وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو کروائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد کرتے ہوئے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان میں پیٹرول 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خلیج جنگ کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھونچال آیا ہوا ہے۔ حکومت نے کفایت شعاری، کابینہ کی تنخواہوں میں کٹوتی، دیگر اقدامات سمیت ترقیاتی فنڈز کو روکا تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور عام آدمی مہنگائی سے بچ سکے، یکم مارچ سے آج تک حکومت 129 ارب روپے عوام پر خرچ کرچکی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271.27 جب کہ ڈیزل 496.97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ایکسپریس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں درآمدی قیمت اس پر عائد ڈیوٹی ٹیکسوں کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کرایوں میں 65 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔لاہور سے کراچی کا کرایہ ایک لاکھ دس ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 80 ہزار روپے ہو گیا، لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ 80 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے کردیا گیا۔
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں حکومتی فیصلوں کی سمت نہ صرف معاشی اشاریوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بنیاد کو بھی کمزور کر رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ غیر معمولی اضافہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے حکومت نے عالمی حالات، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک تکنیکی اور ناگزیر فیصلہ دکھائی دیتا ہے، مگر جب اس کے اندرونی پہلوؤں، حکومتی ترجیحات اور معاشی ڈھانچے کی کمزوریوں کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک نظر آتی ہے۔
پاکستان کا توانائی کا ڈھانچہ تاریخی طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا رہا ہے۔ یہ انحصار محض ایک معاشی ضرورت نہیں بلکہ پالیسی سازی کی ناکامیوں کا نتیجہ بھی ہے۔ ماضی میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نسبتاً کم تھیں، تب بھی توانائی کے متبادل ذرائع پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا۔ نہ قابل تجدید توانائی کے منصوبے اس رفتار سے آگے بڑھے جس کی ضرورت تھی، نہ ہی مقامی وسائل جیسے تھر کے کوئلے، ہائیڈرو پاور یا شمسی توانائی کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا۔ نتیجتاً آج جب عالمی سطح پر بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اور شدید اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ یقیناً ایک حقیقت ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اس بحران کا مکمل بوجھ عوام پر منتقل کر دینا ہی واحد راستہ تھا؟ حکومت نے ایک طرف یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی فراہم کر رہی ہے، جب کہ دوسری جانب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کر دیا گیا۔ یہ تضاد عوامی سطح پر بے چینی اور عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔معاشی پالیسیوں کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ بحران کے وقت بوجھ کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جائے، مگر پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
ٹیکس نظام پہلے ہی محدود دائرے میں کام کر رہا ہے، جہاں چند طبقات مسلسل بوجھ اٹھا رہے ہیں جب کہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری اور استثنیٰ موجود ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی بارہا تنقید کی زد میں رہی ہے، مگر اصلاحات کے دعوے عملی نتائج میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ ایسے میں پٹرولیم لیوی کا سہارا لے کر ریونیو بڑھانا ایک آسان مگر نقصان دہ راستہ ہے، جو معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل ایک چین ری ایکشن کو جنم دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے اشیائے خورونوش مہنگی ہوتی ہیں، صنعتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔ حالیہ صورتحال میں ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں 60 سے 65 فیصد تک اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ بوجھ کس تیزی سے عام آدمی تک منتقل ہو رہا ہے۔ ایک مزدور، ایک سرکاری ملازم یا ایک چھوٹا دکاندار اس اضافے کو کس طرح برداشت کرے گا، اس کا کوئی واضح جواب حکومتی پالیسیوں میں نظر نہیں آتا۔
یہاں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں خوراک کی بنیادی ضروریات مقامی سطح پر پوری کی جا سکتی ہیں۔ اس کے باوجود ہر بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ انتظامی ناکامی، مارکیٹ ریگولیشن کا فقدان اور ذخیرہ اندوزی جیسے عوامل ہیں۔ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جس کے نتیجے میں مصنوعی مہنگائی پیدا کی جاتی ہے۔
توانائی کے شعبے میں بدانتظامی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی، لائن لاسز، بجلی چوری اور سرکلر ڈیٹ جیسے مسائل نہ صرف حل طلب ہیں بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان نقصانات کا بوجھ بھی بالآخر صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ان اداروں کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے گئے؟ یا ہر بار آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے؟حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے دعوے بھی حقیقت سے زیادہ قریب نہیں لگتے۔
اگرچہ وزراء کی تنخواہوں میں کمی اور ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی جیسے اعلانات کیے گئے، مگر مجموعی طور پر سرکاری اخراجات میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بیوروکریسی کے اخراجات، سرکاری مراعات اور غیر ضروری منصوبے بدستور جاری ہیں۔ ایسے میں جب عوام سے قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو یہ یکطرفہ محسوس ہوتا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے بھی اس صورتحال کا ایک اہم پہلو ہیں۔ قرضوں کے حصول کے لیے حکومت کو سخت شرائط قبول کرنا پڑتی ہیں، جن میں سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط شامل ہوتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان شرائط کو قبول کرنے سے پہلے کوئی متبادل حکمت عملی تیار کی گئی؟ کیا معیشت کو خود انحصاری کی طرف لے جانے کے لیے کوئی طویل المدتی منصوبہ موجود ہے؟
پاکستان کی معاشی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بار بار بیرونی قرضوں پر انحصار نے معیشت کو کمزور کیا ہے۔ ہر حکومت قلیل المدتی ریلیف کے لیے طویل المدتی مسائل کو نظرانداز کرتی رہی ہے۔ نتیجتاً آج صورتحال یہ ہے کہ ایک قسط کی ادائیگی کے لیے بھی نئے ذرائع تلاش کرنے پڑتے ہیں اور اس کا آسان ترین ذریعہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنا سمجھا جاتا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ درآمدی قیمت، ٹیکسز، ڈیوٹیز اور مارجنز کے درمیان فرق عوام کے لیے قابل فہم نہیں ہوتا، جس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، اگر حکومت واقعی عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے قیمتوں کے تعین کا مکمل اور شفاف نظام متعارف کروانا ہوگا۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں حالیہ اضافہ ایک بڑے بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔ جب مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے تو اس کا اثر براہ راست مہنگائی پر پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صنعتی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ایک معاشی بحران سماجی بحران میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر متوسط اور نچلا طبقہ ہوتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی بڑھتی ہے، دوسری جانب آمدن میں اضافہ نہیں ہوتا۔ نتیجتاً قوت خرید کم ہوتی جاتی ہے اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی بلکہ سماجی عدم استحکام کو بھی جنم دیتی ہے۔
حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری اور طویل المدتی دونوں سطحوں پر اقدامات کرے۔ فوری طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور مستحق طبقے کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ طویل المدتی سطح پر توانائی کے متبادل ذرائع، ٹیکس نظام میں اصلاحات اور سرکاری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔اگر موجودہ پالیسیوں کا یہی تسلسل برقرار رہا تو مہنگائی کا طوفان مزید شدت اختیار کرے گا اور عوام کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔ ریاست کا بنیادی فرض یہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے، نہ کہ ہر بحران کا بوجھ ان پر ڈال دے۔یہ وقت محض بیانات دینے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی استحکام کا راستہ عوامی اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے اور یہ اعتماد صرف اسی صورت میں بحال ہو سکتا ہے جب فیصلے شفاف، منصفانہ اور عوام دوست ہوں۔ بصورت دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسا بوجھ بن جائے گا جو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دے گا۔