عالمی دہشت گردی کا تدارک

پاکستانی حکومت تو اپنے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمت بڑھنے کے انتظار میں رہتی ہے تاکہ پٹرولیم مہنگا اور حکومت کی آمدنی بڑھتی رہے


[email protected]

1990 میں پاکستان کی اپوزیشن نے امریکا کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا جس کا ثبوت یوں تو امریکا نے متعدد بار دیا مگر دوسری بار امریکی صدر منتخب ہونے والے موجودہ صدر ٹرمپ نے دہشت گردی کا جو نیا ریکارڈ قائم کیا ہے وہ ماضی میں امریکا کا کوئی صدر قائم نہیں کر سکا تھا مگر آج یہ حالات ہوگئے ہیں کہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکا کے جارحانہ مزاج کے حامل صدر کو آبنائے ہرمز پر امریکا کے اتحادی ممالک نے بھی ان کی مدد سے انکار کر دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی آبی گزرگاہ کھلوانے کے لیے اپنے بحری جہاز نہیں بھیجیں گے۔ اس انکار کے جواب میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، جرمنی اور نیٹو نے ہماری مدد نہ کی تو اس کا مستقبل برا ہوگا، اس لیے اب چین اور جنوبی کوریا آگے آئیں اور آبنائے ہرمز کھلوائیں۔

امریکی صدر یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا کا اس عالمی گزرگاہ سے کوئی تعلق ہے نہ مفاد کیونکہ اس کی بندش سے امریکا کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی وہاں سے امریکی جہاز تیل لے کر آتے ہیں مگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے دنیا میں تیل کی قلت پیدا کی ہے جس سے نرخ بھی بڑھے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا جب کہ یہ حقیقت ہے کہ امریکی خام تیل 2 فی صد مہنگا ہوگیا ہے اس قیمت میں اضافے کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

دنیا بھر میں ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ایران کو بھی آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا اور ایران کی طرف سے بھی کہا گیا کہ دنیا میں تیل کی قلت اور مہنگائی ہوگی جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو کر 6 سو روپے فی لیٹر تک قیمت بڑھ سکتی ہے۔

پاکستانی حکومت تو اپنے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمت بڑھنے کے انتظار میں رہتی ہے تاکہ پٹرولیم مہنگا اور حکومت کی آمدنی بڑھتی رہے کیونکہ پاکستان میں پٹرول، بجلی و گیس حکومت کی اہم کمائی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ حکمرانوں کو پٹرولیم کمپنیوں، بجلی بنانے والے اداروں میں اپنوں کو نوازنا ہوتا ہے اور ہر حکومت میں اپنوں کو نوازا جاتا رہا ہے۔ دو امریکی صدور جارج بش اور ان کے والد صدر بش کے دور سے دنیا میں امریکی دہشت گردی میں اضافہ ہوا تھا اور امریکا نے تیل پر قبضہ کرنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے دو مسلم ممالک عراق اور لیبیا پر جھوٹے الزامات لگا کر حملہ کیا تھا اور وہاں کی قیادت تبدیل کرا کر وہاں اپنے حامی حکمران مسلط کرائے تھے اور وہاں تیل کی پیداوار اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا شروع کی تھی۔

امریکی صدر ٹرمپ کی بے لگام طاقت نے دنیا بھر میں عالمی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں جس سے امریکی چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلوں کو محدود کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ امریکی صدر کے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کے بعد عالمی ماہرین قانون اور تجزیہ کاروں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام اور بین الاقوامی قوانین پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ دوسری بار صدر بن کر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی طاقت کے بے روک استعمال میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔ وہ منتخب ہونے کے بعد تیل پیدا کرنے والے ملک وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دنیا میں ایسا غلط کام کیا ہے کہ جس سے امریکا کی ہاں میں ہاں نہ ملانے والے ممالک بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ منفرد کام بھی کر دکھایا کہ امریکی فوج کے ذریعے رات کے وقت وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرایا اور امریکا لا کر وہاں دونوں کو قید کر رکھا ہے اور اپنی مرضی کے حکمران وہاں مسلط کرکے وینزویلا کے تیل پر قبضہ کر لیا جو اب امریکا کی مرضی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

عراق، لیبیا اور وینز ویلا کے تیل پر قبضے کے بعد امریکی صدر نے اپنے اعلانات پر عمل کرتے ہوئے ایران پر حملہ کیا اور اسرائیل سے بھی حملہ کرایا۔ ایران پر حملے سے خود امریکی اور دنیا حیران ہے کہ وہاں امریکا کا کوئی لینا دینا نہیں تھا مگر خود امریکی صدر کا مقصد ایران کے تیل پر بھی قبضہ کرنا تھا جس کے لیے انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کو جواز بنایا اور ایرانی قیادت کو تبدیل کرانے کی کوشش کی اور اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کو شہید کرا کر دنیا کو حیران اور ایرانیوں کو مشتعل اور متحد کرا دیا۔ اپنے پہلے منصوبے میں امریکا نے ایران میں حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہرے کرائے جن میں ناکام ہو کر امریکا ایک طرف ایران سے مذاکرات بھی کرتا رہا جس کی کامیابی کی امید دیکھ کر امریکا نے ایران پر خود حملہ کیا اور اسرائیل سے بھی کرایا۔ ایران سے مذاکرات کی کامیابی کا امریکا کو خوف تھا اور اس نے اپنے اصل مقصد کے لیے ایران پر حملہ کرنا ہی کرنا تھا جو اس نے کیا مگر ایرانیوں کے جذبوں کے باعث دو ہفتوں سے حملوں میں ناکام رہا ہے۔ امریکی دہشت گردی کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں جس پر اب اس کے اتحادی بھی اب اس کا ساتھ نہیں دے رہے اب امریکی اتحادیوں، یورپی یونین اور مسلم ممالک کو مل کر دنیا کو امریکی دہشت گردی کا تدارک کرنا ہوگا تاکہ دنیا امریکی جارحیت سے محفوظ رہ سکے۔

مقبول خبریں