عیدالفطر کی خوشیوں کے موقع پر کوئٹہ کی مارکیٹوں میں ایک بار پھر مہنگائی کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں تین دن کے مختصر عرصے میں تقریباً 150 روپے فی کلو کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے شہریوں کے چہرے پر تشویش کی لکیریں نمایاں ہو گئی ہیں۔
مارکیٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اب صاف شدہ مرغی کا گوشت 750 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے جبکہ کچھ جگہوں پر یہ 780 روپے تک پہنچ گیا ہے۔
زندہ مرغی کا ریٹ بھی 500 سے 510 روپے فی کلو کے قریب ہے۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا ہے جب مٹن 2400 سو سے 2500 اور بیف پہلے ہی 1400 سے 1600 روپے فی کلو کے درمیان مہنگے داموں دستیاب ہیں۔
دکانداروں اور پولٹری ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پولٹری فارمز سے چکن مہنگے ریٹ پر مل رہاہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ، فیڈ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور عید کے باعث طلب میں اچانک اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایک بڑے پولٹری تاجر نے بتایا کہ "فارم لیول پر لاگت بڑھ گئی ہے، اس لیے ریٹ خود بخود اوپر چلا گیا ہے۔ شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک متوسط طبقے کے شہری محمد بخش نے بتایا، مٹن اور بیف تو برسوں سے ہماری پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں چکن کم از کم سستا ہوتا تھا کہ ہفتے میں ایک دو بار گھر میں بن جاتا۔ اب یہ بھی ریٹائرڈ شخص یا نوکری پیشہ کے لیے خواب بن گیا ہے۔
شہریوں کی اکثریت کا مطالبہ ہے کہ حکومت نہ صرف عید کے دوران بلکہ مستقل بنیاد پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائے، تاکہ غریب اور متوسط طبقے پر مہنگائی کا بوجھ کم ہو سکے۔