مہنگی بجلی اور عام آدمی کی زندگی

اصل بجلی کی قیمت کم ہے، مگر اضافی چارجز زیادہ ہیں



پاکستان میں مہنگائی کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ برسوں میں بجلی کے بل نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ جب ایک گھر کا ماہانہ استعمال صرف 101 یونٹ ہو اور پھر بھی دو ہزار سے اوپر بل آ جائے تو دل میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر ہم کس چیز کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اصل بجلی کی قیمت اگر ایک ہزار کے قریب ہو اور باقی رقم مختلف ٹیکس اور فکس چارجز کی مد میں لی جائے تو یہ معاملہ صرف حساب کا نہیں رہتا، یہ انصاف کا سوال بن جاتا ہے۔

بجلی کا بل اب صرف یونٹس کا حساب نہیں رہا۔ اس میں فکسڈ چارجز، میٹر رینٹ، ایف سی سرچارج، ٹی وی فیس، جی ایس ٹی اور نہ جانے کیا کیا شامل ہوتا ہے۔ ایک عام آدمی جو چالیس یا پچاس ہزار تنخواہ پر گھر چلا رہا ہے، اس کے لیے یہ سب برداشت کرنا آسان نہیں۔ کرایہ 13 یا 14 ہزار، بچوں کی تعلیم، علاج، روزمرہ کی خریداری، اور پھر بجلی کا ایسا بل جو سمجھ سے باہر ہو۔ یوں لگتا ہے جیسے بل نہیں، سزا نامہ ہو۔

جب ہم بل کو غور سے دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اصل بجلی کی قیمت کم ہے، مگر اضافی چارجز زیادہ ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو دل کو دکھاتی ہے۔ ایک غریب یا متوسط طبقے کا آدمی یونٹ بچانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ پنکھا بند رکھتا ہے، غیر ضروری لائٹس نہیں جلاتا، اے سی کا تو سوال ہی نہیں۔ مگر اس احتیاط کا فائدہ بل میں نظر نہیں آتا۔ کیونکہ فکسڈ چارجز تو ہر حال میں دینے ہیں، چاہے آپ بجلی کم استعمال کریں یا زیادہ۔

یہ صورتحال صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ ذہنی دباؤ کا باعث بھی ہے۔ ہر مہینے بل آنے سے پہلے ہی پریشانی شروع ہو جاتی ہے۔ لوگ دعا کرتے ہیں کہ اس بار بل کم آئے، مگر جب بل ہاتھ میں آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ گھروں میں جھگڑے ہوتے ہیں، والدین بچوں کو ڈانٹتے ہیں کہ لائٹ کیوں جلائی، پنکھا کیوں چلایا۔ یوں بجلی جیسی بنیادی سہولت بھی ذہنی سکون چھین لیتی ہے۔

بجلی فراہم کرنے والے اداروں میں عوام کی آواز سننے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ شکایت درج کرانے کا عمل لمبا اور تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ اکثر لوگ وقت اور عزت بچانے کے لیے شکایت ہی نہیں کرتے اور چپ چاپ بل ادا کر دیتے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔

حکومت کی پالیسیاں اکثر بڑے طبقے کو سہولت دیتی نظر آتی ہیں۔ صنعت کاروں کے لیے پیکجز، اشرافیہ کے لیے رعایتیں، مگر عام آدمی کے لیے کوئی واضح ریلیف نہیں۔ بجلی کے بلوں میں فکس چارجز کا اضافہ اسی پالیسی کا حصہ لگتا ہے۔ جو جتنا کمزور ہے، وہ اتنا ہی زیادہ دباؤ برداشت کر رہا ہے۔

ایک عام گھر کا بجٹ پہلے ہی تنگ ہوتا ہے۔ اگر بجلی کا بل دو ہزار سے اوپر آ جائے تو پورا حساب بگڑ جاتا ہے۔ کبھی بچوں کی فیس لیٹ ہو جاتی ہے، کبھی گھر کا راشن کم کرنا پڑتا ہے، کبھی دوا خریدنے میں تاخیر ہوتی ہے۔ یہ چھوٹے فیصلے نہیں ہوتے، یہ ایک گھر کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

لوگ اب بجلی کے استعمال سے زیادہ بل کے اضافی چارجز سے خوفزدہ ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ چاہے وہ دس یونٹ استعمال کریں یا سو، فکس چارجز تو دینے ہی ہیں۔ اس سے بچت کا تصور بھی ختم ہو جاتا ہے۔ جب بچت کا فائدہ نظر نہ آئے تو انسان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ بجلی کے بل کو آسان اور شفاف بنایا جائے۔ صارف کو واضح نظر آئے کہ وہ کس چیز کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ فکسڈ چارجز کو کم کیا جائے یا ختم کیا جائے، خاص طور پر کم یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے۔ تاکہ لوگ بجلی بچانے کی طرف راغب ہوں اور انہیں اس کا حقیقی فائدہ بھی ملے۔

اس کے ساتھ ساتھ شکایت کا نظام بھی آسان ہونا چاہیے۔ اگر کسی کو بل پر اعتراض ہو تو وہ آسانی سے اپنی بات متعلقہ دفتر تک پہنچا سکے اور اس کا حل بھی نکلے۔ عوام کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت عام آدمی کی مالی حالت کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرے۔ ہر شخص امیر نہیں ہوتا۔ زیادہ تر لوگ محدود آمدنی میں گھر چلاتے ہیں۔ ان کے لیے ہر سو روپے کی اہمیت ہوتی ہے۔ بجلی کے بل میں اضافی چارجز ان کے لیے بہت بڑا بوجھ بن جاتے ہیں۔

آج ایک عام پاکستانی کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ وہ سکون سے زندگی گزار سکے۔ وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دے سکے، گھر کا خرچ عزت سے چلا سکے، اور مہینے کے آخر میں کچھ بچا بھی سکے۔ مگر جب بنیادی سہولیات ہی مہنگی ہو جائیں تو یہ خواب مشکل ہو جاتا ہے۔

بجلی ایک بنیادی ضرورت ہے، کوئی عیاشی نہیں۔ اسے ایسا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے جو ہر گھر میں پریشانی کا باعث بن جائے۔ وقت آگیا ہے کہ پالیسی ساز اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھیں اور عام آدمی کو ریلیف دیں۔

اگر بجلی کے بل میں انصاف مل جائے تو یہ عام آدمی کے لیے بہت بڑی آسانی ہوگی۔ وہ اپنے محدود وسائل میں بہتر زندگی گزار سکے گا، ذہنی سکون حاصل کرے گا، اور اپنے بچوں کے مستقبل پر توجہ دے سکے گا۔ یہی وہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہیں جو ایک ملک کو بہتر بناتی ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
حافظ وسیم اکرم
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔