ایران میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ایک غیرملکی کو شخص کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ملزم کو گزشتہ برس جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے چوتھے دن پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ نے ساووجبولاگ کے علاقے سے حراست میں لیا تھا۔
ملزم کے پاس سے نقد رقم، گاڑیاں اور جدید مواصلاتی اور نگرانی کا سامان برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا اور اس پر حساس مقامات کی تصاویر اور معلومات اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کو فراہم کرنے کے الزام عائد کیے گئے تھے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے میں تمام تر قانونی تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے اور ملزم کو قانونی مدد تک رسائی بھی دی گئی تاہم ملزم پر عائد الزامات کے حق میں کوئی آزادانہ ثبوت عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
حکام نے مزید بتایا کہ ملزم کو اپنی سزا کے خلاف اعلیٰ عدالت میں جانے کا حق بھی دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت برقرار رکھی جس کے بعد آج اسے پھانسی دیدی گئی۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ مبینہ طور پر ملزم کی بھرتی آن لائن رابطے کے ذریعے کی گئی اور اسے بیرون ملک تربیت دی گئی جس کے بعد وہ ایران واپس آیا تاہم ان دعوؤں کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ملزم کا نام قریش کیوانی ہے اور اس کے پاس سویڈن کی شہریت بھی ہے اور وہ ایران میں ان افراد کی ایک طویل فہرست میں شامل ہے جنہیں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزامات میں سزائے موت دی گئی۔
سویڈن کی وزیر خارجہ ماریا مالمیر اسٹینرگارڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران میں ایک سویڈش شہری کو سزائے موت دی گئی ہے تاہم انھوں نے نام ظاہر نہیں کیا۔
بیان میں یہ تصدیق کی گئی کہ اس شخص کو جون میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم اس مقدمے کی قانونی کارروائی شفاف انصاف کے تقاضوں پر پوری نہیں اتری۔
سویڈن کی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ سویڈن نے اس کیس کو مختلف سطحوں پر بارہا ایرانی حکام کے سامنے اٹھایا اور شہری کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوششیں کیں