پاکستان کا مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب ہوگیا، ہر شہری 3 لاکھ 25 ہزار روپے کا مقروض

مقامی قرضے 55 ہزار بیرونی قرضے 26 ہزار ارب ہیں، اسٹیٹ بینک پارلیمنٹ سے بل پاس کراکر ملک کی دھجیاں اڑا رہا ہے، حکام


بزنس رپورٹر April 02, 2026
اکتوبرمیں برآمدات 2.975ارب ڈالررہیں،سالانہ تجارتی خسارہ 6فیصد کم (فوٹو: فائل)

اسلام آباد:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے پاکستان کا مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے اور ہر شہری تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار روپے کا مقروض ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امورکا اجلاس منعقد ہوا۔اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کے ذمے مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے جس میں مقامی قرضے کی مالیت 55 ہزار ارب روپے سے زائد ہے جب کہ بیرونی قرضوں کا حجم 26 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔

حکام نے بتایا کہ پاکستان کے قرضوں میں اضافے کی بڑی وجہ مالی خسارہ ہے، مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے قرضہ لینا پڑتا ہے، روپے کی قدر گرنے سے بھی قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

کمیٹی نے معاشی پالیسیوں کا ذمہ دار پارلیمنٹ کو قرار دینے پر تحفظات کا اظہار کیا، چیئرمین کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک پارلیمنٹ سے بل پاس کراکر ملک کی دھجیاں اڑا رہا ہے، اگلے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 300 ارب روپے کا قرضہ لیا، قرضہ استعمال نہیں ہوا مگر صوبائی حکومت سود ادا کررہی ہے۔