آئل سبسڈی :فائدہ حق دار کو پہنچنا چاہیے

پاکستان میں کاروباری اخلاقیات میں گراوٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے


ایڈیٹوریل April 05, 2026

خلیج میں جاری جنگ کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس غیر معمولی اضافے کا اثر پوری دنیا کے ممالک محسوس کر رہے ہیں تاہم وہ ممالک جن کا تیل خلیج فارس سے گزرتا ہے ‘ انھیں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ جنگ کب ختم ہو گی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے ہیں‘ پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں۔

جمعرات کے روز بھی پاکستان کی وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ،اس پر عوامی سطح پر خاصا شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ، اگلے روز وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیٹرول پر لیوی میں فی الفور80روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کردیا،یوںپٹرول کی قیمت 458روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 378روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔

وزیراعظم نے جمعے کی شب قوم سے اہم خطاب میں کہا کہ اس کمی کا اطلاق ایک ماہ کے لیے پورے پاکستان پر ہوگا،موٹر سائیکل سواروں کو ایک لیٹر پر 100روپے کی سبسڈی دی جائے گی،گڈز ٹرانسپورٹ، پبلک ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں کو سپورٹ ایک ماہ تک 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے سبسڈی دی جائے گی،چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار روپے، بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے، پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے معیشت اور کاروبار پر پڑنے والے منفی اثرات کا ادراک کرتے ہوئے ،سبسڈائزقیمتیں متعارف کرائی ہیں جو بہرحال ایک بہتر فیصلہ قرار دیا جانا چاہیے۔

وزیراعظم نے انپے خطاب میں مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، کرایوں کا بوجھ عوام پر نہ پڑے، چھوٹے کسانوں کے لیے 1500 روپے فی ایکڑ امداد مہیاء کی جائے گی۔ ریلوے کے اکانومی کلاس میں مسافروں کے لیے قطعاً کرایہ نہیں بڑھایا جائے گا۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے ارکان کی 6 ماہ کی تنخواہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا اعلان بھی کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ خلیج میں جاری جنگ کے باعث پورے خطے میں تیل کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں، تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

یہ ایسی تلخ حقیقت ہے کہ غریب کا چولہا مدہم ہو رہا ہے، کسان کے لیے بے پناہ مشکلات پیدا ہو چکی ہیں،عام آدمی کے لیے نئے چیلنجز ابھر کر سامنے آ رہے ہیں، حتی المقدور کوشش کی کہ عوامی بہبود اور عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے قومی وسائل کو استعمال کیا جائے، عوام کو مہنگائی کے طوفان سے بچانے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتے ہی ملک میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں فوری اضافہ کر دیا گیاہے جب کہ دیگر اشیا کی قیمتیں بھی اس لیے زیادہ وصول کی جا رہی ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

پاکستان میں کاروباری اخلاقیات میں گراوٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان کا کاروباری طبقہ عرصہ دراز سے کسی بھی بحران کو اپنے منافع کے لیے استعمال کرنے کا عادی چلا آ رہا ہے۔

اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر شدید بارش ہو جائے تو رکشہ ٹیکسی والے دگنا تیگنا کرایہ وصول کرنا شرع کر دیتے ہیں۔ عید کے ایام ہوں تو بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

سیلاب آ جائیں تو سبزیوں‘ پھلوں اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک کاروباری رویہ قابل مذمت ہونا چاہیے۔ اب بھی گڈزٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافے کر دیا ہے حالانکہ انھیں سبسڈی بھی مل رہی ہے۔

دوسری طرف کنسٹرکشن انڈسٹری میں استعمال ہونے والے میٹریل مثلاً اینٹیں ‘سیمنٹ ‘سریا اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں بیٹھے بٹھائے اضافہ کر دیا گیا ہے۔یہ صورت حال ہمارے سفاکانہ کاروباری لالچ کو ظاہر کرتے ہیں جب کہ دوسری طرف عوامی سطح پر بھی یہ کلچر پختہ ہو چکا ہے کہ جو چیز مہنگی ہو جائے اس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔

لوگ ذخیرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یوں وہ اپنی ضرورت سے زیادہ خریداری کرتے ہیں جس کی وجہ سے اشیا کی قلت رونما ہوتی ہے۔ اس حوالے سے بھی حکومتی سطح پر کوئی میکنزم بنایا جانا چاہیے تاکہ معیشت کا پہیہ بحران کے دوران بھی ہموار رفتار سے چلتا رہے۔

بلاشبہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نے دنیا کی طاقت ور معیشتیں بھی متاثر ہوئی ہیںلیکن ترقی یافتہ ملکوں میں اس حوالے سے بہتر پلاننگ کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ممالک جن کا انحصار خلیج فارس کے تیل پر نہیں ہے وہاں صورت حال خاصی بہتر ہے۔

چین نے خلیجی جنگ سے قبل ہی اپنے ذخائر میں اضافہ کیا اور بہتر پالیسی اختیار کر کے معیشت کو مستحکم رکھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے، اس کے باوجود تیل کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا گیا ہے ‘اس کا جواز خاصا کمزور ہے۔ جتنی سبسڈی دی جا رہی ہے اگر یہی سبسڈی لے کر ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنا دیا جاتا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔

وزیراعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں یہ کہا ہے کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ پاکستان میں عام آدمی کس طرح زندگی بسر کرتا ہے، عوام سارا دن محنت کر کے اپنے بال بچوں کا پیٹ رزق حلال سے پالتے ہیں۔

انھوں نے وضاحت کی کہ پچھلے تین ہفتوں میں قومی وسائل سے 129 ارب روپے خرچ کر کے عوام تک قیامت خیز طوفان کو پہنچنے نہیں دیا، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جنگ جلد سے جلد بند ہو جائے اور امن قائم ہو جائے۔

یوں ظاہر ہوتا ہے کہ پرائم منسٹر کو عوام کی مشکلات کا بخوبی علم ہے‘بہرحال حکومت نے کوشش کی ہے کہ وہ عوام تک کم سے کم بوجھ ڈالے۔ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ وزیراعظم نے خود کہا ہے کہ چاروں وزراء اعلیٰ نے قومی مقصد کے لیے اپنے وسائل مہیاء کرنے کے لیے بلاتاخیر کمٹمنٹ کی ہے، یہی وقت کی آواز ہے،یہ وہ موقع ہے کہ جب اس تاریخ کے بہت بڑے چیلنج کا مقابلہ صرف اور صرف قومی یکجہتی، اتفاق، اتحاد سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

درآمدی قیمت، ٹیکسز، ڈیوٹیز اور مارجنز کے درمیان فرق عوام کے لیے قابل فہم نہیں ہوتا، جس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، اگر حکومت واقعی عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے قیمتوں کے تعین کا مکمل اور شفاف نظام متعارف کروانا ہوگا۔

قومی معیشت کو مستحکم رکھنا ‘وفاقی حکومت کا ہی کام نہیں ہے بلکہ صوبائی حکومتوں کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے اپنا پورا کردار ادا کریں۔ صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کریں اور جس سبسڈی کا اعلان ہوا ہے اس کو گراس روٹ لیول تک پہنچانے کے لیے متحرک کردار ادا کریں۔

موٹر سائیکل سواروں کو کس طرح سبڈی دینی ہے‘ اس حوالے سے میکنزم فوری طور پر نافذ العمل ہونا چاہیے اور اس امر کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ اس معاملے میں کسی قسم کی دونمبری نہ ہو۔ پٹرول پمپس کی چیکنگ کا بھی پراپر انتظام ہونا چاہیے ، اسی طرح گڈٹرانسپورٹرزکو بھی من مانی کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔

جب انھیں سبسڈی مل رہی ہے تو پھر کرایوں میں بے جا اضافہ کرنا کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔ شدید بحرانوں کے دوران ناجائز منافع کمانا جرم قرار دیا جانا چاہیے۔ موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو ماہانہ 20 لٹر تک سبسڈی دینے کا اعلان ہوا ہے، جس کے تحت تقریباً 2 ہزار روپے ماہانہ ریلیف ملے گا میڈیا کے مطابق آئل کمپنیوں کے لیے ڈیٹا رجسٹریشن ایپ تیار کر لی گئی ہے جس کے تحت صارفین کو موبائل تصدیقی نمبر جاری کیا جائے گا۔

بہرحال جو بھی میکنزم بنایا گیا ہے ‘وہ فول پروف ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان میں دھوکہ دہی اور ناجائز منافع خوری ایک عادت بن چکی ہے۔اگر سسٹم درست ہو اور سرکاری اہلکار تندہی اور فرض شناسی کے ساتھ اپنا کام کریں تو اس سبسڈی سے عام آدمی کو خاصا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور کابینہ کے ارکان کو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ اور دیگر محکموں کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھنی چاہیے کیونکہ بیوروکریسی من مانی کرنے کی عادی ہے۔