سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ٹھٹھہ کے گوٹھ عمر کاتیار میں لائم اسٹون، ریتی اور بجری نکالنے کیخلاف درخواست پر محکمہ مائنز اینڈ منرلز اور ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ کو سائٹ وزٹ کرنے کا حکم دیدیا۔
جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں جسٹس ذولفقار علی سانگی پر مشتمل آئینی بینچ کے روبرو ٹھٹھہ کے گوٹھ عمر کاتیار میں لائم اسٹون، ریتی اور بجری نکالنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ ریتی اور بجری نکالی جارہی ہے جبکہ عدالت کا حکمِ امتناع موجود ہے۔ ٹھیکدار کے وکیپ نے موقف اپنایا کہ ہم نے لیز لی ہوئی ہے اور لائم اسٹون نکال رہے ہیں۔ ریتی بجری الگ چیز ہے اور لائم اسٹون الگ۔
سرکاری وکیل نے موقف اپناتے ہوئے کہا کہ لیز محکمہ مائنز اینڈ منرلز کی جانب سے دی گئی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے لائم اسٹون تو بہانہ ہے، اندر سے ریتی بجری سب کچھ نکالا جارہا ہوگا۔ نوری آباد میں پہلے کیا تھا، اب سب ختم ہو چکا ہے۔
حکام محکمہ مائنز اینڈ منرلز نے بتایا کہ دونوں فریق لیز ہولڈرز ہیں، یہ کاروباری تنازع ہے۔
عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ تو دونوں کی لیز ختم کر دیں۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ ہماری کوئی لیز نہیں، ہم رہائشی ہیں۔ عدالت نے محکمہ مائنز کے افسر سے استفسار کیا کہ بتائیں درخواست گزار کی لیز کہاں ہے؟
محکمہ مائنز اینڈ منرلز افسر نے کہا کہ مجھے مہلت دی جائے، آئندہ سماعت پر کاغذات جمع کرا دوں گا۔
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو گمراہ کر رہے ہیں۔ جسٹس ذوالفقار سانگی نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق صرف 5 فیصد کھدائی کی جا سکتی ہے، پہاڑوں کی جگہ اب گڑھے بن گئے ہیں۔ مائننگ سے زیرِ زمین پانی نیچے جارہا ہے۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ علاقے سے مسلسل ریتی اور بجری نکالی جا رہی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ پہلے ہی حکمِ امتناع جاری کر چکی ہے۔ عدالتی حکم کے باوجود ریتی بجری نکالی جا رہی ہے۔ ریتی بجری نکالنے سے علاقے کی آب و ہوا متاثر ہو رہی ہے۔ علاقے کے مکین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سارے پہاڑ ختم کر دیئے گئے ہیں۔ کٹی پہاڑی کاٹ دی گئی ہے، وہاں کے حالات دیکھیں۔ حیدر آباد سے کراچی کے درمیان چھوٹے چھوٹے پہاڑ تھے، وہ ختم ہو گئے۔ اب صرف سیہون کا پہاڑ رہ گیا ہے، اسے بھی ختم کر دیں گے۔ آپ لوگ لیز پر لیز رہے ہیں، نقصان عوام کا ہو رہا ہے۔
عدالت نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز اور ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ کو سائٹ وزٹ کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ جہاں مائننگ ہو رہی ہے وہاں کا معائنہ کیا جائے۔ کتنی مائننگ ہو رہی ہے اور کس چیز کی مائننگ ہو رہی ہے، اس کی تفصیلی رپورٹ جمع کرائی جائے۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر دونوں حکام سے جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 28 اپریل تک ملتوی کردی۔