ایک ارب ڈالر یورو بانڈ کی ادائیگی، بیرونی معیشت کا امتحان

رواں مالی سال کے دوران 25 ارب ڈالر سے زائد بیرونی مالی ضروریات کا سامنا


اسد حیات March 23, 2026

کراچی:

پاکستان کی بیرونی معیشت ایک مرتبہ پھر دباؤکاشکار ہے،کیونکہ عید کے فوراً بعد ایک ارب ڈالر کے یورو بانڈکی ادائیگی متوقع ہے، جس نے زرِمبادلہ ذخائر، قرضوں کے بوجھ اور بیرونی مالیاتی انحصار سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق 2026 کے آغاز تک پاکستان کے زرِمبادلہ ذخائر تقریباً 8 سے 9 ارب ڈالرکے درمیان ہیں، جو 2023 کے شدید بحران کے مقابلے میں بہتری توظاہرکرتے ہیں، تاہم یہ اب بھی صرف ڈیڑھ سے دو ماہ کی درآمدات کیلیے کافی ہیں،جو عالمی معیار سے کم ہے۔

وزارتِ خزانہ کے اعدادوشمارکے مطابق پاکستان کامجموعی بیرونی قرضہ اور واجبات 125ارب ڈالر سے تجاوزکرچکے ہیں،جبکہ رواں مالی سال کے دوران 25 ارب ڈالرسے زائد بیرونی مالی ضروریات کاسامناہے،صورتحال میں ایک ارب ڈالرکی یورو بانڈ ادائیگی مارکیٹ کے اعتماد کیلیے اہم امتحان سمجھی جارہی ہے۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنے قرضوں کی ادائیگی کیلیے دوست ممالک سے رول اوور،عالمی مالیاتی اداروں کی معاونت اورمحدودوسائل کاسہارالیاہے۔

عالمی بانڈمارکیٹس تک رسائی کمزورکریڈٹ ریٹنگ اور بلند رسک پریمیم کے باعث تقریباً بند ہو چکی ہے۔آئی ایم ایف پروگرام اس وقت معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار اداکررہاہے،جس کے تحت نہ صرف مالی معاونت مل رہی ہے، بلکہ دیگر عالمی اداروں سے بھی فنڈنگ کے راستے کھل رہے ہیں، تاہم اس کے ساتھ سخت شرائط اور اصلاحات بھی جڑی ہوئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کو درپیش اصل مسئلہ اس کی کمزور برآمدی بنیادہے، برآمدات 25 سے 30 ارب ڈالرکے درمیان محدودہیں،جبکہ درآمدات اس سے کہیں زیادہ رہتی ہیں،جس کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ برقراررہتاہے،بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر،جو سالانہ تقریباً 30 ارب ڈالر تک پہنچتی ہیں، اہم سہارا ہیں، لیکن یہ بھی عالمی حالات کے اثرسے مکمل محفوظ نہیں۔

معاشی ماہرین کاکہناہے کہ قلیل مدتی اقدامات کے بجائے طویل مدتی اصلاحات ناگزیر ہیں،جن میں برآمدات کا فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط شامل ہیں۔

مقبول خبریں