کراچی: نامکمل انتظامات کے باعث شہر میں میٹرک امتحانات کے بروقت آغاز پر سوالیہ نشان لگ گیا

امتحانات سے ایک روز قبل بھی ساڑھے تین لاکھ سے زائد طلبہ ایڈمٹ کارڈز سے محروم ہیں


صفدر رضوی April 05, 2026

کراچی: نامکمل انتظامات کے باعث شہر میں میٹرک امتحانات کے بروقت آغاز پر سوالیہ نشان لگ گیا۔

دسویں جماعت کے امتحانات منگل 7 اپریل جبکہ نویں جماعت کے امتحانات بدھ 8 اپریل سے شروع ہونا ہیں، تاہم امتحانات سے ایک روز قبل بھی ساڑھے تین لاکھ سے زائد طلبہ ایڈمٹ کارڈز سے محروم ہیں۔

ذرائع کے مطابق لاکھوں طلبہ تاحال اپنے امتحانی مراکز سے بھی لاعلم ہیں۔ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے ہفتے کی شام ایڈمٹ کارڈز پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن نجی و سرکاری اسکولوں کی انتظامیہ کو پورٹل سے ایڈمٹ کارڈ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور مسلسل ایرر میسج آ رہا ہے۔ جن اسکولوں کو ایڈمٹ کارڈ ملے بھی ہیں وہ تعداد کے لحاظ سے نامکمل بتائے جا رہے ہیں۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ امتحانات سے ایک روز قبل طلبہ پرچوں کی تیاری کے بجائے ایڈمٹ کارڈ اور امتحانی مراکز کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز نے وزیر جامعات و بورڈز سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کے پیش نظر امتحانات ایک ہفتے کے لیے موخر کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین بورڈ سے اختلاف کے بعد ناظم امتحانات 16 مارچ سے غیر فعال تھے جس کے باعث امتحانی امور متاثر ہوئے۔

امتحانات سے صرف چار روز قبل لاڑکانہ بورڈ کے انسپکٹر انسٹی ٹیوشنز کو کراچی بورڈ کا نیا ناظم امتحانات مقرر کیا گیا، تاہم نئے ناظم امتحانات بھی کم وقت میں معاملات مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں اسکولوں کے ایڈمٹ کارڈز تاحال پورٹل پر اپ لوڈ نہیں ہو سکے۔

میٹرک بورڈ حکام نے وضاحت جاری کر دی۔

ذرائع کے مطابق ناظم امتحانات کے غیر فعال ہونے کے باعث ایکزامینیشن سیل نے تین روز قبل ہی ایڈمٹ کارڈز اپ لوڈنگ کے لیے آئی ٹی سیل کے حوالے کیے، جبکہ تین روز میں ساڑھے تین لاکھ ایڈمٹ کارڈ اپ لوڈ کرنا ناممکن تھا۔

چیئرمین میٹرک بورڈ غلام حسین سہو کا کہنا ہے کہ عملہ 24 گھنٹے کام کر رہا ہے اور آج شام تک صورتحال کنٹرول میں آ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جنوری سے سینٹر فکسیشن پر کام شروع کر دیا گیا تھا، تاہم بورڈ میں کچھ افراد نااہل ہیں جبکہ بعض کے منفی مقاصد بھی ہیں، اسکولز ایسوسی ایشن بھی انہی اہداف پر کام کر رہی ہے۔

چیئرمین بورڈ نے واضح کیا کہ امتحانات موخر نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق 80 فیصد اسکولوں کو ایڈمٹ کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی 20 فیصد اسکولوں کو بھی جلد ایڈمٹ کارڈ فراہم کر دیے جائیں گے۔