کراچی کے مسائل پر سیاست

میئرکراچی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو کراچی میں جاری میرے کام نظر نہیں آرہے، یہ دونوں جماعتیں کہیں نظر نہیں آتی ہیں ۔


[email protected]

میئرکراچی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو کراچی میں جاری میرے کام نظر نہیں آرہے، یہ دونوں جماعتیں کہیں نظر نہیں آتی ہیں ۔ انھیں کراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی ہے نہ یہ کام کرتے ہیں ، صرف مجھ پر تنقید کرتے آرہے ہیں۔

 ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت بلدیاتی حلقوں کی تشکیل کے وعدے سے انحراف کی مرتکب ہوئی ہے۔ نئی مردم شماری میں 70لاکھ نفوس کا اضافہ ایم کیو ایم کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ پیپلزپارٹی بلدیاتی اداروں کو آئین کے مطابق اختیارات دے رہی ہے اور نہ ہی کراچی کی درست مردم شماری ہونے دیتی ہے تاکہ آبادی کے مطابق کراچی کو فنڈز اور اس کے جائز حقوق نہ مل سکیں۔ سندھ حکومت کو کراچی کے مسائل کی فکر ہے نا حل کرنا چاہتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا ہے کہ بارشوں نے کراچی میں سندھ حکومت اور بلدیہ کراچی کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ کمزور کارکردگی کی سزا عوام کو دی جارہی ہے۔ سندھ سالڈ ویسٹ بورڈ بروقت کچرا نہ اٹھانے اور شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں کا ذمے دار ہے جس کی وجہ سے کراچی کے شہری عذاب میں مبتلا ہیں۔

 پیپلزپارٹی پہلی بار بلدیہ عظمیٰ کراچی کے لیے اپنا میئر منتخب کرانے میں کامیاب ہوئی ہے جب کہ جماعت اسلامی کے یو سی ناظمین کی تعداد زیادہ ہے، جماعت اسلامی پی ٹی آئی کی مدد سے اپنا میئر لاسکتی تھی مگر تحریک انصاف کے کئی یوسی چیئرمینز پیپلزپارٹی سے جا ملے اور یوں جماعت اسلامی کا میئر نہیں آسکا حالانکہ جماعت اسلامی سنگل لارجسٹ پارٹی تھی لیکن پی ٹی آئی کے لوگ دوسری طرف چلے گئے اور بلدیہ عظمیٰ پر جیالے میئرکو اکثریت دلا دی تھی جو کام تو کرتے آئے ہیں مگر ان کے سیاسی مخالفین الزام تراشیاں کرتے آ رہے ہیں اور کراچی کے نو ٹاؤنز میں جماعت اسلامی کے چیئرمینوں نے جو کام کیے ہیں، وہ بھی عیاں ہیں اور پیپلزپارٹی کے بلدیاتی ادارے جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں ترقیاتی کاموں کے مقابلے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، یہ جماعت کا موقف ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کا ایک بھی یوسی چیئرمین نہیں ہے۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم کراچی میں بااختیار شہری حکومت کے قیام کی حامی ہے اور اسی لیے جدوجہد کررہی اور بااختیار شہری حکومت ہی کراچی کے مسائل حل کراسکتی ہے مگر سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی ایسا نہیں ہونے دے رہی اور نا بلدیاتی اختیارات دے رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی اور وفاقی وزیر اور سابق سٹی ناظم کراچی مصطفیٰ کمال اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کرچکے ہیں اور یہ بات درست ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی ہیں اور ایم کیو ایم نے گزشتہ بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور ماضی میں جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان اور عبدالستار افغانی اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق سربراہ رہے ہیں اور جنرل پرویز کے با اختیار ضلعی حکومتوں کے نظام میں ایک بار جماعت اسلامی اور بعد میں ایم کیو ایم کے کراچی کے بااختیار سٹی ناظمین رہے جن کے دور میں زبردست تعمیری و ترقیاتی کام ہوئے تھے اور مصطفی کمال نے کراچی کو دنیا کے 13میگا سٹیز میں شامل ہونے کا اعزاز دلایا تھا جب کہ سندھ حکومت کے 18سالوں میں کراچی کچرے کا شہر کہلایا اور پورے شہر میں نکاسی آب سسٹم تباہ اور سڑکیں زیر آب رہنا معمول ہے اور کراچی کے پی پی پی کے میئر عوام کی توقعات پر پورے اتر سکے جب کہ سندھ حکومت کراچی میں فراہمی آب کا مسئلہ حل اور شہری مسائل حل کرانے میں ناکام رہی ہے۔ پی پی کے کراچی کے پہلے میئر جنھیں سندھ حکومت نے منتخب کرایا شہریوں کو بڑی توقعات تھیں مگر کراچی سے تعلق کے باوجود وہ کراچی کے مسائل حل کرانے میں ناکام رہے حالانکہ انھیں کراچی میں کام کرکے اور شہری مسائل حل کرکے دکھانے چاہئیں اور ایسی اچھی کارکردگی دکھانا چاہیے جیسی دو سابق بااختیار سٹی ناظمین نعمت اللہ خان اور سید مصطفیٰ کمال نے اپنے دور میں دکھائی تھی جسے شہریوں نے ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں تسلیم کیاگیا تھا ۔

سندھ حکومت میئر کراچی ہی نہیں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کراچی مسائل پر ایک ہوکر مسائل حل کرانے کی بجائے منفی سیاست کررہے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی ہی میں پورے ہیں۔ کراچی کے مسائل کے حل کی ذمے داری جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم سے زیادہ سندھ حکومت اور میئر کراچی پر عائد ہوتی ہے ۔