کراچی:
صوبائی محکمہ برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے میٹرک کے امتحانات سے محض 4 روز قبل ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے ناظم امتحانات کو تبدیل کردیا، اشتہار کے ذریعے میرٹ پر تقرری کے بجائے ناظم امتحانات ضیاء الحق کو ہٹاکر ان کی جگہ لاڑکانہ تعلیمی بورڈ کے افسر کو کراچی بورڈ میں ناظم امتحانات تعینات کردیا۔
سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے نوٹی فکیشن کے مطابق احمد خان چھٹو کی تعیناتی ایک سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر کی گئی ہے، احمد خان چھٹو لاڑکانہ بورڈ میں انسپیکٹر آف انسٹی ٹیوشنز کے عہدے پر تعینات تھے اور بظاہر انھیں امتحانات سے متعلق کوئی تجربہ نہیں یے اس کے باوجود ان کی تعیناتی سندھ کے ایک ایسے تعلیمی بورڈ میں کی گئی ہے جو طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا تعلیمی بورڈ ہے۔
نویں اور دسویں جماعتوں کے امتحانات میں میٹرک بورڈ کراچی کے تحت سوا 3 لاکھ سے زائد امیدوار شریک ہوتے ہیں اور اب ان سوا 3 لاکھ سے زائد طلبہ کا تعلیمی مستقبل ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جسے اس قدر بڑے امتحانات کے انعقاد کا کوئی سابقہ تجربہ نہیں ہے۔
بتایا جارہا ہے احمد خان چھٹو کراچی کے کسی بھی بورڈ میں تعیناتی میں دلچسپی رکھتے ہیں اسی لیے قبل ازیں انھیں چند ماہ قبل انٹر بورڈ کراچی میں بھی ناظم امتحانات تعینات کردیا گیا تھا تاہم وہاں چارج لینے میں انھیں خاصی مشکلات کا سامنا رہا اور ازاں بعد وہ چارج لیے بغیر ہی واپس چلے گئے اور ناظم امتحانات کے عہدے پر کام شروع نہیں کرسکے اب یہ دوسرا موقع یے کہ انھیں میٹرک بورڈ کراچی میں ناظم امتحانات تعینات کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں میٹرک کے امتحانات 7 اپریل سے شروع ہورہے ہیں ابھی سینٹر فیکسیشن اور ایڈمٹ کارڈ کے اجراء کا عمل باقی ہے ایسے میں یہ تمام امور ایک نئے اور ناتجربہ کاری افسر کے سپرد کردیے گئے ہیں۔