لاہور چڑیا گھر میں تنہائی کا شکار جانوروں کے جوڑے بنانے کا سلسلہ شروع

چڑیا گھر میں گزشتہ دنوں جنوبی افریقہ سے نر دریائی گھوڑا درآمد کیا گیا ہے


آصف محمود April 03, 2026

لاہور چڑیا گھر میں برسوں سے تنہا زندگی گزارنے والے جانوروں کے جوڑے بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان کی افزائش نسل کو بڑھانا ہے۔ ماہرین کا کا کہنا ہے کیپٹویٹی میں بڑے جانوروں کی بریڈنگ ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔ ان جانوروں کو کھلی جگہ، متوازن خوراک اورپرائیوسی درکار ہوتی ہے۔

چڑیا گھر میں گزشتہ دنوں جنوبی افریقہ سے نر دریائی گھوڑا درآمد کیا گیا ہے تاکہ چڑیاگھر میں کئی برسوں سے تنہا زندگی والے مادہ دریائی گھوڑے رانی کو ساتھی مل سکے۔ اس سے قبل بھی کئی جانوروں خاص طور پربگ کیٹس کی جوڑا بندی کی جاچکی ہے۔ چڑیا گھر میں تفریح کے لئے آنیوالے اس اقدام پرخوش دکھائی دیتے ہیں۔

ایک خاتون وزیٹر فاطمہ کا کہنا تھا زرافے، گینڈے سمیت دیگرجانوروں کے بھی جوڑے بننے چاہیے تاکہ ان کی افزائش ہوسکے اورجانوروں کی ویلفیئر کے لئے مزید بہتر انتظامات ہونے چاہیں۔ لاہور چڑیا گھر میں جانوروں کا بہت بہترخیال رکھا جارہا ہے۔

ویٹرنری ماہر ڈاکٹر بابرسلیم جو لاہور چڑیاگھر میں ویٹرنری خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ لاہور چڑیا گھر میں دریائی گھوڑوں کے لئے جو تالاب ہے ایک تواس کی گہرائی کم ہے اور جگہ بھی کم ہے۔ اس کے علاوہ نراورمادہ کی عمر میں بھی کافی فرق ہے۔انہوں نے بتایا کہ زرافوں کا بھی یہی مسلہ ہے چڑیا گھروں جگہ کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کی افزائش نہیں ہوپاتی ہے۔

لاہور چڑیا گھر کے ڈائریکٹر ،ڈاکٹر غلام رسول نے کے مطابق لاہورچڑیا گھر میں جانوروں کے لئے وسیع جگہ ہے اور بہترین ویٹرنری ٹیم موجود ہے جبکہ ماضی میں کئی جانوروں کی کامیاب بریڈ لی جاچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جس طرح دریائی گھوڑا درآمد کیا گیا ہے اسی طرح گینڈے کی درآمد کا پراسس بھی چل رہا ہے امید ہے کہ بہت جلد گینڈا بھی چڑیا گھر کی رونق بنے گا۔ لاہورچڑیا گھر کے لئے تین زرافے بھی جنوبی افریقہ سے درآمد ہوچکے ہیں لیکن وہ ابھی لاہورسفاری زو میں ہیں انہیں ابھی تک لاہور چڑیاگھرمنتقل نہیں کیا گیا۔ تاہم لیپرڈ، دریائی نیولا، جیگوار کو ساتھی کب ملیں گے اس بارے انتظامیہ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔