کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور تصدیق شدہ کیس سامنے آگیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں رواں سال کے دوران منکی پاکس کا دوسرا کیس سامنے آیا ہے۔
کراچی میں قائم نجی اسپتال کی ماہر متعدی امراض ڈاکٹر فاطمہ میر نے منکی پاکس کے کیس کی تصدیق کر دی ہے اور بتایا کہ مریض آغا خان اسپتال میں زیر علاج ہے۔
اس وقت مریض آغا خان ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ ڈاکٹر فاطمہ میر نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا سندھ کے دیگر علاقوں بشمول خیرپور بیلٹ میں بھی مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں، اور کچھ کیسز کے مثبت آنے کی اطلاعات ہیں۔
سندھ حکومت کا متعلقہ ادارہ بھی اس سلسلے میں متحرک ہے۔
بیماری کا پھیلاؤ اور علامات
ماہر متعددی امراض نے بتایا کہ منکی پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو زیادہ تر جلد سے جلد کے قریبی رابطے کے ذریعے منتقل ہوتی ہے، متاثرہ افراد میں جلد پر چھالے دار ریش ظاہر ہوتے ہیں جو ابتدا میں دھبوں کی صورت میں ہوتے ہیں اور بعد میں ٹھوس بلبلوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، بعض صورتوں میں یہ سانس کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ میر کے مطابق یہ بیماری عموماً بالغ افراد کو متاثر کرتی ہے اور پاکستان میں اس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں ہے تاہم منکی پاکس کی علامات میں بخار، جسم میں درد اور جلد پر دردناک دانے یا زخم شامل ہیں، جو شدید تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں جس کو مدد نظر رکھتے ہوئے علاج کیا جاتا ہے۔
علاج میں مریض کی علامات کے مطابق اقدامات کیے جاتے ہیں،م جن میں بخار اور درد کو کنٹرول کرنا اور پیچیدگی کی صورت میں آکسیجن فراہم کرنا شامل ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ میر نے عوام سے تاکید کی ہے کہ مریض کو بغیر دستانے اور ماسک کے چھونا خطرناک ہو سکتا ہے اور وائرس دوسروں میں منتقل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔
مزید برآں ڈبلیو ایچ او نے مقامی ہائی رسک گروپس اور ہیلتھ ورکرز کے لیے ویکسین فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جسے صرف مخصوص افراد کو دیا جا سکتا ہے۔
اُدھر محکمہ صحت سندھ نے تمام اسپتالوں میں چوبیس گھنٹے معلوماتی ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت کی ہے اور ریسکیو 1122 کے ساتھ فوری رابطہ بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
صوبے میں منکی پاکس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر ڈی جی ہیلتھ سندھ نے اسپتالوں میں ایم پاکس رسپانس یونٹس قائم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تمام مشتبہ ایم پاکس میں مبتلا بچوں کی ایچ آئی وی اسکریننگ بھی کی جائے گی۔ سندھ کے مختلف شہروں میں مشتبہ کیسز رپورٹ ہونے کے بعد نگرانی اور احتیاطی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔