عید کی خوشیاں: امیروں کا جشن، غریبوں کا ماتم؟

کیا پاکستانی عوام کی تقدیر میں صرف بے بسی اور انتظار ہی لکھا ہے؟ 


منیر احمد March 20, 2026
عیدالفطر ہو یا عیدالاضحیٰ، دونوں پر غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ (فوٹو: فائل)

مہنگائی، بے یقینی اور نظام کی بے حسی نے عام آدمی سے جینے کی امنگ چھین لی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسی گھٹن میں سانس لیتے ہوئے رخصت ہو جائیں گے یا اس تاریک سرنگ کے دوسرے کنارے پر روشنی کی کوئی کرن موجود ہے؟

ہمارے ملک میں ایک عجیب تضاد اور دوغلا پن جڑ پکڑ چکا ہے۔ جب بھی عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوتا ہے اور حکومت پٹرول کی قیمتوں میں چند روپے کا اضافہ کرتی ہے، تو ٹی وی ٹاک شوز سے لے کر سوشل میڈیا کے تبصروں تک ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر نکل آتی ہیں، تجزیہ نگار معیشت کی تباہی کے نوحے پڑھتے ہیں اور ہر عام آدمی اسے اپنی بقا کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔

لیکن کیا کبھی کسی نے اس ’خاموش اور سفید پوش لوٹ مار‘ پر غور کیا ہے جو ہماری عام مارکیٹ میں، ہماری آنکھوں کے سامنے، روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے؟ وہ اشیاء جن کا کوئی سرکاری ریٹ مقرر نہیں اور نہ ہی کوئی معیار جانچنے کا پیمانہ، وہاں جس کا جو جی چاہتا ہے، وہ قیمت وصول کر رہا ہے۔


حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت دو طرح کی مہنگائی ہے۔ ایک وہ جو عالمی حالات اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہے، اور دوسری وہ جو سراسر ’مصنوعی‘ اور ’انفرادی‘ ہے۔ یہاں پانچ سو روپے کی چیز بعض اوقات پانچ ہزار میں بھی فروخت کر دی جاتی ہے، اور خریدنے والے کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود گاہک کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ اسے ملنے والی چیز ’ایک نمبر‘ ہے بھی یا نہیں۔

ایک عام گاہک، جس نے بمشکل اپنی حلال کی کمائی سے چند پیسے بچائے ہوتے ہیں، وہ کیسے پہچان کرے کہ معیار کیا ہے؟ مارکیٹ میں بیٹھے دکاندار گویا شکاری کی طرح گاہک کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ’مرغی‘ پھنسے اور اسے ذبح کر دیا جائے۔

صرف دکانیں اور برانڈز ہی نہیں، ٹرانسپورٹ کا حال تو اس سے بھی کہیں زیادہ ابتر اور تکلیف دہ ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اگر 20 یا 50 روپے کا اضافہ ہو، تو رکشے، ٹیکسی اور رینٹ اے کار والے کرائے میں براہِ راست پانچ سو سے ہزار روپے تک کا اضافہ کر دیتے ہیں۔

غریب آدمی جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، وہ جب اپنے بیمار والدین یا چھوٹے بچوں کے ساتھ کسی ضرورت کے تحت سفر پر نکلتا ہے، تو اسے ان بے لگام کرایوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔ حکومت پٹرول کے ریٹ تو بڑھا دیتی ہے، مگر اس کے نتیجے میں عوام پر ہونے والے اس ’نفسیاتی بوجھ‘ اور اضافی کرایوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔

آج پاکستان میں ایک طرف بولنے کی اتنی آزادی ہے کہ آپ کسی کی بھی پگڑی اچھال دیں، جھوٹ بولیں یا فیک نیوز پھیلائیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ لیکن دوسری طرف ’لوٹنے‘ کی بھی اتنی ہی کھلی آزادی ملی ہوئی ہے۔ حال ہی میں بحرین سے ایک خبر نظر سے گزری جہاں فیک نیوز اور غلط ویڈیوز پھیلانے والے 60 افراد کے خلاف ریاست نے ایسا سخت ایکشن لیا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ وہاں بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں دی گئیں کیونکہ ریاست جانتی ہے کہ جھوٹ معاشرے کو کھا جاتا ہے۔ وہاں قانون کا خوف موجود ہے، لیکن ہمارے ہاں نہ بولنے پر کوئی گرفت ہے اور نہ ہی اس بے لگام ناجائز منافع خوری پر۔ ایسا لگتا ہے کہ لوٹ مار کرنے والوں کو یقین ہے کہ قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔


اگر ہم روزمرہ زندگی کے دیگر مسائل کو دیکھیں تو دماغ گھوم کر رہ جاتا ہے۔ آپ کسی نجی اسپتال چلے جائیں، وہاں ڈاکٹر کی فیس سے لے کر ٹیسٹوں تک، ہر جگہ ایک الگ ہی ریٹ لسٹ چل رہی ہے۔ کسی لیبارٹری میں ایک ٹیسٹ ایک ہزار کا ہے تو دوسری جگہ وہی ٹیسٹ دو ہزار کا۔ کیا ان چیزوں کا کوئی معیار مقرر نہیں؟ اسی طرح اسکولوں کی فیسیں، کتابوں کی قیمتیں اور یہاں تک کہ گلی محلوں میں ملنے والی عام اشیائے خوردونوش کا معیار بھی اللہ کے بھروسے پر ہے۔ ایک دکاندار دودھ میں پانی ملا رہا ہے تو دوسرا زائد المیعاد اشیاء پر نیا لیبل لگا کر بیچ رہا ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو ہر پاکستانی کے گھر کی کہانی بن چکے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست صرف پٹرول اور چینی کی قیمتوں تک محدود ہے؟ کیا غریب آدمی کا تحفظ صرف بیانات تک ہے؟ اگر حکومت چاہے تو پٹرول اور پھلوں کی طرح ہر چیز کا ریٹ مقرر کر سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر پراڈکٹ پر کوالٹی کے لحاظ سے ’سرکاری ریٹ لیبل‘ لگنا چاہیے۔ اگر ایک جوتے یا کپڑے کی تین اقسام ہیں، تو ان تینوں کے ریٹ واضح اور فکس ہونے چاہئیں۔ گاہک کو پتا ہونا چاہیے کہ وہ ’اے کوالٹی‘ کے پیسے دے رہا ہے یا ’بی کوالٹی‘ کے۔ یہ صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ مارکیٹ میں باقاعدہ ایسی ٹیمیں ہونی چاہئیں جو چھاپے ماریں اور موقع پر جرمانہ کریں۔

ایک اور اہم پہلو ’ڈیجیٹل سسٹم‘ کا نفاذ ہے۔ آج کے دور میں جب سب کچھ آن لائن ہو رہا ہے، تو کیا ہماری وزارتِ تجارت ایسا کوئی سسٹم یا ایپ نہیں بنا سکتی جہاں ہر برانڈ کی اصل قیمت درج ہو؟ تاکہ جب کوئی گاہک مال یا دکان پر جائے تو وہ بار کوڈ اسکین کر کے دیکھ سکے کہ اس چیز کی اصل قیمت کیا ہے۔ جب تک خریدار کو بااختیار نہیں بنایا جائے گا، یہ منافع خور ایسے ہی اپنی جیبیں بھرتے رہیں گے۔ یہ وہ ریلیف ہے جس کی عوام کو پٹرول سے بھی زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ پٹرول تو گاڑی والا ڈلواتا ہے، لیکن کپڑا اور جوتا تو ہر غریب کی ضرورت ہے۔

لوہے اور تعمیراتی سامان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ لوہا ایک ایسی چیز ہے جو وزن کے حساب سے اور ایک مقررہ عالمی و مقامی ریٹ پر ملتا ہے۔ وہاں خریدار کو اطمینان ہوتا ہے کہ اسے تول میں پورا مال ملا ہے اور ریٹ بھی مارکیٹ کے مطابق ہے۔ تو پھر یہی اصول زندگی کی دیگر اشیاء پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟ کیوں ایک برانڈ کو یہ اجازت دی جاتی ہے کہ وہ پانچ سو روپے کے سوتی کپڑے پر اپنا لیبل لگا کر اسے آٹھ ہزار میں فروخت کرے؟ کیا یہ منافع خوری نہیں ہے؟ کیا یہ عوام کا استحصال نہیں ہے؟

حکومت کو اب صرف بیانات سے نکل کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ تھوڑا تھوڑا کر کے ہی سہی، مگر عمل درآمد کا آغاز تو ہونا چاہیے۔ پہلے بڑے شہروں کی بڑی مارکیٹوں سے آغاز کریں، پھر تحصیل کی سطح تک جائیں۔ جب تک ایک دو بڑے منافع خوروں کو عبرت کا نشان نہیں بنایا جائے گا، تب تک یہ ’آزادیٔ لوٹ مار‘ ختم نہیں ہوگی۔

عوام کو بھی چاہیے کہ وہ شعور حاصل کریں اور جہاں ناجائز منافع خوری دیکھیں، وہاں خاموش رہنے کے بجائے آواز اٹھائیں۔ لیکن آواز اٹھانے کا فائدہ تبھی ہے جب پیچھے ریاست کی لاٹھی مضبوط ہو۔

ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم بطور معاشرہ کہاں کھڑے ہیں؟ ہم وہ لوگ ہیں جو رمضان میں بخشش کی دعائیں مانگتے ہیں اور عید کے آتے ہی اپنے ہی بھائیوں کی جیبیں کاٹنے لگتے ہیں۔ کیا ہماری عبادات اور ہماری تجارت میں یہ تضاد ہمیں کبھی ایک کامیاب قوم بننے دے گا؟ بولنے کی آزادی ضرور ہونی چاہیے، لیکن کسی کی عزت اچھالنے یا فیک نیوز پھیلانے کی نہیں۔ اور کاروبار کی آزادی ضرور ہونی چاہیے، لیکن کسی غریب کو لوٹنے کی نہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری پہچانے اور عوام کو اس اندھیر نگری سے نجات دلائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
منیر احمد
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔

مقبول خبریں