ہم عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی دوا کو ریگولیٹری ادارے نے منظور کرلیا ہے تو وہ لازماً محفوظ اور مؤثر ہوگی۔ فائلیں مکمل ہوئیں، لیبارٹری کے ٹیسٹ ہوگئے، کاغذات درست نکل آئے تو گویا دعوؤں کی سچائی بھی ثابت ہوگئی۔ اور وہ دوا مریض سے اپنے وعدے پورے کرے گی۔ مگر جدید سائنسی بحث آہستہ آہستہ بتا رہی ہے کہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں۔
دوا سازی کی دنیا میں ایک خاموش تضاد کا وجود ہے۔ لیبارٹری کچھ کہتی ہے اور بعض اوقات مریض کا تجربہ کچھ اور بتاتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس کی طرف ہماری بھی پیشہ ورانہ دلچسپی کم نہیں ہوتی اور اب تو کئی محققین توجہ کھینچ رہے ہیں۔
جدید فارماسیوٹیکل تحقیق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دوا صرف ایک کیمیکل نہیں ہوتی۔ ہم دوا کو اکثر اس کے ایک فعال جز (active ingredient) تک محدود کردیتے ہیں اور اسی کو مکمل حقیقت سے تعبیر کرلیتے ہیں۔ مگر حقیقت میں دوا ایک مکمل انجینئرڈ نظام ہوتی ہے۔ اس میں دوا کے اندر سے اصل جز کے نکلنے کا طریقہ، اس کے ساتھ شامل دوسرے اجزا کا کردار، جسم میں خصوصی اس اصل جز کے پہنچنے و نکلنے کا انداز اور انسانی جسم کے ساتھ اس کا برتاؤ، یہ سب کچھ شامل ہوتا ہے۔
ہمارا ریگولیٹری نظام کئی دہائیوں پہلے کی سائنسی سمجھ پر قائم ہوا تھا، جو اس پیچیدگی کو اکثر سادہ اصطلاحات میں سمیٹ دیتا ہے۔ اگر ایک دوا میں وہی کیمیکل ہو، وہی مقدار ہو اور خون میں اس کی مقدار ایک مقررہ حد کے اندر ہو تو اسے دوسری دوا کے برابر سمجھ لیا جاتا ہے۔ اسی اصول پر دنیا بھر میں جنیرک ادویات کا نظام قائم ہے۔
عملی زندگی میں بعض اوقات مریض کو فرق محسوس ہوتا ہے۔ دوا کی شکل، اس کا ریلیز ہونے کا طریقہ یا اس کے ساتھ شامل دوسرے اجزا جو اس کے اثر کو بدلنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
کاغذ کی تحریروں پر دوائیں ایک جیسی ہوتی ہیں مگر انسانی جسم میں ان کا برتاؤ مختلف ہوسکتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا ریگولیٹری علم حقیقت کو مکمل طور پر بیان کررہا ہے یا ہم حقیقت کو چند قانونی اصطلاحات میں محدود کر دیتے ہیں؟
یہ سوال صرف فارماسیوٹیکل سائنس کا نہیں بلکہ علم کے طریقہ کار کا بھی ہے۔ ہم اکثر علم کو ایک مکمل شے سمجھتے ہیں۔ ایک بار فیصلہ ہوگیا تو گویا بات ختم ہوگئی۔ حالانکہ سائنسی سچائی ہمیشہ بدلتے ہوئے شواہد کے ساتھ آگے بڑھتی ہے یہاں سے ایک نئی بحث جنم لیتی ہے جس میں مصنوعی ذہانت کو اہم کردار دیا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کو آج کل دوا سازی کے مستقبل کا ایک بڑا ذریعہ سمجھا جارہا ہے ۔ اس سے توقع ہے کہ وہ لاکھوں تحقیقی مقالوں، کلینیکل ڈیٹا اور مریضوں کے تجربات کو ایک ساتھ دیکھ کر ایسے تعلقات تلاش کرسکتی ہے جو انسان کی نظر سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ایک خطرہ بھی ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کو وہی پرانا ڈیٹا اور وہی محدود اصطلاحات دی جائیں گی جن پر موجودہ نظام قائم ہے تو وہ بھی انہی پرانی غلط فہمیوں کو مزید مضبوط کردے گی۔
ٹیکنالوجی خود بخود سچائی پیدا نہیں کرتی؛ وہ صرف وہی علم تیز رفتار سے دہراتی ہے جو اسے دیا جاتا ہے۔ اسی لیے کچھ محققین ایک دلچسپ اصول پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صرف تصدیق نہیں بلکہ تضاد بھی تلاش کرنا چاہیے۔ یعنی سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کیا ثبوت ہے کہ دوا مؤثر ہے؟ بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ کیا ثبوت ہے کہ دوا کا اثر مختلف ہوسکتا ہے؟
یہ ہی دراصل سائنسی سوچ کی اصل روح ہے۔ سائنس آگے بڑھتی ہی اس وقت ہے جب وہ اپنے ہی دعوؤں پر سوال اٹھانے کی ہمت رکھتی ہو۔ اسی تناظر میں کچھ ماہرین دوا سازی کے ایک نئے مرحلے کی بات کرتے ہیں جسے وہ Pharma 5.0 کہتے ہیں۔
اس تصور میں دوا سازی صرف فیکٹری اور لیبارٹری تک محدود نہیں رہتی۔ اس میں مریضوں کے حقیقی تجربات، اسپتالوں کا ڈیٹا، فارماسیوٹیکل انجینئرنگ اور مصنوعی ذہانت، سب ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ یوں علم ایک ساکت دستاویز کے بجائے ایک زندہ نظام بن جاتا ہے جو مسلسل ازخود سیکھتا رہتا ہے۔ اگر اس بحث کو ہمارے اپنے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
ہماری فارماسیوٹیکل صنعت زیادہ تر سچے جینرک، جھوٹے جنیرک کے ادویات پر مشتمل ہے۔ یہاں اصل تحقیق کے مقابلے میں منظورشدہ ادویات کے نقل کی تیاری زیادہ عام ہے۔ اس صورتحال میں ریگولیٹری اعتماد اور سائنسی شفافیت دونوں انتہائی اہم ہو جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں صنعت، یونیورسٹیوں اور اسپتالوں کے درمیان وہ مضبوط تعلق موجود نہیں جو دوسرے ممالک میں ملتا ہے۔ تحقیق الگ چلتی ہے، صنعت الگ اور مریضوں کا ڈیٹا اکثر سائنسی تحقیق کا حصہ نہیں بن پاتا۔ اگر مستقبل کی طرف دیکھیں تو پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف ادویات بنانا نہیں بلکہ ادویات کے بارے میں علم کی تخلیق کرنا ہے۔ اس کےلیے ضروری ہے کہ دوا سازی کی تعلیم میں فارماسیوٹیکل انجینئرنگ، ڈیٹا سائنس اور حقیقی مریضوں کے تجربات کو شامل کیا جائے۔ اسپتالوں کے ڈیٹا کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے اور ایک مضبوط فارماکو ویجیلنس نظام قائم کیا جائے۔
دراصل مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ ہماری مفلوج ذہنیت کا ہے۔ جب تک ہم اپنے علم کو مکمل سمجھتے رہیں گے ہم اسی جگہ کھڑے رہیں گے۔ مگر اگر ہم اسے ایک مسلسل سیکھنے والا عمل سمجھ لیں تو یہی نظام زیادہ شفاف اور زیادہ مؤثر بن سکتا ہے۔ آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا ہم اپنے ہی یقین کو للکارنے اور پرکھنے کی ہمت رکھتے ہیں؟ اگر رکھتے ہیں تو مصنوعی ذہانت دوا سازی کو زیادہ انسانی، زیادہ شفاف اور زیادہ قابلِ اعتماد بنا سکتی ہے اور اگر نہیں تو وہ صرف پرانی غلطیوں کو نئی رفتار دے دے گی۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔