ٹرمپ ایران میں ایسا دوست لیڈر چاہتے ہیں جو امریکا مردہ باد کے نعرے نہ لگائے؛وائٹ ہاؤس

ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تقریباً ختم کردیا ہے، کیرولین لیوٹ کی پریس بریفنگ


ویب ڈیسک March 25, 2026

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے جنگ بندی کے لیے شرائط نہ مانگیں تو سخت جنگی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکا اس وقت ایران کے خلاف بڑی جنگی کارروائی میں مصروف ہے اس لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی باضابطہ منظوری لینے کی ضرورت نہیں۔

پریس بریفنگ کے دوران لیوٹ نے بتایا کہ امریکا کا ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری چار سے چھ ہفتوں پر محیط ہوگا اور اس وقت جنگ اپنے 25ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔

ایران کی جوہری صلاحیتیں تقریباً ختم 

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دوران امریکا نے اب تک ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور ایران کی بحری و دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ایران کی جوہری صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوچکی ہیں اور ایرانی قیادت اب موجودہ صورتحال سے نکلنے کا محفوظ راستہ تلاش کر رہی ہے۔

صدر ٹرمپ مثبت مذاکرات میں مصروف ہیں 

کیرولین لیوٹ نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ گزشتہ چند دنوں سے ایران کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت میں بھی مصروف ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی شرائط قبول نہ کیں تو مزید سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں

ترجمان وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ جنگ سے قبل کانگریس کے اہم رہنماؤں کو آگاہ کردیا گیا تھا اور اب بھی قانون سازوں کو بریفنگ دی جا رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ آئینی تقاضوں کے مطابق کام کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی آئین کے تحت جنگ کا باضابطہ اعلان کانگریس کرتی ہے تاہم حالیہ دنوں میں کانگریس نے صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قراردادیں مسترد کر دی تھیں۔

اس حوالے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اب کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے وہ ملکی مفاد میں جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

مقبول خبریں