کراچی:
گل پلازہ سانحہ، کتنوں کے لخت جگر لقمہ اجل بن گئے، درجنوں خاندانوں کی خوشیاں راکھ کا ڈھیر ہوگئیں، ان سب کا ذمے دار کون ہے؟ متاثرین کے لیے انصاف کی گھڑی قریب آگئی، وہ فیصلہ کن موڑ جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا، عدالتی کمیشن نے 13 سماعتوں اور کئی محکموں کی باز پرس کے بعد حتمی رپورٹ مرتب کرلی جو آج سیکریٹری قانون کے سپرد کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے مقررہ مدت کے دوران 13 سماعتوں میں ریسکیو اداروں، اراضی کے ریکارڈ اور عمارت بنانے کی اجازت دینے والے سرکاری محکموں، ماہرین اور متاثرین کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد رپورٹ مرتب کرلی ہے۔
کمیشن کی رپورٹ سے گل پلازہ حادثے کی ذمے داری، ریسکیو اداروں سمیت دیگر سرکاری اداروں کی کارکردگی کا تعین کیا جاسکے گا۔ حکومت سندھ کے پاس رپورٹ شائع کرنے یا نہ کرنے کا صوابدیدی اختیار ہے۔ تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے مجموعی طور پر 13 عوامی سماعتوں میں مختلف سرکاری اداروں، ماہرین اور متاثرین کے بیانات ریکارڈ کیے۔
سندھ ہائیکورٹ کے حاضر سروس جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں عدالتی کمیشن کی انکوائری کا باقاعدہ آغاز 10 فروری 2026 گزٹ نوٹیفکیشن کے اجرا سے ہوا۔ 11 فروری کو ابتدائی اجلاس میں سیکریٹری قانون، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ اور کمشنر کراچی نے شرکت کی، 12 فروری کو جاں بحق افراد کے لواحقین کو ملاقات کے لیے جبکہ 13 فروری کو مختلف محکموں کو سماعت کے لیے نوٹس جاری کیے گئے۔
14 فروری کو کمیشن کے چیئرمین اور اراکین نے گل پلازہ کا دورہ کیا، 16 فروری کو کمیشن نے ڈی سی کمپلیکس میں لواحقین سے ملاقات کی۔ 18 فروری کو پہلی عوامی سماعت میں ڈی جی ریسکیو 1122، چیف فائر افسر، ایدھی اور چھیپا کے نمائندوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ 19 فروری کو سی ای او کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن، سینیئر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی، ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، پولیس سرجن اور دیگر اداروں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جبکہ اسی روز مزید سماعت کے لیے نوٹسز جاری ہوئے۔
21 فروری کو صحافی بابر سلیم اور گل پلازہ سے شہریوں کو ریسکیو کرنے والے شہری دانش کا بیان ریکارڈ ہوا۔ 23 فروری کو ایس ایس پی سٹی، ایس ایس پی ٹریفک، قائم مقام سی ای او کے الیکٹرک، ایس ایس جی سی نمائندے، صدر کے سی سی آئی اور دیگر اداروں کے نمائندگان پیش ہوئے۔
24 فروری کو صحافی بابر سلیم کے بیان پر جرح کے لیے چیف فائر افسر کو نوٹس جاری کیا گیا۔ 25 فروری کو سانحے میں بچ جانے والے متاثرین کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جبکہ شہری دانش کے بیان پر جرح کے لیے ڈی جی ریسکیو 1122 کو نوٹس جاری کیا گیا۔
26 فروری کو سول ڈیفنس کے ٹیکنیکل انسٹرکٹر مرزا مرسلین کا بیان ریکارڈ کیا گیا جبکہ 27 فروری کو انکے بیان پر جرح کے لیے چیف فائر افسر اور ڈی جی ریسکیو 1122 کو نوٹس جاری کیے گئے جبکہ اسی روز کمیشن کی جانب سے سوالنامے کے جواب کے لیے یاد دہانی نوٹس جبکہ صحافی بابر اور دانش کو جرح کے لیے پیش ہونے کے نوٹس جاری کیے گئے، 27 فروری کو ہی الیکٹرک انسپکٹر کو بھی طلبی کے لیے نوٹس جاری کیا گیا۔
2 مارچ کو ایدھی اور چھیپا کے ڈرائیوروں اور رضاکاروں کو پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا۔ 3 مارچ کو صحافی بابر سلیم اور دانش کے بیانات پر جرح کی گئی اور انرجی ڈیپارٹمنٹ کے الیکٹرک انسپکٹر کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ 5 مارچ کو ایدھی اور چھیپا کے ڈرائیورز کے بیانات لیے گئے جبکہ اسی روز سینٹرل فائر اسٹیشن کے اسٹیشن افسر کو پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا اور سول ڈیفنس نے ٹیکنیکل انسٹرکٹر کو جرح کے لیے پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا۔
10 مارچ کو ماہر آرکیٹیکٹ عارف حسن کی بطور ایکسپرٹ رائے سنی گئی جبکہ اسی روز میونسپل کمشنر اور سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ریکارڈ پیش کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا۔ 12 مارچ کو فائر بریگیڈ افسران کے بیانات اور جرح مکمل کی گئی جبکہ 16 مارچ کو مزید بیانات قلمبند کیے گئے اور ڈی جی ایس بی سی اے کو انٹرروگیٹری نوٹسز جاری ہوا۔
18 مارچ کو سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ذاتی سماعت اور ریکارڈ پیش کرنے کے لیے طلب کیا گیا۔ 25 مارچ کو سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی ذاتی سماعت کی گئی اور اسی روز انہیں ریکارڈ پیش کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا، 31 مارچ کو ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور میونسپل کمشنر کے ایم سی کو قانونی وضاحت کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے۔
کمیشن نے یکم اپریل 2026 کو سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو مزید وضاحت کے لیے دوبارہ نوٹس جاری کیا۔