ایران میں اسرائیلی حملے میں پاکستانی شہری شہید، اہل خانہ جسد خاکی کے منتظر

چاہ بہار بندرگار پر 23 مارچ کو میزائل حملے میں نشانہ بننے والی کشتی میں دو پاکستانی موجود تھے، شہید کے لواحقین


شاہ میر خان March 29, 2026
فائل/فوٹو

ایران کی بندرگاہ چابہار پر اسرائیلی حملے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے شہری یاسر خان شہید ہوگئے جن کا جسد خاکی تاحال وطن واپس نہ پہنچ سکا، شہید نوجوان کے اہل خانہ اپنے پیارے کے آخری دیدار کے منتظر ہیں۔

کراچی کے ضلع کیماڑی کے علاقے ماڑی پور میں واقع یونس آباد کا شہری یاسر خان نے 6 ماہ قبل ایران کی چابہار بندررگاہ پر ملازمت حاصل کی تھی جہاں وہ ڈک بوٹ پر فرائض انجام دے رہا تھے لیکن گزشتہ ماہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کیے گئے حملوں کے دوران ایران کی چابہار بندرگاہ پر ایک میزائل کی زد میں آ کر شہید ہوگئے۔

شہید کے بھائی واجد خان نے بتایا کہ 23 مارچ کو ہونے والے میزائل حملے کی اطلاع 24 مارچ کو یاسر خان کے ساتھ بندرگاہ پر کام کرنے والے کراچی کے علاقے بنارس کے رہائشی سبحان اللہ نے دی جو خود اس میزائل حملے میں زخمی ہوئے ہیں، اور ایران کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔

انہوں نے بتایا کہ میرا بھائی یاسر خان اور سبحان اللہ دونوں روم میٹ تھے، 24 مارچ کی رات رات لگ بھگ ڈھائی سے تین بجے کا وقت سبحان  نے ہمیں ایران کے نمبر سے فون کیا، ہماری ایک منٹ کی بات ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ یاسر شہید ہوگیا ہے جبکہ میزائل حملے کے وقت کشتی پر موجود دیگر تمام افراد ڈوب گئے تھے جن کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

یاسر کے حوالے ان کے بھائی نے مزید بتایا کہ یاسر کا ڈیک پر صفائی کا کام تھا جس کے تمام کورس یاسر نے کر رکھے تھے، اپنا 9 ماہ کا کنٹریکٹ پورا کرنے کے بعد یاسر کو واپس کراچی آنا تھا اور یہ کنٹریکٹ ختم ہونے میں صرف 3 ماہ باقی رہ گئے تھے۔

واجد نے بتایا کہ جنگی حالات کے دوران بھائی سے رابطہ نہیں ہوا تھا ایجنٹ کے پاس بھی گئے لیکن موبائل نیٹ ورکس نہیں ہونے کے باعث چابہار بندرگاہ پر ایجنٹ کا بھی کسی سے رابطہ نہیں ہوسکا، جب بھائی کے دوست سبحان سے رابطہ ہوا تو اس نے بتایا کہ ہمارے بھائی یاسر کی لاش پانی کے اندر چار دن تک رہی، جس کے بعد لاش ملنے پر ان کی شناخت عمل میں آسکی۔

یاسر کے بھائی نے مزید بتایا کہ جنگی حالات کے دوران آخری بار رمضان المبارک میں ان کی اپنے بھائی سے ویڈیو کال پر بات ہوئی تھی، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ایران میں جنگی حالات ہیں اور مجھے یہاں سے نکالنے کے لیے انتظامات کریں، جس کے بعد میں ہم نے بہت جتن کیے، ایجنٹ کے علاوہ دیگر اداروں تک بھی رسائی کی کوشش کی لیکن کہیں سے کوئی مدد نہیں ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے مالک انصر اور ایجنٹ نے بھی کوئی مدد فراہم نہیں کی، نیٹ ورک کے مسائل کے باعث رابطہ بھی نہیں ہوپایا۔

انہوں نے بتایا کہ میزائل حملے کا نشانہ بننے والی ڈک بوٹ پر دو پاکستانی موجود تھے جن میں سے ایک میرا بھائی یاسر اور دوسرا سبحان ہے جو تاحال ایران میں زخمی حالت میں موجود ہے۔

ایکسپریس نیوز کو یاسر کے دوست معصوم علی نے بتایا کہ یاسر انتہائی خوش اخلاق اور خوش شکل انسان تھا، جو ایران اپنے بچے اور اہلیہ کے اچھے مستقبل کے لیے گیا تھا، یاسر کا کوئی دن اپنے والدین سے بات کیے بغیر نہیں گزرتا تھا، یاسر کی شہادت کے بعد اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہے۔

یاسر کی شہادت کے بعد یاسر کی بیوہ اور معصوم بچے امداد کے منتظر ہیں، اہل خانہ نے حکومت پاکستان، صدر پاکستان، حکومت سندھ، وزیر اعلی سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے بیوی اور بچے کی دادرسی اور مدد کی درخواست کی ہے کہ بیوہ اور بچے کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

یاسر خان کے بھائی واجد نے بتایا کہ دیگر بھائی اور رشتے دار تفتان بارڈر پہنچ گئے ہیں، بھائی یاسر کی میت لانے کے لیے وہاں قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی اور اس حوالے سے میت کی جلد حوالگی کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ بھی کیا جارہا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ تفتان بارڈر پر ہمارا کیمپ قائم ہے اور رضاکار موجود ہیں، یاسر کی میت بارڈر سے کراچی منتقل کرنے کے لیے ہمارے انتظامات مکمل ہیں اس حوالے سے یاسر کے ورثا سے بھی رابطہ کرلیا گیا ہے۔