پر انحصار کم کیا جائے اور توانائی کے ذرائع کو قابلِ تجدید اور مقامی متبادل سے تبدیل کیا جائے۔
مثال کے طور پر اب وقت آ گیا ہے کہ ایسی الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دیا جائے جو مقامی طور پر پیدا ہونے والی شمسی توانائی سے چارج ہو سکیں۔
مزید یہ کہ پٹرولیم لیوی میں اضافے سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بجلی کے شعبے میں صلاحیت سے متعلق ادائیگیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔