سول اسپتال کا توسیعی منصوبہ منظور کیا گیا ہے جس میں 500 بستروں میں اضافے کے بعد اسپتال 2500 بستروں کا کردیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق 100 ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے جس میں 12 منزلہ کے 2 ٹاور بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
کراچی میں 1898 میں قیام پاکستان سے قبل تعمیر کئے جانے والے سول اسپتال کراچی کو پہلی بار توسیع منصوبے کی منظوری دیدی گئی ہے۔ اس کا فیصلہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے سول اسپتال کراچی کے نئے ماسٹر پلان کو بھی حتمی منظوری دی اور فیصلہ کیا گیا کہ سول اسپتال کراچی کو 100 ارب روپے کی لاگت سے جدید ترین عالمی طبی سہولیات کا مرکز بنایا جائے گا۔
سول اسپتال کی عمارت میں 120 سالہ تاریخی بلڈنگ ملکہ وکٹوریہ سمیت دیگر تاریخی ورثے کی عمارت کو بھی محفوظ رکھا جائے گا۔
منظور شدہ نئے توسیع منصوبےکے تحت ڈاکٹر روتھ فاوسول اسپتال کی ازسرنو تعمیر کرکے جدید تقاضوں کے مطابق اسپتال کی حدود میں 12۔12 منزلہ عمارت کے 2 ٹاور تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں میڈیکل اور سرجری یونٹ کے علیحدہ علیحدہ ٹاور تعمیر کئے جائیں گے تاکہ مریضوں کو ون ونڈو کے تحت تمام تر طبی سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔
سول اسپتال کراچی کو جدید ترین اسپتال بنانے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت نجی شراکتداروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے نجی شراکت داروں کے ساتھ سول اسپتال کے نئے ماسٹر پلان کی بھی حتمی منظوری دیدی۔
سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر خالد بخآری نے بتایا کہ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچو نے سول اسپتال کے نئے توسیعی منصوبے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سول اسپتال میں یومیہ 6 سے7 ہزار مریضوں کی تعداد معائنے اور حصول علاج کے لئے آتی ہے۔ وزیر صحت نے ان کل مریضوں کے حصول علاج کو مزید آسان بنانے کے لئے توسیع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔