وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی زیر صدارت کفایت شعاری سے متعلق اہم اجلاس میں طے پانے والے فیصلوں پر عمل درآمد کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، محکمہ داخلہ بلوچستان نے اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
حکومت بلوچستان نے موجودہ عالمی حالات اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے عوامی ریلیف کے اقدامات اٹھاتے ہوئے مارکیٹوں، شادی ہالوں اور ریستورانوں کے اوقات کار میں تبدیلی کر دی ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ صوبے بھر میں توانائی کے تحفظ اور بجلی کی بچت کو یقینی بنانے کے لیے یہ ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، نوٹیفکیشن کے مطابق تمام مارکیٹیں اور شاپنگ سینٹرز رات 8 بجے تک بند کر دیے جائیں گے،تاہم دواخانے، تندور اور نانبائی اس پابندی سے مستثنیٰ رکھے گئے ہیں تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات متاثر نہ ہوں۔
شادی ہالوں، ضیافت ہالوں اور ہوٹلوں میں ہونے والی تمام تقریبات رات 10 بجے تک ختم کرنی ہوں گی۔ اسی طرح ریستوران اور ہوٹل بھی رات 10 بجے بند کر دیے جائیں گے، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے تاکید کی کہ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان ہدایات پر مکمل سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ ان اقدامات میں بھرپور تعاون کریں تاکہ توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے اور صوبے کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔گزشتہ روز وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں عالمی توانائی بحران کے پیش نظر یہ فیصلے کیے گئے تھے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف بجلی اور توانائی کی بچت کریں گے بلکہ عوام کو بھی مالی ریلیف فراہم کریں گے، حکومتی ذرائع کے مطابق یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔