فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی فوج کے سربراہ نے ویڈیو کانفرنس میں بحرِ عرب اور خلیج فارس کے درمیان واقع آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بحال کرنے کے حوالے سے 35 ممالک کے وفود کو بریفنگ دی۔
اس ہنگامی اجلاس کا مقصد وہ ممکنہ طریقے تلاش کرنا تھا جن کے ذریعے جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو محفوظ بنایا جا سکے تاکہ عالمی تجارت دوبارہ کبھی متاثر نہ ہوں۔
فرانسیسی وزارت دفاع نے کہا کہ یہ اجلاس موجودہ جنگی کارروائیوں سے الگ اور صرف دفاعی نوعیت کا ایسا منصوبہ تیار کرنا ہے کہ جب میزائل اور ڈرون حملوں میں کمی آئے تو کمرشل اور غیر فوجی جہازوں کے لیے راستہ بحال کیا جائے۔
چند ممالک نے واضح کیا ہے کہ فوری فوجی آپریشن اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک لڑائی میں کمی نہیں آتی اور تمام اقدامات دفاعی اور بحری تحفظ کی نوعیت کے ہوں گے تاکہ تیل اور بندرگاہی تجارت کو محفوظ بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا اور کسی بھی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکرز کو گزرنے نہیں دیا جا رہا ہے۔