اللہ کا کرم ہوا اور پانچ جمعتہ المبارک کا رمضان گزار کر ہم نے انعام کے طورپر بروز ہفتہ عید منائی۔ رمضان کا پہلا عشرہ اللہ کے فضل اور رحمت سے سرد تھا ، موسم انتہائی خوش گوار اور دن چھوٹے کہ دس روزے گزرنے کا علم بھی نہ ہوا اور پھر یک لخت موسم نے کروٹ بدلی اور درجہء حرارت بڑھ گیا۔
دن چھوٹے سہی مگر کافی گرم ہو گئے اور نصف روزہ گزار کر حالت خراب ہوجاتی تھی، ناطاقتی اور کسملندی ایسی کہ کچھ کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا… جی تو جو بھی چاہے مگر ہم خواتین کو کہاں شارٹ لیو بھی ملتی ہے کہ کسی دن افطاری بنانے کا ناغہ کر لیں ، اللہ ہی ہمیں اس کا اجر دے سکتا ہے۔
دل سے دعائیں نکلتی تھیں کہ گرمی کا زور ذرا ٹوٹے تو روزہ گزارنا سہل ہو جائے۔ اپنی علالت اور دوائیں ایسی ہیں کہ حلق میں جیسے کانٹے اگ آتے تھے اور یہ بھی سننا پڑتا تھا کہ خود پر جبر کر کے روزہ کیوں رکھا جائے۔
مگر یہ ایک دل ہے نا، اسے معلوم ہے کہ ہم یہ فرض چھوڑنا نہیں چاہتے اور سال میں ایک بار آنے والے اس ماہ مبارکہ کی برکتوں سے فیض یاب ہونا چاہتے ہیں ۔ اللہ نے سن لی اور آخری دس روزے تو یوں لگ رہا تھا کہ دنیا میں ہی جنت مل گئی ہو۔
سردیوں کے جو کپڑے اور بستر درمیان کے دس روزوں میں محنت کر کے سمیٹے تھے، وہ ایک ایک کرکے واپس نکلنے لگے۔
آخری روزے میں تو پیک کی ہوئی رضائی بھی نکالنا پڑ گئی، پنکھے تک بند ہیں اور پھر بھی سردی تھی۔ اللہ کا ہم پر خاص فضل و کرم ہوا اور ہم اس کا جتنا بھی شکر بجا لائیں وہ کم ہے۔
حکومت کی طرف سے پٹرول بم نے تو ارمانوں کا خون کردیا لیکن تان پھر وہیں آ کر ٹوٹی کہ تعلیمی ادارے بندکر دیے جائیں، اس سے اس پٹرول کی بچت ہو گئی ہو گی جو تمام بچے سویرے اسکول کالج جاتے ہوئے پی کر جاتے تھے مگر جو حرج ان کی تعلیم کا ہو رہا ہے، اس کی بھی کسی کو فکر ہے؟؟
پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے اس بار تو کمر ہی توڑ دی مگر انسان کیا کرے، مجبوری تو مجبوری ہے۔ اسکول کالج بند مگر بازار اور دکانیں تو کھلی تھیں، جو وقت مائیں بچوں کو اسکول لانے لے جانے میں گزارتی تھیں ، وہ تمام وقت بازاروں اور مالز میں گزرنے لگا ۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی کہ دنیا کے حالات اور پٹرول کی قیمتوں میں بے انتہا اضافے کے باعث امسال شاید پاکستانی (ملک میں رہنے والے) شاید عید منا ہی نہ سکیں اور حساب کتاب ہی کرتے رہ جائیں کہ کہاں سے بچائیں اور کہاں سے لائیں کہ عید کی خوشیاں منا سکیں۔
میرے حساب سے اس بار عید کی رونقیں ماند پڑی ہوں گی، بازار سامان سے بھرے ہوں گے اور دکاندار انتظار کرتے رہ جائیں گے مگر کوئی خریدار ہی نہ ہو گا مگر دیکھنے کو بالکل اس کے الٹ ملا۔ گوشت لینے گئی تو قصاب نے کہا ، ’’ ماں جی، گھنٹے کے بعد آجائیں، رش کافی ہے، آپ کو روزے میں خواہ مخواہ انتظار کرنا پڑے گا ۔‘‘
ایک گھنٹے کے بعد مجھے بھلاگوشت اچھا کہاں ملے گا، سوچا کہ بیٹھنے کو جگہ مل جائے تو بیٹھ جاؤں ۔ ’’ آپ کو جو کچھ چاہیے، وہ مجھے فون پر پیغام بھیج دیں، میںآپ کے لیے رکھ لوں گا۔‘‘ اس نے میرا ذہن پڑھ لیا تھا۔
اتنی دیر میں پھل اورسبزی لے لیتی ہوں … سوچ کر نزدیکی سبزی اور پھل کی دکان پر پہنچی اور وہاں ایک اور میلہ لگا ہوا دیکھ کر بوکھلا گئی، اب کیا اس کو بھی فہرست دے کر جانا پڑے گا، باقاعدہ دکان میں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔
خالی ٹوکری مانگی تو وہ بھی نہ ملی، ایک پھل والا خالی کریٹ دکاندار کے چھوٹے نے میرے قریب رکھا اور کہا کہ جو کچھ بھی مجھے لینا ہے وہ اس کریٹ میں ڈالتی جاؤں ، بعد میں وہ میری گاڑی میں وہی کریٹ رکھ دے گا۔
صاحب باربر کی دکان سے دو دفعہ ہو کر لوٹ کر آئے تھے، ان کا اسٹیمنا نہیں تھا کہ وہ ایک گھنٹہ انتظار میں بیٹھ جائیں ۔ دو دفعہ ہو کر واپس آ گئے تھے، اس امید پر کہ شاید وہ کسی ایک بار جائیں تو لوگ بالکل نہیں ہوں گے مگر یہ بھی ایک اندازہء غلط تھا، کسی ایک بار تو انھیں جا کر ایک گھنٹہ انتظار کرنا ہی تھا۔
لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ہم کسی غریب ملک کے وہ عوام ہیں جن کے حکمرانوں سے لے کر نیچے تک سب مانگ تانگ کر گزارا کرتے ہیں۔ ہم ایک ایسا غریب ملک ہیں جس کے لوگ امیر ہیں، مانگنے والا بھی امیر ہے اور دینے والا بھی۔
اس سال موسم نے کافی آنکھ مچولی کھیلی، پہلے دوسرے اور تیسر ے عشرے میں موسم نے تین رنگ بدلے۔ لوگو ں نے اس پر کافی میم بھی بنائے کہ یہ وہ ماہ رمضان ہے جس کا پہلا عشرہ رضائیوں، دوسرا پنکھوں اور اے سی میں اور تیسرا عشرہ واپس کمبلوں اور سویٹروں کے ساتھ گزرا ہے ۔
جتنی خوشی امیر ترین کو ہوتی ہے، اتنی ہی ایک سفید پوش کو اور ایک غریب کو بھی ہوتی ہے، مزدور بھی اپنے گھر والوں کو ہر روز کی سادہ دال روٹی سے بہتر ایک دن کھانا کھلا کر خود وہ خوشی محسوس کرتا ہے جو عام حالات میں اسے میسر نہیں ہوتی۔
یہی ہماری زکوۃ اور فطرانے کا بہترین مصرف ہے کہ ہم اپنی دولت کو بھی مصفا کر سکیں اور اس سے کسی کے چہرے پر وہ مسکراہٹ بکھیر دیں جو کہ ہمیں ثواب کی صورت میں ملے گی۔
اللہ تعالی ہمارے احسان کو اپنے پاس نہیں رکھتا ہے بلکہ ہمیں اس کے صلے میں اس سے بہت بہترین اور بے بہا عطا کرتا ہے ۔ آپ سب کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں اور اللہ تعالی آپ سب کی ماہ رمضان کی عبادات قبول فرمائے ۔ آمین