جنگ کی کیفیت مشرقِ وسطیٰ میں ہے لیکن جنگی حالات اس وقت وطنِ عزیز پاکستان میں مکمل طور پر حاوی نظر آنا شروع ہوچکے ہیں۔
یہاں مسائل اعدادو شمار نہیں بلکہ لوگوں کی ٹوٹتی امیدیں ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور و ناتواں ہوتی جا رہی ہیں۔ گھروں کے چولہے، بچوں کے مستقبل کا تعین اور کروڑوں انسانوں کی سانسوں کی ڈور، اس لمحاتی دور میں مشکل سے مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ اور کچھ بعید نہیں کہ مستقبل بعید میں سانسیں بھی شمار کرکے لینا پڑیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک ایسا عفریت ہے جو سب کچھ نگل جائے گا لیکن اس کا ادراک شاید ہم نہیں کر پارہے۔ پٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اضافہ ہوا ہے لیکن عام پاکستانی اپنی ضرورت کی اشیاء خریدتے ہوئے بھی شاید اب 137 مرتبہ سوچتا ہے، کیوں کہ حالات اس قدر دگرگوں ہو رہے ہیں کہ الاماں۔ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے کا اضافہ تو الفاظ ہی گم کر رہا ہے۔ اور اس اضافے پر کمال مہربانی کرتے ہوئے 80 روپے کمی کردی۔
پرانے وقتوں میں ایک تندورچی نے روٹی مہنگی کرنی تھی پانچ سے دس روپے۔ بادشاہ کے حضور حاضر ہوا، عرض کی کہ روٹی 10 روپے کرنے کی اجازت دی جائے۔ بادشاہ نے کمال مہربانی سے فرمان جاری کیا کہ روٹی 30 روپے کی کردی۔ تندورچی پریشان ہوا مگر بادشاہ تو بادشاہ تھا۔ تندورچی نے تیس روپے کی روٹی کردی۔ رعایا روتی چیختی بادشاہ کے پاس پہنچی۔ بادشاہ نے تندورچی کو بلا بھیجا، اور شدید قہر و غضب میں روٹی کی قیمت آدھی کرنے کا فرمان جاری کردیا، یعنی 30 کے بجائے 15 روپے۔ تندورچی کی مراد سے زیادہ بارآوری ہوئی۔ بادشاہ کے بھاگ بھی سلامت، تندورچی بھی شکرگزار، عوام بھی بادشاہ کے نعرے لگاتی ہوئی سرِ تسلیم خم۔
حالات یقینی طور پر پوری دنیا کے خراب ہیں لیکن پاکستان کا جائزہ لیجیے تو یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عوام پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے نہ صرف پسے ہوئے ہیں بلکہ ان کی قوت خرید ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔ آمدن اور اخراجات کا توازن بگڑا ہوا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کے ساتھ گھریلو استعمال کے حوالے سے بجٹ ایل پی جی نے ڈانواڈول کردیا ہے۔ اور سلنڈر عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا گھٹن زدہ ماحول بنا رہے ہیں کہ جس میں عام افراد کے لیے سانس لینا بھی دوبھر ہو جائے گا۔ پاکستان میں ان حالات نے بطور مجموعی مڈل کلاس طبقے کو غربت کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا ہے۔
متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا عام پاکستان چاہے وہ عام سرکاری ملازم ہو یا پھر پرائیویٹ کمپنی کا ورکر، چھوٹا تاجر ہو یا پھر دیہاڑی دار مزدور، سب اپنے جینے کے لیے اشیائے ضرورت بھی مشکل سے حاصل کرتے نظر آ رہے ہیں۔ متوسط طبقے کا سربراہ جب اپنی پچاس سے ساٹھ ہزار کی تنخواہ سے ماہانہ اخراجات کا میزان بنانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی تنخواہ یہ بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیتی ہے۔ راشن پورا ہوتا نظر نہیں آتا کہ بجلی، گیس اور پانی کے بل کے ساتھ ساتھ بچوں کے اسکول کے اخراجات سامنے کھڑے نظر آتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خودکشیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
سونے پہ سہاگہ اگر ناگہانی بیماری آ جائے گھر میں تو مہینے کے راشن کے لالے بھی پڑ جاتے ہیں کیوں کہ پرائیویٹ اسپتال بس سے باہر ہیں اور سرکاری اسپتالوں کے حالات کسے سے ڈھکے چھپے نہیں۔
اب یہ سوال بھی ہر لمحے تقویت پاتا جارہا ہے کہ اگر عوام کو صحت، تعلیم، توانائی اور صاف پانی جیسے آئینی حق بھی حکومتِ وقت نہ دے سکے تو پھر بڑھتی قیمتوں اور ٹیکسز کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟ مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے اگر ٹیکسز لیتے ہیں تو عوام کو سہولیات بھی بہم پہنچاتے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کسی ایک شعبہ ہائے زندگی پہ اثر نہیں ڈالتا بلکہ مسائل کی ایک مکمل چین ہے جس میں عام فرد جکڑا جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے، اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ، پیداواری لاگت، مہنگی ٹرانسپورٹ سے ہی پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ اور نقصان سب سے زیادہ عام صارف کا ہی ہوتا ہے۔
یہاں قصہ صرف مہنگائی کا ہی نہیں بلکہ بات ترجیحات پر بھی منحصر ہے۔ عوام پر بوجھ ڈالنے سے پہلے ریاست کیا کر سکتی ہے؟ ریاست اپنے اخراجات کم کر سکتی ہے۔ ایسے اخراجات جو صرف نعروں یا زبانی جمع خرچ میں نہ ہوں بلکہ عملی سطح پر ان کی افادیت نظر آئے۔
تمام بیوروکریسی اور اراکین پارلیمان، وزراء، مشرا، کابینہ اراکین، اعلیٰ سرکاری عہدیدار، ہرکارے، ہر ایک کے لیے ایک اُصول طے کر لیجیے کہ زیادہ سے زیادہ تیرہ سو سی سی سے زیادہ کی گاڑی استعمال نہیں کریں گے۔ کار پولنگ کا مشورہ عوام کےلیے تو ہے لیکن کیا خواص بھی اس پر عمل پیرا ہوں گے؟ تمام طرح کی مفت سہولیات و مراعات فوری نافذ العمل نوٹیفکیشن سے ختم کردیں چاہے ٹیلی فون ہو، گیس، بجلی، پٹرول، ہائیرنگ یا کچھ بھی اور۔
تمام سہولیات کچھ عرصے کے لیے ختم کر دیجیے۔ ایک عام رکن پارلیمان یا سرکاری عہدیدار جو سرکاری گاڑی اگر دو ہزار سی سی کی ذاتی طور پر رکھتا ہے تو اسے تو بنیادی طور پر اپنا فیول خود برداشت کرنے کی سکت رکھنی چاہیے۔ اور کروڑوں روپے کی گاڑی جو رکھتا ہے اسے مراعات کی ضرورت ہی کیا ہے وہ تو ہے ہی لینڈ لارڈ۔
دنیا غیر یقینی کا شکار ہے اور ہم ایک سمت میں واضح ہیں، وہ یہ کہ تمام مشکلات کا بوجھ مکمل طور پر عوام کے نازک کندھوں پر ڈالنا ہے۔ ہم ایران کی مثال دیتے ہیں کہ اس نے مشکل وقت میں خود انحصاری کی طرف قدم بڑھایا کیا ہم بھی اس توانائی کی مشکلات کے دور میں متبادل توانائی کے ذرائع پر شفٹ ہونے کا سوچ رہے ہیں یا بات صرف بھینس کے گوبر تک ہی محدود رہے گی؟
ہم توانائی کے حوالے سے کب تک اپنا انحصار ان ذرائع پر رکھیں گے؟ یا پھر متبادل تلاش کریں گے؟ دنیا روس اور ایران سے سستا تیل خرید رہی ہے لیکن ہمارے ہاں کے فیصلہ ساز کیا فیصلہ کرتے ہیں اس حوالے سے ہنوز دلی دور است۔
4 اپریل کو پاکستان میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 378 روپے 41 پیسے ہے۔ اسی تاریخ کو بھارت میں فی لیٹر پیٹرول 100 سے 104 بھارتی روپے، یعنی پاکستانی روپے میں تقریباً 310 روپے سے 320 روپے۔ بنگہ دیش میں بھی فی لیٹر قیمت پاکستانی روپوں میں 300 سے 310 روپے کے درمیان ہے۔ سری لنکا اور نیپال بھی ایسی پرائس رینج میں آتے ہیں۔ بھوٹان اور نیپال میں پٹرول فی لیٹر 210 سے 270 کے درمیان ہے۔ یاد رہے کہ یہ اندازاً قیمت بھی اس لیے کہ مارکیٹ ریٹس کا فرق آسکتا ہے لیکن یہ فرق چند روپوں کا ہی ہو سکتا ہے جو بہرصورت بیس روپے سے بھی کم ہے۔ آپ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے بھی پوچھیں تو وہ خطے کا سب سے مہنگا پٹرول پاکستان میں بتائے گا اور حیرت انگیز طور پر جنگ زدہ ملک افغانستان کو سب سے سستا پٹرول بیچنے والا ملک بتائے گا۔ حیرت کی انتہا بھی شاید عوام کے لیے ہے صاحبانِ اقتدار کے لیے نہیں۔
یہ وقت اس وقت تقریروں، پریس کانفرنسز اورتسلیوں کا شائد نہیں رہا بلکہ ریاست کو اپنی ترجیحات واضح یقینی طور پر کرنی چاہیے۔ حکمران طبقہ حکومت کرنا چاہے تو وہ تو بہت آسان ہے لیکن اگر عوام کے دلوں میں گھر کرنا چاہے تو مشکل ضرور ہے لیکن ہمیشہ کے لیے امر بھی کر دے گا۔ مشکل س لیے ہے کہ خواص کو اپنی تعیشات کی قربانی دینا ہو گی جو ابھی تک کے حالات میں ان کو گوارا نہیں ہے۔ کیوں کہ اس وقت تک تو عوام کو صرف غلام سمجھا جاتا ہے کہ وہ آواز بھی اٹھائیں تو چابک کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔
صرف تنقید، طعنے، رونا دھونا، فسانہ غم، دردناک کہانیاں ہی مسئلے کا حل نہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔