بہاولپور کے صحرائے چولستان میں جنگلی بلی کے حملے میں چرواہا زخمی ہوگیا۔
واقعے کی تحقیقات کے بعد محکمہ جنگلی حیات نے واضح کیا ہے کہ یہ حملہ بڑے سائز کی جنگلی بلی ’کیریکل کیٹ‘ نے کیا۔ واقعہ عید کے روز پیش آیا جس میں متاثرہ چرواہے عبدالمجید کے سر اور بازوؤں پر شدید زخم آئے۔ ابتدائی طور پر مقامی افراد نے حملے کو تیندوے سے منسوب کیا تھا، تاہم بعد ازاں حکام نے شواہد کی بنیاد پر اس کی تردید کی۔
ایڈیشنل چیف وائلڈلائف رینجر سنٹرل پنجاب شیخ زاہد اقبال کے مطابق زخموں کے نشانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ جنگلی بلی نے کیا کیونکہ کیریکل عام طور پر سر اور اوپری جسم پر حملہ کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چولستان کے علاقے میں اس نوع کی جنگلی اور صحرائی بلیاں عام پائی جاتی ہیں۔
حکام کے مطابق کیریکل ایک تیز رفتار اور ماہر شکاری جانور ہے جو عموماً پرندوں اور چھوٹے جانوروں کا شکار کرتی ہے، تاہم بعض صورتوں میں انسانی آبادی کے قریب آنے پر حملے کے واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں۔
واقعے کے بعد وائلڈ لائف ٹیموں نے کئی روز تک علاقے کی نگرانی کی اور جانور کو قابو کرنے کی کوشش کی تاہم کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ حملے کے بعد جانور صحرائے چولستان میں روپوش ہوگیا۔
دوسری جانب کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی کے رکن بدر منیر بھی لاہور سے بہاولپور پہنچے اور متاثرہ شخص سے ملاقات کر کے واقعے کی تفصیلات حاصل کیں۔
متاثرہ چرواہے نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے فوری مدد فراہم نہیں کی گئی اور اسے علاج اپنے طور پر کروانا پڑا۔
بدر منیر نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کروائی کہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔