ایک ٹیسوری سب پر بھاری، گورنری سود سمیت واپس لیں گے، فاروق ستار

28 ویں ترمیم کو پاس ہونا چاہیے ورنہ کراچی وفاق کے حوالے ہو، سینیئر رہنما ایم کیو ایم


کورٹ رپورٹر March 26, 2026

کراچی:

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ 28 ویں ترمیم کو پاس ہونا چاہیے ورنہ کراچی وفاق کے حوالے ہو، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے کراچی کی پیٹھ پر چھرا گھونپا، نون لیگ نے کہا کہ وہ ہمارے گورنر سے خوش ہیں، ایک ٹیسوری سب پر بھاری، گورنری سود سمیت واپس لیں گے۔

سندھ ہائیکورٹ میں کراچی اسٹریجک ڈیویلپمنٹ پلان 2020 کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آج انسانی حقوق کی درخواست پر آخری سماعت تھی۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں و حامی اس درخواست کی حمایت میں آئے تھے۔ کراچی کے بیٹے طارق منصور ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2007 میں ایک کراچی ماسٹر پلان بنایا گیا تھا۔ کے ایم سی نے اس ماسٹر پلان کو منظور کرلیا لیکن سندھ حکومت نے کے ایم سی کے ماسٹر پلان کو 2018 کو منظور کیا، لیکن 2018 سے آج تک اس ماسٹر پلان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ الٹا اس ماسٹر پلان کی سخت خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کی زمینوں کی بندر بانٹ ہوئی ہے، شہر کے ساڑھے 4 کروڑ لوگوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا۔ کراچی کے شہریوں کو حق ہے کہ وہ جانیں زمینوں کی بندر بانٹ کیسے ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس ماسٹر پلان کے مطابق ایک مثالی ایئرپورٹ بننا تھا جو کہ سپر ہائے وے پر بننا تھا، جہاں آج نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بنی ہوئی ہے۔ وہاں پر دنیا کا مثالی ایئرپورٹ بننا تھا۔

فاروق ستار نے کہا کہ کس کی اجازت سے ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کی گئی۔ ایئرپورٹ کی زمین 15 ہزار ایکڑ تھی جو کہ اب وہاں پر ہاؤسنگ اسکیم بن گئی تھی۔ اس ایئرپورٹ سے 50 سے 100 ارب روپے ماہانہ بچت ہوتی۔ خطے میں جو جنگ چل رہی ہے تو دوسرے ممالک کے جہاز جدید ایئرپورٹ پر اتارے جا سکتے تھے، آرام سے پارک ہوتے۔ آج اگر یہ ایئرپورٹ بن گیا ہوتا تو صرف کراچی کے شہریوں کا نہیں بلکہ پورے ملک کا فائدہ ہوتا۔ عدالت سے گزارش کروں گا کہ ہمیں آپ کی توجہ اور سنجیدہ رویہ چاہیے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اس ماسٹر پلان کے تحت ایجوکیشن سٹی کیلیے 9 ہزار ایکڑ مختص کی گئی تھی۔ مال مفت دل بے رحم ہے، کراچی کی زمینوں کی بندر بانٹ ہو رہی ہے۔ کراچی کے شہریوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ اس شہر کو جدید شہر بننے سے روکا گیا ہے۔ بھائی یہاں بادشاہت چل رہی ہے، میرا سلطان سیریز چل رہی ہے، اشرفیاں بٹ رہی ہیں، زمینوں پر قبضے کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن سٹی کی 7 ہزار اور ایئرپورٹ کی 15 ہزار ایکڑ زمین بھی گئی تھی۔ میڈیا سٹی، آئی ٹی سٹی، آٹو موبل سٹی کی زمینوں کی بندر بانٹ کی گئی تھی۔ قبرستان کی زمینیں بھی اس ماسٹر پلان میں تھی۔

فاروق ستار نے کہا کہ یہ ماسٹر پلان ایم کیو ایم کے دور میں بنایا گیا تھا، یہ ماسٹر پلان نعمت اللہ نے نہیں ایم کیو ایم نے بنایا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جائے۔ عدالتی حکم پر عمل درآمد تک نہیں کیا گیا، ایک لاکھ لوگوں نے اس درخواست پر دستخط دیے ہیں۔ آج ایک ہزار شہری عدالت میں موجود ہیں لیکن آئندہ سماعت پر ہزاروں لوگ عدالت آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس ماسٹر پلان کے تحت سفارت خانوں کے لیے بھی زمین رکھی گئی تھی۔ میڈیا والوں کے لیے میڈیا سٹی بننا تھا اس کی زمین بھی کھا گئے۔ خالد مقبول صدیقی کی ہدایت پر ہم سب یہاں آئے ہیں۔ ایک ہمارا گورنر ہٹایا گیا ہے، ہم تمہارے 8 آئینی عہدے کھا جائیں گے۔ نون لیگ کہتی ہے کہ وہ ہمارے گورنر سے خوش ہیں، ایک ٹیسوری سب پر بھاری، گورنری سود سمیت واپس لیں گے۔

فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کو ذاتی مفادات کا کھلونا بنا لیا ہے۔ ملکی ترقی محدود ہوگئی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں کراچی کے عوام بڑے دھرنے کی تیاری کریں۔ کب تک وڈیرے جاگیردار پیدا ہوتے رہیں گے۔ کراچی والوں کو زندہ رہنے کا حق چاہیے۔ عدالت حق نہیں دے رہی تو کراچی والوں کے پاس کیا بچے گا۔

ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما نے کہا کہ 28 ویں ترمیم کو پاس ہونا چاہیے ورنہ کراچی وفاق کے حوالے ہو۔ 28 ویں ترمیم نہیں تو پھر نئے انتظامی یونٹس ہوں۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے کراچی کی پیٹھ پر چھرا گھونپا۔ بھتے لیے جا رہے ہیں۔ ڈمپر، کنٹینر اور گٹر بچوں کو نگل رہے ہیں۔