تاش کا پتہ، آبنائے ہرمز

 ویتنام کی جنگ میں جنرل گیاپ نے امریکا کی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیے


جاوید قاضی April 05, 2026

اس جنگ میں ہم نے ابھی قدم رکھا ہی نہیں، ہمارے فیض احمد فیض کی ان سطروں کی مانند۔

تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی

جس میںرکھا نہیں ہے کسی نے قدم

کوئی اترا نہ میدان میں دشمن نہ ہم

کوئی صف بن پائی، نہ کوئی الم

منتشر دوستوں کو صدا دے سکا

اجنبی دشمنوں کا پتہ دے سکا

 یہ ہیں اکیسویں صدی کی جنگیں، فضاؤں میں فیصلے ہوجاتے ہیں۔ نہ توپوں کی گرج ، نہ ٹینکوں کے جتھے، ابھی زمینوں پر یہ جنگ اتری نہ ہو، کوئی انفینٹری، کوئی کیولری ترتیب لے رہی ہو، تو اس سے پہلے فیصلے ہوجاتے ہیں۔

پوری دنیا ایک دم سے براہ راست یا بلواسطہ جنگ سے متاثر ہوئی ہے۔ اہل وطن سے زیادہ کون سمجھے گا یہ حقیقت جن کو تیل کی اب وہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے جو کسی بھیانک خواب سے کم نہیں۔

 پہلا کام جو اس بار ہوا ہے وہ آپ کو سمجھانے کے لیے ایک حوالہ دیتا چلوں،جب چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ضد پکڑ لی تھی کہ وزیر اعظم نوازشریف کے ساتھ دو دو ہاتھ ہوجائیں تو خود ان کے باقی ججوں کی اکثریت نے بغاوت کردی۔ یہ جو اتھارٹی ہوتی ہے، اس کے پیچھے بھی کہیں نہ کہیں مینڈیٹ ہونا لازمی ہوتا ہے۔

یہ وہ مینڈیٹ نہیں جو عوام دیتے ہیں ۔ یقینا اس کا بھی بلواسطہ کردار ہوتا ہے، لیکن اس اتھارٹی کے گرد جو باقی اہم لوگ ، ادارے یا قوتیں ہوتی ہیں جس کی مرضی سے جو سربراہ ہوتا ہے وہ اتھارٹی بناتا ہے، اس کا زبردستی پن اس اتھارٹی کو dejure  اور defacto  میں تبدیل کرتا ہے۔

یعنی اتھارٹی تو وہ ہوتا ہے لیکن بظاہر اندر ایک اور طاقت جنم لے لیتی ہے۔ یہ ماجرہ اب صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے جارہا ہے اور نائب صدر جے ڈی وینس اب ڈی فیکٹو اتھارٹی بن کے ابھر رہا ہے۔ خود ایران کے اندر وہ لوگ جو بات چیت کو اہمیت دیتے تھے، ان کی آواز زور پکڑنا شروع کرے گی۔

 ویتنام کی جنگ میں جنرل گیاپ نے امریکا کی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیے، بارہ برس تک جاری رہنے والی اس جنگ میں باون ہزار امریکی فوجی مارے گئے اور لاکھ سے زیادہ ایسے شدید زخمی ہوئے کہ باقی ماندہ زندگی اپاہج ہی رہے۔

اسرائیل نے ایران کے روحانی سربراہ کو نشانہ بنایا اور ان کے ساتھ سینئر قیادت کو بھی اڑا دیا، یہ جنگ کا پہلا دن تھا۔ مگر ایران کی حکومت گری نہیں، وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ لوگ سڑکوں پر نکلیں گی، بغاوت ہوگی۔

مگر تاحال ایسا نہیں ہوا۔ نیتن یاہو یہ گمان کررہے تھے کہ ایران کے میزائلوں کو ان کے انٹر سپٹر روک لیں گے، مگر کتنے؟ اور خود جو عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈے تھے، ایران کے میزائلوں نے ان کو نشانہ بنایا۔

ایران کے ساتھ انفارمیشن میں روس مدد کررہا تھا اور اس طرح یہ عین نشانے پر جاکر لگے۔اور اب رضا شاہ پہلوی والا پراجیکٹ خاک بسر ہوا، اب ٹرمپ پورے ایران کو تباہ کرنے کے چکر میں ہے تو اب پورا ایران متحدہوگا کیونکہ دشمن سب ایرانیوں میں اب تفریق کرنا نہیں چاہتا۔

اگر یہ جنگ نہ ہوتی تو آبنائے ہرمز بھی اس طرح چلتا رہتا اور اگر جنگ نیتن یاہو جیت جاتے یا امریکا جیت جائے، رضا شاہ پہلوی کو تو ضرور لاتے لیکن خارگ جزیرہ جہاں سے نوے فیصد ایران کا تیل نکلتا ہے وہ اپنے قبضے میں لیتے۔

آبنائے ہرمز پر امریکا چوکیدار بن جاتا، جس طرح کیوبا کی تیل کی رسد کو روکا ہے جس طرح وینزویلا سے چین کے تیل کی رسد کو روکا ہے۔ یہاں سے بھی یہی کچھ کرسکتا تھا، تو کیا چین یہ سب کچھ ہونے دے گا؟ اور اب نیتن یاہو کو بھی اسرائیل کے اندر مخالفت کا سامنا ہے۔

آبنائے ہرمز وہ تاش کا پتہ ہے جو جس کے پاس ہوگا جنگ وہی جیتے گا۔ ایران وہاں ٹول ٹیکس نہ لے سکتا اگر یہ جنگ اس پر مسلط نہ کی جاتی اور اب اس نے اس پتے کو کچھ اس طرح اپنے ہاتھ میں پکڑا ہے کہ پوری دنیا کی چیخیں نکل رہی ہیں۔

بنگلادیش اور ہندوستان کے اکثر پٹرول پمپوں پر تیل ہی نہیں اور اگر کہیں ہے تو لمبی قطاریں ہیں ۔ چلو ہمارے پاس صرف مہنگا ہوا ہے اور یہ بھی ایک طرح کی راشننگ ہے۔ پوری دنیا آبنائے ہرمز کی وجہ سے جنگ کی لپیٹ میں ہے اور اس طرح ایران کو جنگ میں فوقیت ہے۔

ہمارا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے۔ ہمیں اس جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ہماری قیادت انتہائی بردباری سے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی مفادات کی بھرپور حفاظت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

امریکا یہ سمجھتا ہے کہ ایران ٹوٹ پھوٹ چکا ہے اب وہاں فوجیں اتاری جائیں، وہ جو اسلام آباد مفاہمت کی کوشش کرتا رہا وہ شاید کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔ صدر ٹرمپ آخری بازی لگا کر امریکا میں اپنی گرتی ہوئی مقبولیت واپس بہتر کرنے کے لیے جنگ کو اور تیز کرنا چاہتا ہے۔

بغیر یہ جانے کے ایران کوروس کبھی بھی ہارتا دیکھنا نہیں چاہتا اور خود چین بھی۔ ہندوستان جو مہینہ پہلے بھڑکیں مار رہا تھا ، اب تھوڑا خاموش نظر آرہا ہے۔ یورپ کے اندر بہت ہلچل مچی ہوئی ہے خود نیٹو سے امریکا الگ ہونا چاہتا ہے۔

دو دن پہلے سعودی عرب کے ولی عہد کو ٹرمپ نے اپنے نشانے پر رکھا، اور اب فرانس کے صدر میکرون کو وہ کسی بھی وقت کسی کی بھی پگڑی اچھال سکتا ہے۔ امریکا دنیا میں تنہا ہوتا جارہا ہے۔

 مشرق وسطیٰ غیر فطری ترتیب سے بنا ہوا ہے اور اوپر سے وہ تیل سے مالا مال ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک مصنوعی ریاست اسرائیل کے نام سے مغربی طاقتوں نے ترتیب دی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں ریاستوں کو لکیر سے بنایا، نہ کوئی تاریخ کا تناظر تھا ، نہ تہذیب کے خدو خال دیکھے، نہ زبان دیکھی نہ بیان دیکھا۔

پورے خطے کو درجنوں ریاستوں میں بانٹ دیا۔ سلطنت عثمانیہ نے کیا غلطی کی، پہلی جنگ عظیم کے ایک غلط اور کمزور اتحاد میں شمولیت کی، جب ہارے تو یورپی طاقتوں نے پوری سلطنت کا بٹوارہ کردیا اور مسلمانوں کی طاقت کو بکھیر دیا۔ عرب ریاستیں امیر ہیں لیکن اپنا دفاع نہیں کرسکتیںاور اب یہ عرب ریاستیں اپنی حقیقی دفاع کے لیے سوچیں گی۔

 ایک نیا معاہدہ مجھے نظر آرہا ہے ۔ جس میں خود یوکرین اور روس کی جنگ کا خاتمہ بھی ہے۔ میرے ان کالموں کو اگر آپ دیکھیں گے تو کئی ماہ پہلے میں نے لکھا تھا کہ سات اکتوبر والا حماس کا اسرائیل پر حملہ اور اس کی کڑیاں یوکرین سے جڑیں ہوئی تھیں۔

اب یا تو ایسی باتیں نیوریاک ٹائمز بھی لکھ رہا ہے، یہ الگ بات ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کا اپنا ایک تاریخی پس منظر ہے لیکن ایران کا سب سے بڑا اتحادی روس ہے ، امریکا اور اسرائیل کی چال الٹی ہوگئی جس میں سب سے بڑا ہتھیار ایران کے پاس آبنائے ہرمز وہ بھی اس لیے بن پایا کہ اس کے پاس مضبوط دفاعی ہتھیار اور اس کو مضبوط روس کے دفاعی صنعت و حکمت نے کیا ہے، خود چین نے کیا ہے۔

 جو نیا معاہدہ ہے، وہ یہ ہے کہ اب امریکا دنیا کی سپر طاقت نہیں رہا۔ اب چین ، روس ، امریکا اور یورپی یونین ایک مشترکہ نظام بنائیں گے کہ دنیا پھر سے امن کا گہوارہ بنے۔ ہندوستان نریندر مودی کی سطحی سوچ اور تنگ نظری کی وجہ سے یہ تاریخی موقع گنوا بیٹھا۔

ٓٓآہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک

کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک