سانحہ گل پلازا: جاں بحق 61 خاندانوں کو فی کس 1 کروڑ معاوضہ دیدیا گیا،11 کیسز باقی

843 دکان داروں کو بھی چیکس کے ذریعے فی کس 5 لاکھ روپے دے دیے گئے، کچھ کیسز زیر التوا ہیں، وزیراعلیٰ کو بریفنگ


اسٹاف رپورٹر April 01, 2026

کراچی:

سانحہ گل پلازا میں جاں بحق ہوئے افراد میں سے 61 خاندانوں کو فی کیس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیدیا گیا 11 کیسز پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی اور متاثرہ تاجروں کو مالی امداد کی فراہمی کے عمل کا جائزہ لیا اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کو گل پلازہ کی ازسرنو تعمیر کے لیے تفصیلی منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ مارکیٹ کو گرا کر نئی تعمیر شروع کرنے کی بھی ہدایت دی۔

اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء شرجیل میمن، ناصر شاہ، ضیاء الحسن لنجار، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری برائے وزیراعلیٰ (پی ایس سی ایم) آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ وسیم شمشاد، ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے مزمل ہالیپوٹو اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ حکومت سندھ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کے لیے 850 ملین روپے مختص کیے ہیں جس کے تحت فی جاں بحق فرد 10 ملین روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 72 متاثرین میں سے 61 خاندانوں کو چیکس کے ذریعے ان کی رہائش گاہوں پر صوبائی وزراء کے ذریعے ادائیگی کر دی گئی ہے۔

کمشنر کراچی حسن نقوی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ باقی کیسز مختلف مراحل میں ہیں۔ تین متاثرین کی بیواؤں کے قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں آخری مراحل میں ہیں، جبکہ چار کیسز میں خاندانی بیانات میں تضادات کے باعث مزید تصدیق درکار ہے جس کے لیے بلوچستان اور آزاد کشمیر میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ مزید یہ کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق چار لاشیں تاحال لاوارث ہیں۔

متاثرہ تاجروں کے لیے مالی امداد کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ 600 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جس کے تحت کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے فراہم کردہ تصدیق شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر ہر دکاندار کو 5 لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ کی ہدایات پر قائم کمیٹی نے دکانوں کی ملکیت اور نقصانات کی تصدیق کی اور اب تک 843 دکانداروں کو کے سی سی آئی دفتر میں چیکس کے ذریعے ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بعض کیسز میں ایک ہی فرد یا کاروباری ادارے کی متعدد دکانوں کی ملکیت کے باعث پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں جبکہ دکانوں کی مجموعی تعداد میں بھی فرق پایا گیا ہے۔

ابتدائی رپورٹ میں 1,184 دکانیں ظاہر کی گئی تھیں جبکہ کے سی سی آئی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 1,209 ہے۔ باقی کیسز میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت دی کہ تصدیقی عمل کو تیز کیا جائے اور تمام حقدار افراد کو بلاتاخیرمعاوضہ فراہم کیا جائے۔

متعدد دکانوں کی ملکیت کے معاملے پر وزیراعلیٰ نے کمشنر کراچی کو ہدایت دی کہ مالی امداد فی دکان دی جائے یا فی فرد/کاروباری ادارہ، اس حوالے سے واضح پالیسی اختیار کی جائے تاکہ کسی قسم کا ابہام نہ رہے۔

انہوں نے متاثرہ دکانوں کی مجموعی تعداد میں تضادات ختم کرنے اور کے سی سی آئی و متعلقہ اداروں کو جلد از جلد حتمی اور تصدیق شدہ فہرست پیش کرنے کی ہدایت دی۔گل پلازہ کی تعمیر نو کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے مزمل ہالیپوٹو کو ہدایت دی کہ مارکیٹ کی ازسرنو تعمیر کے لیے تفصیلی منصوبہ پیش کیا جائے اور پلازہ پر کام جلد از جلد شروع کیا جائے۔ انہوں نے کمشنر کراچی کو ہدایت دی کہ جوڈیشل کمیشن کو آگاہ کرنے کے بعد مارکیٹ کو گرانے کا عمل شروع کیا جائے تاکہ تعمیر نو کا کام آگے بڑھایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام امدادی اقدامات مکمل شفافیت اور جوابدہی کے ساتھ مکمل کیے جائیں گے تاکہ اس افسوسناک واقعے کے متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔