آج کے مسلمان؟

طاغوتی طاقتیں کمزور قوموں کی سیاسی اور عسکری قیادتیں خرید لیتی ہیں



تاریخ اٹھا کر دیکھیے، مسلمانوں نے بے شمار جنگیں لڑی ہیں اور اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ مسلمانوں نے ہمیشہ امن و سلامتی کو ترجیح دی ہے لیکن جہاں کہیں دشمن نے اپنی حد سے تجاوز کی، مسلمانوں نے انہیں عبرتناک شکست دی ہے۔

نبی کریمؐ نے کفار کے مظالم اور شرارتوں سے تنگ آکر مدینہ ہجرت کی اور جب کافروں نے مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی کوششوں میں آخری حدوں کو پار کرلیا تو نبی کریمؐ نے ان کے خلاف اعلان جنگ کیا اور یوں غزوات کا آغاز ہوا۔ کافروں کے خلاف جنگوں میں کامیابی کا اصل راز نبی کریمؐ کی بہترین حکمت عملی، ایمانی طاقت اور ساتھیوں کی مخلصانہ اور بے لوث قربانی کا جذبہ تھا۔

آپؐ کے بعد مسلمانوں کے مابین اقتدار کی جنگیں شروع ہوئیں۔ حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد خانہ جنگیوں نے مسلمانوں کو کمزور کردیا۔ اس مضمون کا مقصد مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور تنازعات بیان کرنا نہیں بلکہ ان مجموعی کمزوریوں کا بیان ہے، جس کی وجہ سے ’’مسلمان جنگ نہیں لڑسکتے‘‘۔

آج کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری دولت اور ہوس کی پرستش ہے۔ جو قومیں دولت اور ہوس کی پجاری بن جاتی ہیں، وہ کبھی جنگیں نہیں لڑ سکتیں۔ جنگیں لڑنے اور دشمن کو شکست دینے کےلیے بنیادی چیز ایمان کی طاقت ہے اور جہاں ایمان ہوتا ہے وہاں دولت اور ہوس کا گزر نہیں ہوتا۔ مسلمانوں نے جب تک اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمانِ کامل رکھا تو ان کے دل سے دنیا کی ہوس اور وقعت نکل گئی۔ دشمن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کی ہیبت بٹھائی اور انہوں نے جس سمت سفر شروع کیا، کامیابی نے ان کے قدم چومے۔

فاتح خیبرحضرت علیؓ، خالد بن ولیدؓ، محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، ارطغرل غازی، عثمان غازی اور پھر برصغیر پاک وہند میں سلطان حیدر علی اور سلطان ٹیپو جیسے مجاہدین نے میدانِ جنگ میں اپنی بہادری کی داستانیں چھوڑی ہیں۔ ان تمام جنگی کامیابیوں کے پیچھے وہی جذبہ کارفرما تھا، یعنی ایمانی طاقت اور پھر اس کے ساتھ ساتھ جنگی مہارت، بہادری اور اپنے ساتھیوں کا مخلص ہونا۔ یہ وہ عناصر ہیں، جس کی بدولت مسلمانوں نے ہمیشہ دنیا پر حکمرانی کی ہے، مگراب حالات بدل گئے ہیں۔

مسلمان اس قدر مغلوب ہوگئے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی ان کے خلاف سازش تیار ہوجائے تو راتوں رات کامیاب ہوجاتی ہے۔ اہل باطل اس قدر طاقتور ہوگئے ہیں کہ وہ جہاں چاہیں اپنے مفاد اور وہاں کے وسائل کےلیے کسی مسلمان ملک پر حملہ آور ہوجائیں اور مسلمانوں کو اپنا غلام بنائیں، آج کے مسلمان کبھی دشمن کے خلاف مزاحمت نہیں کرسکتے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ آج کے مسلمان دولت اور ہوس کے اس قدر پجاری ہوچکے ہیں کہ ان کے اندر سے ایمان کا جذبہ بالکل ختم ہوچکا ہے۔ اہل باطل کو ان کے احساسات اور جذبات کا ادراک ہے۔ اس لیے وہاں کی اعلیٰ ذہانتوں اور بہادر لوگوں کو مہنگے داموں خرید لیتے ہیں۔ یہ لوگ ضرورت کے وقت خصوصاً جنگ کے میدانوں میں دشمن کےلیے سہولت کاری کرتے ہیں اور دشمن کا کام آسان ہوجاتا ہے۔

نبی کریمؐ نے جنگِ بدر میں ایک ہزار کے مقابلے میں تین سو تیرہ مجاہدین کے ساتھ بازی پلٹ دی تھی، کیونکہ یہی تین سو تیرہ مخلص تھے اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے کےلیے ایمان کا سودا نہیں کرتے تھے۔ مسلمانوں کے اندر جب تک میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگ موجود ہوں گے، دشمن کے ہاتھوں ان کی شکست یقینی ہوگی۔

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل نے ہر محاذ پر ایڑی چوٹی کا زور لگایا، مگر وہ اس کو زیر نہ کرسکے، کیونکہ اہل ایران منظم تھے۔ پوری قوم اپنی فوج کے پشت پر کھڑی تھی۔ ایران ایک لمبے عرصے سے دنیا سے کٹا رہا، جس کی وجہ سے ایرانی انٹیلی جنس اور دیگر اعلیٰ افسروں کو دشمن کا آلہ کار بننے کا کم موقع ملا تھا۔ اس کے باوجود بھی ایران میں جو اعلیٰ سطح پر شہادتیں ہوئیں، ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی سازش برآمد ہوئی۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں دشمن کی ترقی نے بھی مسلمانوں کو اذیت سے دوچار کردیا ہے۔ جس کی مثال ایران میں اپنے ٹارگٹ کو ہٹ کرنے کےلیے چپ کی شکل میں ملتی ہے۔ دشمن اس چھوٹی سی چپ کو اپنے جاسوس کے ذریعے متعلقہ ٹارگٹ تک پہنچا دیتے ہیں اور پھر وہ آسانی کے ساتھ اپنے ٹارگٹ کو ہٹ کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں دشمن کےلیے جاسوسی کا کام کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا حکم ہے۔ بہرحال ایران کی مثال دیگر اسلامی دنیا سے یکسر مختلف ہے۔ وہاں انٹیلی جنس کا ایک منظم سسٹم موجود ہے، وہ ہر قسم کے مشکوک افراد کی کڑی نگرانی کرتے ہیں اور ملک کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو سرعام سزائیں ہوتی ہیں۔

آج کی مہذب اسلامی دنیا یورپ اور امریکا کی اس قدر غلام بن چکی ہے کہ کمزور اسلامی ممالک کا بچہ بچہ اہل یورپ اور امریکا کو ترقی کے نصف النہار پر سمجھ لیتا ہے اور ان کی غلامی اور خدمت کو اپنے لیے وجہ افتخار سمجھتا ہے۔ طاغوتی طاقتیں کمزور قوموں کے سیاسی اور عسکری قیادتیں خرید لیتی ہیں اور وقت آنے پر ان کی خدمات حاصل کرکے ان سے اپنا کام کروا لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید جنگوں میں مسلمانوں کی کمزوریاں کسی سے پوشیدہ نہیں اور ان ہی کمزوریوں کے بل بوتے پر آج امریکا دنیا پر حکمرانی کررہا ہے۔ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چاہے، اپنے عسکری اڈے قائم کرلے، وہاں سے وہ کسی بھی ملک کے خلاف فوجی کارروائیاں کرے اور اپنے اہداف حاصل کرے۔ سہولت کاری کمزور قوموں کے اپنے ہی کروالیتے ہیں، کیونکہ کمزور قوم کا بڑا المیہ دولت اور ہوس کی پرستش ہے جبکہ اہل باطلِ کے ہاں ان چیزوں کی فراوانی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
محمد پرویز بونیری
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔